امت اسلامیہ کا اتحاد، شہید بھٹو کا خواب 

 امت اسلامیہ کا اتحاد، شہید بھٹو کا خواب 
 امت اسلامیہ کا اتحاد، شہید بھٹو کا خواب 

  

 موجودہ لمحہ بہ لمحہ بدلتی عالمی سیاست کے تناظر میں او آ ئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس خوش آئند ہے۔ پاکستان کے عوام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ یہ کانفرنس کشمیر فلسطین، افغانستان کے علاوہ مسلم ممالک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کرنے کے ساتھ مسلم ممالک کی آپس میں غلط فہمیوں اور کشیدگی کے خاتمے کیلئے بھی مثبت کوششیں کرے گی۔ مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا، ایک لڑی میں پرونا ذوالفقارعلی بھٹو کا خواب تھا۔ 1948ء  میں جب وہ امریکہ میں زیرتعلیم تھے لاس اینجلس میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا  تھا میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام پوری دنیا کے لئے مشعل راہ کے طور پر ابھرا تھا۔ آج بھی ایک روشنی ہے اور مستقبل میں بھی ایک روشنی دینے والے رہنمائی کرنے والے روشن ستارے کی مانند جگمگاتا رہے گا۔ میں اسلام کو اس طرح دیکھتا ہوں۔ جنوری 1971ء  میں بکھرے ہوئے پاکستان میں حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد جنوری 1972ء  میں اس خواب کی تکمیل کیلئے اسلامی دنیا کا دورہ کیا۔ پہلے مرحلہ میں دس ہزار میل کے اس سفر میں انہوں نے ایران، ترکی، مراکش، تیونس، الجیریا، لیبیا، مصر اور شام کا دورہ کیا۔ مئی 1972ء  میں انہوں نے کویت، متحدہ عرب امارات، عراق، لبنان، اردن، سعودی عرب، صومالیہ، ایتھوپیا، سوڈان، تا نیچیرا گئی اور موریطانی کا دورہ کیا۔ یہ کوشش علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تصدیق تھی۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے 

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر 

1973ء میں عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان جنگ رمضان کے دوران شہید نے فوری عملی اقدامات کئے اور عرب ممالک کو صیہونی جارحیت کے خلاف بھر پور امداد فراہم کی۔ پاکستانی ہوا بازوں نے اسرائیل کے کئی جنگی جہاز مارگرائے تھے۔ اسے خفیہ رکھنے کے لئے پاکستان کے جانبار پائلٹ عرب ممالک کے جہاز اڑاتے تھے جو انہیں روس نے فراہم کئے تھے جس کا انکشاف بہت سالوں بعد ہوایا کیا گیا۔ یہ وہ جرات دلیری، مردانگی اور اسلام سے محبت کا مظاہرہ تھا جو اس کے بعد کے سربراہ کو ہمت نہیں ہوئی۔ آج بھی کشمیر، اسلام فلسطین پر تقریریں کی جاتی ہیں، ریاست مدینہ کی بات کی جاتی ہے لیکن عمل کرنے کے خیال سے بھی ٹانگیں کانپنے لگ جاتی ہیں۔ 

1974ء  کے آغاز میں ہی اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرانے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ جناب بھٹو شہید کے ذاتی پیغامات لے کر سفارتی نمائندوں نے مسلم ممالک کے سربراہان سے رابطے شروع کر دیئے۔ قریب 38/40 سربراہان نے اسے سراہتے ہوئے شمولیت پر آمادگی کا اظہار کیا اور اس طرح پنجاب کے دل لاہور میں پنجاب اسمبلی کی پرشکوہ عمارت میں 22 فروری سے 24 فروری 1974ء کومسلم سربراہان کا اس وقت کا سب سے بڑا اجتماع ہوا۔ جمعہ کی نماز سب نے بادشاہی مسجد میں ادا کی جس کے بعد باقاعدہ افتتاحی اجلاس منعقد ہوا اور اختتامی اجلاس 24 فروری رات گئے تک جاری رہا۔ اس کانفرنس کا ایجنڈ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے اجتماعی کوشش سے تیار کیا تھا جس میں اسرائیل کی جارحیت کی مذمت، مسلم ممالک کی معیشت عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے علاوہ تیسری دنیا کے ممالک کی مشکلات کو بھی زیرنظر رکھا گیا تھا۔ کانفرنس کے اختتام پر Lahore of  Declartion  منظور کیا گیا جس سے قیام پاکستان کیلئے منظور کی گئی قرارداد پاکستان کی یاد تازہ ہوگئی۔ یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ اس کانفرنس کے انعقاد میں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل کا دامے درمے سخنے تعاون ہر مرحلہ پر شامل اور حاصل رہا تھا۔

 ایک قرارداد خصوصی طور پر منظور کی گئی۔ جناب ذوالفقارعلی بھٹو وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان اور جناب عالی مرتب شاہ فیصل سعودی عرب کی درخواست پر اسلامی ممالک کے سربراہان کو اکٹھا کیا گیا۔ یہ کوشش تھی کہ اسلامی دنیا کو ایک لڑی میں پرویا جائے اور ان کے درمیان ہر شعبہ میں باہمی تعاون کی فضاء  پیدا کی جائے۔ اس کانفرنس کے انعقاد میں پاکستان کی حکومت کو شاندار انتظامات پر اور پاکستان کے عوام کو پرجوش مہمان نوازی اور والہانہ استقبال پرخراج تحسین پیش کیا گیا۔

بھٹو شہید کی الوداعی تقریر کا یہ حصہ جس کا پاکستان کی تاریخ سے بھی بہت گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا تھا مجھے اپنے دوستوں اور بھائیوں سے یہ کہنا ہے کہ ہم غریب ہیں، ہمارے پاس سرمایہ کی بھی کمی ہے لیکن میں خدا کو گواہ بنا کر آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اسلام کی سر بلندی کی خاطر اپنا خون بھی دیں گے۔ یہ خالی الفاظ نہیں ہیں ہم اپنی مشکلات کے باوجود جن پر ہم انشاء اللہ قابو پالیں گے۔ پاکستانی اسلام کے سپاہی ہیں۔ ہماری مسلح افواج اسلام کی مسلح افواج ہیں۔ جب بھی جہاں بھی ضرورت پڑی آپ ہمیں اپنے شانہ بشانہ پائیں گے۔ مجھے ندامت محسوس ہوتی ہے کہ شاید اس میں کچھ زیادہ نہیں کر پائے لیکن انشاء اللہ ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر بیت المقدس میں داخل ہوں گے۔ عالمی سیاسی تجزیہ نگاروں نے اس آخری جملہ کے حوالے سے لکھنا شروع کر دیا کہ آج ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی موت کے پروانے پر خود دستخط کر دیئے ہیں۔ پھر ایسا ہی ہوا سامراجی ایجنٹوں نے انہیں ایک قتل کے جعلی مقدمہ میں سزائے موت دے دی جسے قانونی زبان میں Judical Murder لکھا جاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -