لے سانس بھی آہستہ ۔۔۔۔

لے سانس بھی آہستہ ۔۔۔۔
لے سانس بھی آہستہ ۔۔۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

23 مارچ کی گہما گہمی میں دل تو چاہتا ہے کہ پاکستان کی باتیں ہوں نوجوانوں کے روشن مستقبل ، ملکی اقتصادی ترقی کی باتیں ہوں اور ملک کی تاریخ سے روشناسی اور اپنے نوجوانوں اور ملک کو صحیح سمت پر ڈالنے کی باتیں ہوں۔ ففتھ جنریشن وار کے تقاضے اور ملکی ذمہ داریوں کی بات ہو لیکن بقول شخصے جب ریاستی تناؤ ملک کو صحیح سمت کی طرف ڈالنے کی نشاندہی کرے تو باقی باتیں سطحی ہوجاتی ہیں۔
آج بھی میرا یہ یقین غیر متزلزل ہے کہ پاکستان ایک عظیم ملک ہے اس کی بنیاد ایک عظیم مقصد کے لئے رکھی گئی ہے،اسکا یہ نصب العین ان سے کوئی نہیں چھین سکتاجوقائداعظم محمد علی جناحؒ کےفرمودات اور علامہ اقبالؒ نےاپنے فلسفے اور شاعری کے ذریعے اس قوم کی روح میں پھونکا ہے، جس کا اسلامی تشخص اور انسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کا رنگ قرارداد مقاصد میں نمایاں ہے۔ پاکستانیوں میں کچھ کر گزرنے کی صلاحیت رکھنے والی قوم ہیں اور ہم نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے،ہمیں سچ بولنے،اسکی جستجو کرنےاورجھوٹ کی حوصلہ شکنی کرتےہوئےہجوم کیساتھ پیچھے لگ جانےوالی عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے،اس ملک سے محبت ہمارے خون میں شامل ہے تب ہی پاکستان زندہ باد کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔

پاکستانی سیاست کی بات کریں تو ایسے لگتا ہے کہ امریکہ بہادر کے انتخابات ، خطے کی سیاست اور پاکستان کے ملکی اقتصادی / انتظامی بحران اور سیاسی عدم اعتماد کی فضاء نے پاکستانی اشرافیہ کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ مقتدر طاقتیں موجودہ سیٹ اپ کو چلانے اور دوام بخشنے کے حامی نظر آتی ہیں لیکن انہیں اندازہ ہے کہ حکومت کو سیاسی کمک ملنے کے بغیر اب معاملات سدھارنا ممکن نہیں ہے۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی خاص طور پر آصف علی زرداری بہتر کارنامہ انجام دے سکتے ہیں جو بیک وقت مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کیساتھ ملکر کام کرسکتے ہیں۔نواز شریف نئے انتخابات کی خواہش کیساتھ پرانے انتظام میں دلچسپی نہیں رکھتے،ایسے میں آصف علی زرداری نے باقی بات چیت کے راستے خود نکال لئے ہیں اور اس پر کسی کو کوئی شک یا غصہ نہیں کرنا چاہیے ۔ انہوں نے وہی کیا جو انکی جماعت اور ذات کا مفاد ڈکٹیٹ کرتا تھا ۔

شاید امریکہ بھی ایسےانتظام سےوقتی طورپرمطمئن ہوجائے کیونکہ افغانستان /بھارت کیساتھ جاری بیک ڈور مذاکرات کوکسی بھی ایماء پر متاثر کرنا نہیں چاہےگا۔ تحریک انصاف اپنی حکومت کے دوام میں راضی ہوگی لیکن اگر وہ میں نہ مانوں کی رٹ الاپیں گے تو لگتا ہے الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس اپنی پیشیوں کا منتظر ہے۔ آصف زرداری غالباً کمال مہارت سے یہ چاہتے تھے کہ چوہدری پرویز الہی ن لیگ کی حمائت سے پنجاب کے تخت پر قابض ہوجائیں تاکہ سنٹر کو لاحق خطرات کا ازالہ بھی ہو اور آنے والے الیکشن کی صف بندی بھی لیکن کہیں نہ کہیں مسلم لیگ نواز میں یہ سوچ موجود تھی کہ اعتبار ایک حد تک ہوسکتا ہے اور کیا جاسکتا ہے اور پنجاب میں مداخلت درحقیقت انکے مجوزہ آنے والے الیکشن کو متاثر کرے گی۔

