سندھ،مکمل لاک ڈاؤن،پنجاب،بلوچستان میں بھی فوج طلب،لوگ خود احتیاط کریں اور گھروں سے نہ نکلیں،مکمل لاک ڈاؤن سے ان 25فیصد لوگوں کا کیا بنے گا جن کے پاس دو وقت کی روٹی بھی نہیں:عمران خان

سندھ،مکمل لاک ڈاؤن،پنجاب،بلوچستان میں بھی فوج طلب،لوگ خود احتیاط کریں اور ...

  



لاہور، پشاور، کراچی،کوئٹہ، اسلام آباد (جنرل رپورٹر، سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) خیبر پختونخوا مین کرونا کے ایک اور مریض کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں کرونا سے جاں بحق ہونے والے مریضوں کی تعداد 4ہو گئی جبکہ چاروں صوبوں گلگت آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں کرونا درجنوں نئے مریض سامنے آگئے،تفتان قرنطینہ مرکز سے 250 کے قریب افراد کو گھروں پر بھیج دیا گیا۔ خیبرپختون خوا کے مشیراطلاعات اجمل وزیر نے صوبے میں کورونا وائرس میں مبتلا ایک اور مریض کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ جبکہ متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر757 ہوگئی ہے کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث سندھ حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے صوبے میں فوج طلب کر لی ہے جبکہ بلوچستان اور پبجاب نے بھی فوج کی تعیناتی کے درخواست کر دی ہے۔پنجاب کے پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ اور کورونا مانیٹرنگ روم کے ترجمان کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 222 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔اعداد وشمار کے مطابق 153 زائرین، 36 لاہور، ایک ملتان، 2 راولپنڈی، 3 گجرات، 3 جہلم اور گوجرانوالہ میں 4 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 20 مریضوں کو ٹیسٹ کے رزلٹ موصول ہوتے ہی ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے اور متاثرہ افراد آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں۔دوسری جانب محمکہ صحت سندھ کے مطابق نئے 41 کیسز میں سے کراچی میں 18 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 4 بیرون ملک سفر کرکے آئے تھے، 2 متاثرین برطانیہ اور 2 ترکی سے واپس آئے تھے۔تازہ اعداد وشمار کے مطابق کراچی سے رپورٹ ہونے والے دیگر 14 کیسز مقامی افراد ہیں جن کا بیرون ملک کا سفری ریکارڈ نہیں ہے۔رپورٹ ہونے والے دیگر 23 کیسز سکھر سے ہیں جو ایران سے آنے والے زائرین ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز ملک میں تصدیق ہونے والے کورونا وائرس کے کیسز میں صوبہ سندھ سے 39، پنجاب سے 56، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 8 جبکہ گلگت بلستان سے 34 نئے کیسز شامل ہوئے تھے جس کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد757 ہوگئی تھی۔اگر صوبوں کے بات کی جائے تو کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد صوبہ سندھ میں 333، پنجاب میں 152، بلوچستان میں 104، خیبرپختونخوا میں 31، اسلام ا?باد میں 11، گلگت بلتستان میں 55 اور ا?زاد کشمیر میں بھی ایک شخص متاثر ہوا ہے بلوچستان میں ہفتے کے روز کورونا کے مزید 10 کیسز سامنے ا?ئے جس کی تصدیق صوبائی چیف سیکرٹری کی جانب سے کی گئی ہے۔چیف سیکرٹری کیمطابق صوبے میں اب تک 103 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔بلوچستان میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت بلوچستان کی جانب سے 3 ہفتوں کے لئے جزوی لاک ڈاون کر دیا گیا ہے، دوسری جانب صوبائی حکومت نے پاک فوج کی مدد بھی طلب کر لی۔ بلوچستان میں 3 ہفتوں کے لئے جزوی لاک ڈاون کے باعث شہر میں تمام بڑے شاپنگ مالزاور مارکیٹ مکمل بند ہے۔ عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے کرونا کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر بلوچستان آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو سول اختیارات دینے کیلئے خط لکھ دیا، ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاک فوج سول اداروں کی مدد کرے گی۔دوسری جانب پاک افغان چمن بارڈر ایک دن کھولنے کے بعد دوبارہ بند کر دیا گیا، گزشتہ روز 95 ٹرک غذائی اجناس لے کر افغانستان گئے تھے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق ٹرکوں کو گزارنے کیلئے ایک دن کیلئے اجازت دی گئی تھی۔آزاد کشمیر میں بھی جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا حکومتی احکامات پر عملدرآمد کے لئے ضلعی انتظامیہ مظفرآباد متحرک، کرونا وائرس کے خطرہ کے پیش نظر دارالحکومت میں جزوی لاک ڈاؤن، تمام ہوٹلزبند، پبلک ٹرانسپورٹ معطل، لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل،ڈپٹی کمشنر مظفرآباد نے تحصیلدار مظفرآباد حماد بشیر کو حکومتی احکامات پر عملدرآمد کے لئے ٹاسک دے دیا،گلگت بلتستان میں بھی کرونا کے خدشے کے باعث رات بارہ بجے سے لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ہم بڑے اور سخت فیصلے کرنے جارہے ہیں تاکہ عوام کو کورونا وائرس سے بچاسکیں، عوام کی صحت اور زندگی عزیز ہے، ہم لاک ڈاؤن کی طرف جارہے ہیں جس کا آج ہی آغاز کریں گے۔ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کیسکو، سیپکو اور کے الیکٹرک کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں کا بجلی کا بل 5000 روپے تک ہے اْن سے مہینے کا بل نہ لیں، یہ 5000 روپے کا بل اگلے 10 مہینوں میں تھوڑا تھوڑا کرکے لیں، یہ ہدایت ایس ایس جی سی کے لیے بھی ہے، جن کا گیس بل 2000 روپے تک کا ہے اْن کا بل اس مہینے نہ لیا جائے جب کہ اگلے 2 مہینوں میں کوئی بجلی یا گیس کنیکشن کاٹے نہیں جائیں گے۔ سندھ میں لاک ڈاوٓن کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا جس کا باضابطہ اعلان وزیراعلیٰ سندھ ایک ویڈیو بیان کے ذریعے کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں لاک ڈاون کے دوران اشیائے ضروریہ مثلا کریانہ اسٹور، میڈیکل اسٹور، سبزی، دودھ، بیکری اور ملک شاپ کھلی رہیں گی تاہم اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان دکانوں پر بھی عوام کا بلاوجہ رش نہ لگنے پائے۔ پنجاب حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر پاک فوج سے مدد طلب کر لی، وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ پنجاب میں کسی قسم کی غذائی قلت نہیں،ایکسپوسنٹر میں ایک ہزار بستروں کا اسپتال بنانے جارہے ہیں،مسائل پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں،کورونا کے معاملے پر کسی کو سیاست کرنے کی ضرورت نہیں،کورونا کے خلاف ہم سب متحد ہیں۔

فوج طلب

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن کرتا ہوں توپچیس فیصد غریب لوگوں کا کیا بنے گا؟اگر پاکستان کے وہ حالات ہوتے جو اٹلی، فرانس کے ہیں تو میں لاک ڈاؤن کر دیتا، 25فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، وہ دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے،لاک ڈاؤن سے رکشہ چلانے والے، چھاپڑی والے، ریڑھی والے،چھوٹے دکاندار اور دیہاڑی والے گھروں میں بند ہو جائیں گے،ہم مل کر ہم احتیاط کرلیں تو جس طرح چین نے قابو پایا پاکستان بھی کورونا وائرس پر قابو پالے گا،خود احتیاط کریں،اپنے اوپر خود لاک ڈاؤن کریں، کرونا وائرس سے زیادہ خطرہ افراتفری سے ہے۔اتوار کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بڑی بحث چل رہی ہے کہ ملک کو لاک ڈاؤن کر دینا چاہیے، ملک میں لاک ڈاؤن کرنے کا مطلب ملک میں کرفیو لگادینا ہے، کرفیو کا مطلب شہریوں کو گھروں میں بند کر کے پولیس اور فوج کے ذریعے پہرہ دینا تا کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں، اگر پاکستان کے وہ حالات ہوتے جو اٹلی، فرانس کے ہیں تو میں لاک ڈاؤن کر دیتا۔ انہوں نے کہا کہ 25فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، وہ دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے،لاک ڈاؤن کیا گیا تو رکشہ چلانے والے، چھاپڑی والے، ریڑھی والے،چھوٹے دکاندار اور دیہاڑی والے گھروں میں بند ہو جائیں گے،کیا ہمارے پاس اتنی گنجائش ہے کہ ہم ان کو گھروں میں کھانا پہنچا سکیں؟ابھی اتنی گنجائش نہیں ہے، چین دوسرا امیر ترین ملک ہے، میں اگر لاک ڈاؤن کرتا ہوں تو ان پچیس فیصد غریب لوگوں کا کیا بنے گا؟وزیراعظم نے کہا کہ آپ کو خود اپنے آپ کو لاک ڈاؤن کی طرف لے جانا چاہیے، خود اپنے گھروں میں رہیں،یہ بیماری تیزی سے تب پھیلے گی جب ہم احتیاط نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکمت اور عقل کا استعمال کریں،خود احتیاط کریں،قوم کا مشکل وقت میں پتہ چلتا ہے، مجھے اپنی قوم پر فخر ہے، لاک ڈاؤن لگا تو اس کے اور اثرات ہوں گے، اپنے اوپر خود لاک ڈاؤن کریں، کھانسی، نزلہ زکام ہوتا ہے تو خود قرنطینہ میں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء اتنی ہیں کہ لوگوں کو ذخیرہ اندوزی کرنے کی ضرورت نہیں، کرونا وائرس سے زیادہ خطرہ افراتفری سے ہے، مل کر ہم احتیاط کرلیں تو جس طرح چین نے قابو پایا پاکستان بھی اس وائرس پر قابو پالے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام رضاکارانہ لاک ڈاؤن کی راہ اختیار کریں کیونکہ "جو محدود ہے۔۔۔وہ محفوظ ہے"اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ صورتحال کاتقاضا ہے کہ عوام آگے بڑھیں اور اپنے ہم وطنوں کو کرونا جیسی آفت سے محفوظ بنانے کی تحریک میں ہمارا ہاتھ بٹاتے ہوئے کسی حکومتی فرمان کا انتظار کئے بغیر ہی اپنے آپ کو ازخود گھروں تک محدود رکھیں اور رضاکارانہ لاک ڈاؤن کی راہ اختیار کریں کیونکہ "جو محدود ہے۔۔۔وہ محفوظ ہے"۔دریں اثناوزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا کے انجام تک ایران پر سے پابندیاں ہٹالی جائیں،بندشیں کرونا کیخلاف ایران کی مدافعتی کاوشوں کو نہایت منفی اندازمیں متاثرکررہی ہیں، وباء سے نمٹنے کیلئے انسانیت کا یکجا ہونا ناگزیر ہے۔ اتوار ٹوئٹر پراپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ میں انسانی بنیادوں پر صدر ٹرمپ سے ملتمس ہوں کہ کرونا کے انجام تک ایران پر سے پابندیاں ہٹالی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ایرانی عوام کو ناقابل بیان مصائب کاسامنا ہے کیونکہ بندشیں کرونا کیخلاف ایران کی مدافعتی کاوشوں کو نہایت منفی اندازمیں متاثرکررہی ہیں وزیر اعظم نے کہاکہ اس وباء سے نمٹنے کیلئے انسانیت کا یکجا ہونا ناگزیر ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے غذائی اشیا کے مہنگے ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) سے اجناس کی قیمتوں میں ڈیوٹی اور ٹیکسز کم کرنے کی سمری پیش کرنے کی ہدایت کردی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس افسران کی ایک ٹیم اشیائے خور و نوش کی ایک فہرست مرتب کررہی ہے، جسے منگل کے روز وفاقی کابینہ میں غور کے لئے پیش کیا جائے گا۔گزشتہ ماہ وزارت خزانہ نے نیشنل ٹیرف کمیشن کو بھی ضروری اشیائے خور ونوش پر ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) سمیت ڈیوٹی اسٹرکچر مرتب کرنے کا کام سونپا تھا جس کی وجہ سے گھریلو اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔غیر متناسب اشیائے خور و نوش کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ ہم نے پہلے ہی متعلقہ محکمہ کو آگاہ کردیا ہے کہ خام کھانے کی اشیا پر کسٹم ڈیوٹی نہیں ہے اس کے برخلاف، ایف بی آر درآمدی مرحلے پر سیلز اور ود ہولڈنگ ٹیکس (انکم ٹیکس) جمع کرتا ہے۔مقامی کسانوں کے برآمدات کے فائدے کو کرنے کے لیے کچھ اشیا پر باقاعدہ اور اضافی کسٹم ڈیوٹی بھی عائد ہیں۔ایف بی آر کی فہرست کے مطابق، وہ ٹماٹر کی درآمد پر 5.5 فیصد انکم ٹیکس وصول کررہی ہے جبکہ سبزیوں پر کسٹم ڈیوٹی یا سیلز ٹیکس نہیں تاہم پیاز کی درآمد پر حکومت 20 فیڈف سیلز ٹیکس اور 5.5 فیصد انکم ٹیکس وصول کرتی ہے۔آلو پر حکومت 25 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی، 17 فیصد سیلز ٹیکس اور درآمد پر 5.5 فیصد انکم ٹیکس جمع کرتی ہے اسی طرح حکومت نے گندم پر 60 فیصد آر ڈی گندم کے آٹے پر 25 فیصد، چینی پر 40 فیصد اور بغیر ہڈی کے گوشت پر 5 فیصد نافذ کیا ہے۔دالوں پر درآمدی مرحلے میں تقریبا 2 فیصد انکم ٹیکس بھی ہے۔ملائیشیا اور انڈونیشیا سے پام آئل کی درآمد پر ڈیوٹی بہت زیادہ ہے جس میں تبدیلیوں سے مقامی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں۔ذ