آصف علی زرداری گرچہ ہر محاز پر کامیاب رہے وہ پی ڈی ایم کو سڑک سے دور رکھنا ہو ، یا یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے پی ڈی ایم کےمشترکہ امیدوار کے طور پر منتخب کروانا ہو۔ سینٹ چئیرمین کا الیکشن خوش اسلوبی سے سرانجام دینا ہو یا ضمنی الیکشن میں بنا مخالفت اپنی عددی برتری بڑھانا ہو وہ کامیاب رہے۔ بات جب آخر استعفوں /لانگ مارچ کے حتمی فیصلے تک آپہنچی تو دستانے اتارنا مجبوری بن گیا تھا۔ شاید وہ پنجاب میں تبدیلی پہلے چاہتے تھے تاکہ پی ڈی ایم سے علیحدگی تک کوسٹ کلئیر ہو لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔

عمران خان نیازی آجکل قرنطینہ میں مراقبہ میں ہیں۔ جو کام انکو کرنا چاہیے گورننس اور پراجیکٹ کے علاوہ ہر کام انکو بنا بنایا مل رہا ہے ۔ اب جو بھی آگے ہے بونس ہے۔ وہ شیر آیا کی طرح اہل اقتدار کو مریم سے اور “آصف علی زرداری سب پہ بھاری “سے ڈرا رہے ہیں اور متبادل نہ ہونے کی وجہ سے ڈنگ ٹپاؤ مہم تیزی سے اپنے منتقی انجام کی طرف بلا روک ٹوک رواں دواں ہے۔ سب سے پرسکون وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار ہیں، وہ نہ ہی قابلیت،مشہوری اور کارکردگی کا دعوی کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے منہ سے اپنی تعریف ہی کرتے ہیں ۔ جو اچھا برا ہے سب سامنے ہے اور سب ایک خودکار نظام سے ایک مشینری کررہی ہے اور وہ کہ سکتے ہیں کہ کسی بھی بری چیز میں انکا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ تحریک انصاف مسلم لیگ پیپلز پارٹی یا مقتدر حلقے پرویز الہی ، چوہدری نثار علی خان یا حمزہ شہباز شریف کی صورت انکے لئے کوئی چیلنج پیدا نہیں کرسکا ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ بزدار برقرار رہیں ۔

مقتدر حلقے یا اسٹیبلشمنٹ ملکی حالات سے خائف ضرور ہوگی۔ جنرل باجوہ کی توسیع شدہ مدت ملازمت بھی ایک معینہ مدت ہوگی جو تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہوگی۔ جی ایچ کیو اپنے اہداف ، اپنے ایجنٹ اور اپنے وسیع تر مقاصد پر گہری نظر رکھتا ہے۔ان کیساتھ مکالمہ کئے بغیر انقلاب پی ڈی ایم لا تو سکتی تھی نبھانا شاید ممکن نہ تھا ۔پیپلز پارٹی سمیت بڑی جماعتیں قومی مصالحتی آرڈیننس اور اقتدار کے لالچ سے مبرا نہیں ہیں۔آصف  زرداری سندھ حکومت کو بناکر اور بچا کر ایک سٹیک ہولڈر کی پوزیشن میں مستحکم اور مستحق امیدوار کی سطح پر موجود ہیں،وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ اقتدار ٹھکرا کر اور پنجاب حکومت میں اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود اب تک اقتدار ویٹو کرتی آئی ہے۔ نواز شریف اپنی پارٹی کو خود مکالمے سے منع کرچکے ہیں ،اس حکومت میں وہ اقتدار حاصل کرنے کے خواہاں نہیں ہیں ، وہ نئے الیکشن کے امیدوار ہیں ، انکی نظر مریم نواز شریف کے مستقبل پر ہے۔