وزیر اعظم

لندن، نیویارک، روم، بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) دنیا بھر میں کرونا کے وار جاری، خطرناک وائرس نے 188 ممالک کو لپیٹ میں لے لیا۔ دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہزار 67 ہو گئی، کرونا سے اب تک 3 لاکھ 8 سے زائد افراد متاثر ہیں، اٹلی میں 793 ہلاکتیں ایک ہی روز میں ہوئیں۔ جنوبی کوریا میں 2،چین اور فلپائن میں چھے، چھے اور امریکا میں مزید 46 افراد ہلاک ہو گئے، افریقا میں بھی لاک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا۔چین کے بعد کرونا نے یورپ میں پنجے گاڑ لیے، اٹلی میں کرونا وائرس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 793 ہلاکتیں ہوئیں۔ مجموعی تعداد 4 ہزار 8 سو 25 ہو گئی۔وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کرونا مثبت نکلنے کی صورت میں ہر شخص کو مفت طبی امداد دی جائے گئی، کرونا کے ٹیسٹ کے لئے امیگریشن سٹیٹس چیک نہیں کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صورت حال اٹلی سے بھی ابتر ہو سکتی ہے، ہلاکتوں کی تعداد 233 ہے. افریقا کے متعدد ممالک میں بھی لاک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا، کیسز کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ گئی۔اسپین میں بھی کورونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 285 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جس کے بعد وہاں ہلاکتوں کی تعداد 1378 اور متاثرین کی تعداد 25 ہزار 496 ہو گئی ہے۔پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت میں بھی کورونا وائرس سے اب تک 5 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی 21 ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں 332 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں جب کہ اب تک 23 افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔ سے کل مریضوں کی تعداد 367ہوگئی۔27 فروری کو اس مشرقی یورپی ملک میں پہلا کیس رپورٹ ہوا جو 20سالہ رومانیہ کے شہری تھے وہ اٹلی کے سیاح سے متاثر ہوئے تھے۔ملک میں 16 مارچ کو کرونا وبائی مرض پر قابو پانے کے لئے ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا۔افغانستان میں کورونا وائرس کے نئے دس کیس سامنے آئے ہیں۔ اتوار کو وزیر صحت فیروز الدین فیروز نے بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ستانوے مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں دس کے نتائج مثبت آئیکویت کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ انس الصالح نے اعلان کیا ہے کہ کابینہ نے اپنے غیر معمولی اجلاس کے دوران شام پانچ بجے سے ہر روز صبح چار بجے تک ملک کے تمام حصوں میں جزوی کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تا حکم ثانی اس پرعمل درآمد کیا جائے گا۔سعودی عرب میں کورونا وائرس کے پھیلاوکو روکنے کے لیے پورے ملک میں لاک ڈاون کر دیا گیا۔ گزشتہ روز لگائی گئی پابندی 16 روز تک جاری رہے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لئے سعودی عرب نے ٹرینوں، بسوں اور ٹیکسیوں سمیت انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک پروازوں کو بند کردیا، قومی اداروں میں بھی چھٹیاں دے دی گئی ہیں جبکہ تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے پہلے سے ہی بند ہیں مصر میں حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اقدام کے تحت تمام مساجد اور گرجا گھروں کو عبادت گزاروں کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مصر نے اب تک کرونا وائرس کے 285 کیسوں کی تصدیق کی ہے۔ان میں آٹھ افراد کی موت ہو چکی ہے۔س۔

کرونا ہلاکتیں

مزید : صفحہ اول