میری ناقص عقل میں یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن اونٹ خیمے میں موجود ہے،اونٹ کو ادھار ہاتھ / ایجنٹ بھی میسر ہیں تو ایسے میں ایک سٹریٹیجی تشکیل دینا جس سے سمت درست ہو ، ووٹ کی عزت ہو ، سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور سیاسی لیڈرشپ کیلئے ملین ڈالر کا سوال ،چیلنج اور معمہ بھی۔ نواز شریف کی مسلم لیگ نے اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود حکومت نہ بنا کر یا کوشش نہ کرکے پنجاب سے زیادتی کی ہے۔ ابھی بھی لوگ خادم اعلی کو انکے کام کی بدولت یاد کرتے ہیں ۔

اتنے بڑے صوبے کو ایک نااہل ناتجربہ کار اور غیر معروف لیڈرشپ کے سر پر چھوڑنا اپنے لوگوں سے / پنجاب سے زیادتی تھی ہے اور رہے گی۔ مسلم لیگ کو پنجاب کی حکومت بنانی چاہیے تھی،کار کروگی دکھانی چاہیے تھی اورعوام کو موازنے کے لئے نظام میں موجود ہونا اور رہنا چاہیے تھا جیلوں میں نہیں۔سٹیک ہولڈر کے طور پر جسطرح اب پیپلز پارٹی سے بات چیت جاری رہے گی اسی طرح مسلم لیگ مقتدرہ سے بات چیت اور اپنا اصولی اختلاف جاری رکھ سکتی تھی ، باقی ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ، سیاسی نعرے اور سیاست ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔

یہ بات اور مسلم لیگی اصولی موقف اپنی جگہ مقام اور وزن رکھتاہے کہ پاکستان میں پانامہ کیس کے ذریعے اقامہ پر ایک منتخب اور مقبول وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کوپارلیمانی عدم اعتماد کے بناء سپریم کورٹ کے زریعے ایک جنرل پٹیشن پر عوامی عہدے سے بے دخل کرنا آمریت کی ہی ایک قسم ہے۔ آمریت کسی بھی شکل میں ہو پاکستان میں تمام برائیوں کی ماں اورجمہوریت اور جمہور کی نفی ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ حزب اختلاف کے لیڈران ، خاص طور پر کام کرنے والے وزیراعلی شہباز شریف کام کرنے کے باوجود سیاسی طور پر بنائے مقدمات میں زیادہ عرصہ سے جیل میں ہے؟؟میڈیا پرطرح طرح کی پابندیاں ہیں،سوشل میڈی نے کمی پوری کی ہے لیکن وہ بھی اب ایف آئی اے کے ذریعے نظرمیں ہے۔عدلیہ کا مانیٹر کا کردار محدود ہے۔ ووٹ کی عزت ڈسکہ الیکشن اور الیکشن کمشنر کے استعفی کی ڈیمانڈ سے واضح ہے۔

برداشت کا کلچر کمزور پڑتا جارہا ہے۔ برداشت کی ڈیمانڈ یکطرفہ نہیں ہوتی اور برداشت معاشرے سے معدوم ہوتی جارہی ہے،استعفے گرچہ حتمی حل نہیں ہیں لیکن نہ ماننے والے نواز شریف کے پاکستان آنے پر بھی استعفی نہیں دیں گے، کوئی ساتھ چلے، نہ چلے تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے اپنے سابق معاہدے پر ثابت قدم رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کو اس پر ثابت قدم رکھنا بھی چاہیے تاکہ کل کو ریاستی معاملات اسی پیرائے میں آگے بڑھائے جاسکیں۔ جمہوری جدوجہد کوئی کھیل نہیں،جان جاتی بھی ہے ، جانیں گنوائی بھی ہیں اور اب بھی جاسکتی ہے۔

خوشی کی بات یہ ہےکہ مستقبل کی لیڈرشپ پروان چڑھ رہی ہےلیکن ابھی انڈر ٹریننگ ہے،دونوں بڑی جماعتوں کو اپنےبچوں کیساتھ ابھی سےسیاسی اطالیق مقرر کرنےچاہیےتاکہ وہ ان میں ایسی قابلیت پیداکرنے میں مدد دیں کہ وہ دوسرے کی بات سن سکیں ، صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرسکیں اور ذاتیات اور اناء کو سیاسی معاملات میں آڑے نہ آنے دیں۔ چھ لاکھ حاضر اور تقریباً بڑی تعداد میں ریٹائرڈ مسلح افراد کو سیاسی معاملات سے پیچھے ہٹانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کو وارڈ لیول پر استوار کرنا ہوگا۔ اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ عمران خان کے بغیر تحریک انصاف ایک سر کٹے مرغ کی طرح ہوگی ۔ کیا ایسی صورت حال میں بڑے تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں جب نظام مملکت اتنا حساس اور نازک ہو۔ تھوڑے کو زیادہ کہا سمجھیں لیکن بحر طور سمجھیں ضرور۔

مریم نواز شریف کو ایک دفعہ پھر نیب بلایا جارہا ہے انکے ساتھ کیساتھ کسی قسم کی ریاستی چھیڑ خوانی دہشت گردی شمار ہوگی اور ملک ایسی صورت حال کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اسکے دوررس اثرات ہوں گے،حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کشمکش موجود ہے،ایک انتقامی سیریز ہے جو جاری ہے،ایسے میں ریاستی اداروں کوغیر جانبدار ، دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہیے، آج کی اپوزیشن کل کی حکومت ہے۔تازہ جنرل انتخاب آنیوالے وقت کی پالیسی طے کریں گے تب تک ریاستی اداروں کو اپنا جاری تجربہ فیل ہونے پر ہاتھ ہولا رکھنا چاہیے اور ملکی مستقبل کی لیڈرشپ کی حفاظت کرنی چاہیے ناکہ بینظیر بھٹو جیسا اندوہناک سانحہ کسی بھی جماعت کیساتھ ہو جس پر دائمی پچھتاوا پوری ریاست کے حصے میں آئے۔

نیب نےایک آنکھ سے سب کو کب دیکھا ہے اور اس ایک آنکھ والی نیب سے کب تک ملک کا گزارا ہوگا ؟؟؟پوری دنیاہمارے خود احتسابی کے سیاسی نعروں اور ملکی انتظام پر ہنستی ہے ۔صرف سیاستدان ہی اس احتسابی چکی سے گزارے جائیں تو یہ انصاف نہیں سیلیکٹیڈ انتقام ہوتا ہے،کبھی تو ریاست کو سب کے ساتھ یکساں شفاف،بلاامتیاز انصاف کے لئے”کورس کوریکشن”کرنا پڑے گا۔کبھی تو انصاف سب کا اور سب کے ساتھ یکساں ہوگا جو قومی ضرورت بھی ہے اور اب تو جرنیلوں کے اربوں کے معاملات ملک سے باہر نکلنے پر ریاستی مقتدرہ سے قومی مطالبہ بھی۔

بات اب ٹیلیفونک دھمکیوں، پارلیمانی لیڈران کیساتھ بدسلوکی سے آگے نکل چکی ہے۔ اب لوگ ایک دوسرے کا منہ کالا کررہے ہیں،ایسے معاملات قابل مذمت تھے اور اب بھی ہیں، حکومت پہلے بھی خاموش رہی اور اب بھی کوئی ایکشن نہ لیا۔ مریم نوا شریف کیساتھ کراچی میں ہونے والے واقعہ شرمناک بھی ہے اور حل طلب بھی۔ وزیراعظم ایک پارٹی کانہیں پورے ملک کا ہوتا ہے۔اب بھی عدم برداشت اپنے جامے سے نکلنے کے لئے بے تاب ہے، غیر منتخب لوگوں کے بیانات جلتی پر تیل کا کردار ادا کررہے ہیں، سب کو سنبھلنا چاہیے اور سنبھلئے بھی کیونکہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے،ایسے ہلکے ذمہ داران تو کہیں بھی،کبھی بھی ، کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔

ایسا تاثر ملک کے امیج کیلئے بہتر نہیں ہے۔ ہر ادارہ آئین کے تحت کام کرے تو اپنے ہی اداروں سے استعفوں کی نوبت نہیں آئےگی۔ ایک استعفی تو حکومت سے حزب اختلاف نے بھی مانگا ہوا ہے۔ابھی تو الیکشن کمیشن نے بہت اہم مقدمات میں فیصلے دینے ہیں۔ صبرسے فیصلوں کو سننا چاہیے اچھا نہ لگے تو اپیل کرنا چاہیے۔تبدیلی باہم گفت و شنید سےہی ممکن ہے اور بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہیے۔ ہم جس دور سے گذر رہے ہیں اس میں سچ کو سچ کہنا اور نامسائد حالات کے باوجود کہتے رہنا بھی حب الوطنی ہے،ہرشخص تلوارنہیں اٹھا سکتالیکن سچ ضرور بتا سکتا ہے،باشعور طبقے ووٹ کے زریعے بھی سچ بولتے ہیں۔ ناہموار معاشرے کو ہرقدم پر سچ اور جھوٹ کی کسوٹی کاسامنا کرناپڑتاہے یہی ملکی سلامتی کا تقاضاہے کہ وہ سچ کہتے رہیں، فیصلہ تاریخ کو کرنے دیں۔

سیاست راج نیتی کا دوسرا نام ہے،ہم تمام ٹھہرے دنیا دار لوگ اور بال بچے دار بھی۔ لوگوں کا ڈرنا بنتا ہے کیونکہ ڈبے اٹھانے والے آجکل پیزےاور آموں کے پورے پورے باغ اٹھا رہے ہیں ۔انقلاب آتے آتے آتا ہے ،یہ سیلاب تھوڑی ہیں کہ جھٹ پٹ سے آجائے ۔ اس کے لئے سالوں محنت جدوجہد اور ایماندارانہ کوشش کرنا پڑتی ہے۔ ووٹ کی عزت عوام کا حق ہے،اسے یہ حق قومی لیڈران سے ورثے میں ملا ہے ،یہ انکی وراثت ہے اور انہیں اس حق سے کوئی محروم نہیں کرسکتا۔ مقتدرہ اور عوام کے پاس وقت ہے،سیاسی جماعتیں اپنے ارتقائی چیلنجز سے نبرد آزما ہیں ۔ وہ خود اپنی اناؤں سے جیتیں گی یا کوئی اور انُ سے جیتے گا یہ دیکھنا باقی ہے،اس قحط الرجال میں تبدیلی کا عنصر اور پہلو شدید طریقے سے کنداں ہے،میری یہی دعا ہے جو میرے بہت سے دوستوں اور جاننے والوں اور بزرگوں کی دعا ہے کہ یا رب العالمین، ہمارے بزرگوں نے جس مقصد کے لئے پاکستان بنایا ہے ، ہمیں اور ملک کے قائدین کو اسے جاننے ، سمجھنے اور ان مقاصد کے حقیقی حصول کے لئے تمام قوم کو یک سو ہوکر نیک نیتی سے بامقصد بامعنی اور نتیجہ آمیز جدوجہدکرنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔آمین ۔ ؀لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا ????

(بیرسٹر امجد ملک ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ کے چئیرمین اور سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائیٹس کمیشن پاکستان کے تاحیات رکن ہیں )

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -