کیا کیا جائے ؟

کیا کیا جائے ؟
 کیا کیا جائے ؟
کیپشن:   babar khan nasir سورس:   

  

چاروں طرف سے ہمیں ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے کہ پاکستان کو گونا گوں مسائل کا سامنا ہے۔ ہر گزرتے ہوئے پل کے ساتھ ہمارے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ ہمارے دانش ور اپنے ملک کو مسائلستان کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں بہت کم یہ ادراک ہے کہ ہمیں معاملات کی درستگی کہاں سے شروع کرنی چاہئے۔ ہمیں یہ نشاندہی کرنی پڑے گی کہ قوم کو اس وقت سب سے گھمبیر مسئلہ کون سا درپیش ہے، کیونکہ ہمارے قومی معاملات اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ ہمیں کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی ۔ بڑے بڑے مسائل اژدھے کی طرح آنکھیں کھولے ہمیں گھوررہے ہیں۔ دہشت گردی، بیروزگاری، معاشی بدحالی ، غربت ، کرپشن، توانائی بحران اور معاشرتی انحطاط جیسے مسائل نے ہمیں بری طرح جکڑا ہوا ہے۔ ان سب پر ایک ہی نشست میں سیر حاصل تبصرہ کرنا تو ناممکن ہے۔ بہرحال ہمیں ان مسائل کی درجہ بندی کرنا پڑے گی اور یہ سمجھنا ہوگا کہ اس وقت جس مسئلے نے ہماری قومی زندگی کی بنیادیں ہلا دی ہیں اور ہماری قومی زندگی کے لئے سوہان روح بنا ہوا ہے وہ دہشت گردی کا آسیب ہے جو اس قدر گہرا اور اہم ہے کہ اس سے فوری نجات حاصل کرنے میں ہی ہماری عافیت ہے۔ ہمیں فوری طورپر ایک ایسی قومی پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں قوم کی امنگوں کی ترجمان ہو۔ ایسی متفقہ پالیسی جو معاشرے کے سب طبقوں کی خواہشات کی عکاس ہو۔

ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت نیم دلانہ طریقے سے خاموشی کے ساتھ طالبان کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔ اس کی مذاکراتی کوششوں کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ یا تو خطے کے بدلتے ہوئے حالات کے بارے میں ہمیں مطلوبہ فہم حاصل نہیں یا جان بوجھ کر حکومت اخفاءکی پالیسی پر گامزن ہے۔ طالبان کی باہمی آویزش کی بنا پر اگرچہ مذاکراتی عمل معطل ہے، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ قوم کو اس کی پیش رفت کے بارے میں کوئی آگاہی نہیں۔ ہم اندھیروں میں چلنے کے عادی ہوچکے ہیں، حالانکہ اس روش سے ہم نے قوم کے بہت نقصانات کئے ہیں۔ ملک کے اندرونی حالات اس قدرتیزی سے بدلتے رہتے ہیں کہ ہماری پالیسی کا کوئی ایک محور نہیں بن پاتا۔ آئے دن نت نئے معاملات پر بحث شروع ہوجاتی ہے اور ہم اپنے بنیادی ہدف سے ہمیشہ دور ہی رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہم نئے سے نئے مباحث میں وقت ضائع کررہے ہیں۔ کبھی حکومت اور عسکری مخاصمت اور کبھی میڈیا کی آپس کی پرخاش ہماری بحث کا محور رہی ہے۔

 مذاکراتی عمل جوکہ جلدی کا متقاضی تھا، اس میں اتنی دیر کی جارہی ہے کہ وقت کی ڈور ہمارے ہاتھوں سے نکلتی معلوم ہوتی ہے، حالانکہ خطے کے بدلتے ہوئے حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم طالبان سے مذاکراتی عمل کو جلد از جلد پایہ¿ تکمیل تک پہنچا چکے ہوتے، کیونکہ بنیادی طورپر یہی ایک مسئلہ ہے جو سب سے بڑا عفریت بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ اسی غیر یقینی کی وجہ سے ہم بین الاقوامی طورپر الگ تھلگ ہورہے ہیں۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے نے ہمارے شہریوں پر کچھ غیر ملکی سفری پابندیاں عائد کی ہیں جو طالبان کی کارروائیوں اور دھمکیوں کا نتیجہ ہیں، کیونکہ پولیو ویکسی نیشن پلانے والی ٹیموں کو انہوں نے غیر فعال کردیا جس کی بنا پر فی الوقت ملک بھر میں پولیو کے 66کیس سامنے آئے جو بین الاقوامی دنیا میں خطرے کی بہت بڑی گھنٹی سمجھی جارہی ہے۔ ہمیں ابھی تک اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ اس پابندی سے ہمیں کیا کیا مصائب لاحق ہوں گے۔

 دنیا میں جہاں کہیں دہشت گردی کا ارتکاب ہوتا ہے، وہاں پاکستان ہی معتوب ٹھہرتا ہے اور ہمیں ہی بدنام کیا جاتا ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاری رواں مالی سال میں نہ ہونے کے برابر ہے، اگرچہ حکومتی ذرائع اس ضمن میں ایک خوبصورت تصویر پیش کررہے ہیں، لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا انکار نہیں ہوسکتا کہ بدیشی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ لگانے سے گریزاں ہیں۔ جب تک امن وامان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، غیر ملکی سرمایہ کار ادھر کا رخ کیسے کریں گے ،کیونکہ وہ اپنے سرمائے کو یہاں غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ اس لئے امن وامان کا قیام ہمارے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے ، اسی لئے یہ سب سے پہلی ترجیح بھی ہونی چاہئے ۔ طالبان سے معاملات جتنی جلدی حل کرلئے جائیں اتنا ہی بہتر ہے۔ اگر مذاکراتی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی تو متبادل ذرائع استعمال کرنے میں مزید تامل نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ پہلے ہی بہت وقت ضائع ہوچکا ہے۔

اس وقت ہمارے اردگرد اور ہمسایہ ممالک میں جو حالیہ تبدیلیاں ہورہی ہیں، کیا ہم اس سے غافل رہ سکتے ہیں اور گومگو اور تامل کی اس پالیسی کو مزید جاری رکھا جاسکتا ہے؟ طالبان کے کمانڈر ملا فضل اللہ کی حالیہ دھمکی سے اغماض برتنا ہمارے لئے کتنا خوفناک ہوسکتا ہے، کیونکہ افغانستان اور ہندوستان میں حالیہ غیر سیاسی تبدیلیاں ہماری توجہ چاہتی ہیں۔ خاص طور پر افغانستان میں حکومت کی تبدیلی خطرے کی گھنٹی ہے ۔ نئی افغان قیادت ان عسکری گروہوں کو ہمارے خلاف استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی،جبکہ امریکہ اور نیٹو افواج کے انخلاءکے بعد کی صورت حال ہمارے لئے آسان نہیں ہوگی اور مزید وقت ضائع کرنے سے اس پیچیدہ ترصورت حال سے نبرد آزما ہونا دشوار تر ہوگا۔ اندرونی خلفشار میں مبتلا رہ کر ہمارے چاروں طرف ہونے والی تبدیلیوں سے عہدہ بر آ ہونا ہمارے لئے کتنا ممکن رہے گا، اس کا جواب صرف اس بات میں ہے کہ ہم نہایت سرعت کے ساتھ طالبان کے ساتھ اپنے معاملات طے کرلیں۔

اگر مذاکراتی عمل ناکام ہوگیا ہے جو ہمیں ایسا ہی معلوم ہوتا ہے تو پھر اس مسئلے کے حل کے لئے دوسرے ذرائع استعمال کرنے میں دیر نہیں ہونی چاہئے، اس کے لئے ہمیں اندرونی طورپر یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے ، غیر ضروری معاملات میں الجھنے سے احتراز برتنا چاہئے اور ایک ایسی جاندار، غیر مبہم، غیر جامد اور غیر لچک دار خارجہ پالیسی مرتب کرنی چاہئے جو قوم کی امنگوں کی عکاس ہو ۔ ہمیں اپنے گھر کو منظم کرنا چاہئے اور غیر ضروری مباحث میں وقت ضائع کرنے کی بجائے گو مگو کی صورت سے نکل کر اقدامات کرنے ہوں گے اور اب وقت آگیا ہے کہ حکومت قوم کو اپنی قومی پالیسی کے لئے اعتماد میں لے ،کیونکہ بے خبر قوم میں اعتماد پیدا نہیں ہوسکتا اور اجتماعی شعور بھی اجاگر نہیں ہوسکتا۔ غیر یقینی صورت حال سے باہر نکل کر قومی شعور کے ساتھ آگے بڑھنا ہی سب سے بڑی دانش مندی ہوگی۔بدلتے ہوئے حالات میں اتنی دیرنہ ہوجائے کہ ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

œ¤ œ¤ ‡£¥ î

ˆŽ¢¡ –Žš ’¥ ¦Ÿ¤¡ ¤œ ¦¤ È¢ ’ £¤ ‹¤„¤ ¦¥ œ¦ ƒœ’„  œ¢ ¢  ¢¡ Ÿ’£ž œ ’Ÿ  ¦¥ó ¦Ž Ž„¥ ¦¢£¥ ƒž œ¥ ’„§ ¦ŸŽ¥ Ÿ’£ž ‚§„¥ ‡Ž¦¥ ¦¤¡ó ¦ŸŽ¥ ‹ “ ¢Ž ƒ ¥ Ÿžœ œ¢ Ÿ’£ž’„  œ¦ ¥ ’¥ ‚§¤ Ž¤  ¦¤¡ œŽ„¥ó ’ˆ¤ ‚„ „¢ ¤¦ ¦¥ œ¦ ¦Ÿ¤¡ ‚¦„ œŸ ¤¦ ‹Žœ ¦¥ œ¦ ¦Ÿ¤¡ Ÿ˜Ÿž„ œ¤ ‹Ž’„¤ œ¦¡ ’¥ “Ž¢˜ œŽ ¤ ˆ¦£¥ó ¦Ÿ¤¡ ¤¦  “ ‹¦¤ œŽ ¤ ƒ¥ ¤ œ¦ ›¢Ÿ œ¢ ’ ¢›„ ’‚ ’¥ §Ÿ‚¤Ž Ÿ’£ž¦ œ¢  ’ ‹Žƒ¤“ ¦¥í œ¤¢ œ¦ ¦ŸŽ¥ ›¢Ÿ¤ Ÿ˜Ÿž„ ’ ›‹Ž ž‡§¥ ¦¢£¥ ¦¤¡ œ¦ ¦Ÿ¤¡ œ¢£¤ Ž¦ ’‡§£¤  ¦¤¡ ‹¥ Ž¦¤ ó ‚¥ ‚¥ Ÿ’£ž ‘‹§¥ œ¤ –Ž‰ È œ§¤¡ œ§¢ž¥ ¦Ÿ¤¡ §¢ŽŽ¦¥ ¦¤¡ó ‹¦“„ Ž‹¤í ‚¤Ž¢Ž¤í Ÿ˜“¤ ‚‹‰ž¤ í ™Ž‚„ í œŽƒ“ í „¢ £¤ ‚‰Ž  ¢Ž Ÿ˜“Ž„¤  ‰–– ‡¤’¥ Ÿ’£ž  ¥ ¦Ÿ¤¡ ‚Ž¤ –Ž‰ ‡œ ¦¢ ¦¥ó   ’‚ ƒŽ ¤œ ¦¤  “’„ Ÿ¤¡ ’¤Ž ‰”ž „‚”Ž¦ œŽ  „¢  ŸŸœ  ¦¥ó ‚¦Ž‰ž ¦Ÿ¤¡   Ÿ’£ž œ¤ ‹Ž‡¦ ‚ ‹¤ œŽ  ƒ¥ ¤ ¢Ž ¤¦ ’Ÿ‡§  ¦¢ œ¦ ’ ¢›„ ‡’ Ÿ’£ž¥  ¥ ¦ŸŽ¤ ›¢Ÿ¤  ‹¤ œ¤ ‚ ¤‹¤¡ ¦ž ‹¤ ¦¤¡ ¢Ž ¦ŸŽ¤ ›¢Ÿ¤  ‹¤ œ¥ ž£¥ ’¢¦  Ž¢‰ ‚  ¦¢ ¦¥ ¢¦ ‹¦“„ Ž‹¤ œ È’¤‚ ¦¥ ‡¢ ’ ›‹Ž ¦Ž ¢Ž ¦Ÿ ¦¥ œ¦ ’ ’¥ š¢Ž¤  ‡„ ‰”ž œŽ ¥ Ÿ¤¡ ¦¤ ¦ŸŽ¤ ˜š¤„ ¦¥ó ¦Ÿ¤¡ š¢Ž¤ –¢ŽƒŽ ¤œ ¤’¤ ›¢Ÿ¤ ƒž¤’¤ „Ž„¤‚ ‹¤ ¥ œ¤ •Ž¢Ž„ ¦¥ ‡¢ ‰›¤›¤ Ÿ˜ ¢¡ Ÿ¤¡ ›¢Ÿ œ¤ Ÿ ¢¡ œ¤ „Ž‡Ÿ  ¦¢ó ¤’¤ Ÿ„š›¦ ƒž¤’¤ ‡¢ Ÿ˜“Ž¥ œ¥ ’‚ –‚›¢¡ œ¤ Š¢¦“„ œ¤ ˜œ’ ¦¢ó

¦Ÿ ‹¤œ§„¥ ¦¤¡ œ¦ ‰œ¢Ÿ„  ¤Ÿ ‹ž ¦ –Ž¤›¥ ’¥ ŠŸ¢“¤ œ¥ ’„§ –ž‚  œ¥ ’„§ ŸœŽ„ œŽŽ¦¤ ¦¥ó ’ œ¤ ŸœŽ„¤ œ¢““¢¡ œ¢ ‹¤œ§ œŽ ‰’’ ¦¢„ ¦¥ œ¦ ¤ „¢ Š–¥ œ¥ ‚‹ž„¥ ¦¢£¥ ‰ž„ œ¥ ‚Ž¥ Ÿ¤¡ ¦Ÿ¤¡ Ÿ–ž¢‚¦ š¦Ÿ ‰”ž  ¦¤¡ ¤ ‡  ‚¢‡§ œŽ ‰œ¢Ÿ„ Šš£ œ¤ ƒž¤’¤ ƒŽ Ÿ  ¦¥ó –ž‚  œ¤ ‚¦Ÿ¤ È¢¤“ œ¤ ‚  ƒŽ Žˆ¦ ŸœŽ„¤ ˜Ÿž Ÿ˜–ž ¦¥í ž¤œ  š’¢’ œ Ÿ›Ÿ ¦¥ œ¦ ›¢Ÿ œ¢ ’ œ¤ ƒ¤“ Žš„ œ¥ ‚Ž¥ Ÿ¤¡ œ¢£¤ ȝ¦¤  ¦¤¡ó ¦Ÿ  ‹§¤Ž¢¡ Ÿ¤¡ ˆž ¥ œ¥ ˜‹¤ ¦¢ˆœ¥ ¦¤¡í ‰ž œ¦ ’ Ž¢“ ’¥ ¦Ÿ  ¥ ›¢Ÿ œ¥ ‚¦„  ›” „ œ£¥ ¦¤¡ó Ÿžœ œ¥  ‹Ž¢ ¤ ‰ž„ ’ ›‹Ž„¤¤ ’¥ ‚‹ž„¥ Ž¦„¥ ¦¤¡ œ¦ ¦ŸŽ¤ ƒž¤’¤ œ œ¢£¤ ¤œ Ÿ‰¢Ž  ¦¤¡ ‚  ƒ„ó È£¥ ‹   „  £¥ Ÿ˜Ÿž„ ƒŽ ‚‰† “Ž¢˜ ¦¢‡„¤ ¦¥ ¢Ž ¦Ÿ ƒ ¥ ‚ ¤‹¤ ¦‹š ’¥ ¦Ÿ¤“¦ ‹¢Ž ¦¤ Ž¦„¥ ¦¤¡ó ‰ž¤¦ ‹ ¢¡ Ÿ¤¡ ¦Ÿ  £¥ ’¥  £¥ Ÿ‚‰† Ÿ¤¡ ¢›„ •£˜ œŽŽ¦¥ ¦¤¡ó œ‚§¤ ‰œ¢Ÿ„ ¢Ž ˜’œŽ¤ ŸŠ”Ÿ„ ¢Ž œ‚§¤ Ÿ¤Œ¤ œ¤ ȃ’ œ¤ ƒŽŠ“ ¦ŸŽ¤ ‚‰† œ Ÿ‰¢Ž Ž¦¤ ¦¥ó

ŸœŽ„¤ ˜Ÿž ‡¢œ¦ ‡ž‹¤ œ Ÿ„›•¤ „§í ’ Ÿ¤¡ „ ¤ ‹¤Ž œ¤ ‡Ž¦¤ ¦¥ œ¦ ¢›„ œ¤ Œ¢Ž ¦ŸŽ¥ ¦„§¢¡ ’¥  œž„¤ Ÿ˜ž¢Ÿ ¦¢„¤ ¦¥í ‰ž œ¦ Š–¥ œ¥ ‚‹ž„¥ ¦¢£¥ ‰ž„ œ „›•¦ ¦¥ œ¦ ¦Ÿ –ž‚  ’¥ ŸœŽ„¤ ˜Ÿž œ¢ ‡ž‹  ‡ž‹ ƒ¤¦¿ „œŸ¤ž „œ ƒ¦ ˆ ˆœ¥ ¦¢„¥í œ¤¢ œ¦ ‚ ¤‹¤ –¢ŽƒŽ ¤¦¤ ¤œ Ÿ’£ž¦ ¦¥ ‡¢ ’‚ ’¥ ‚ ˜šŽ¤„ ‚  œŽ ¦ŸŽ¥ ’Ÿ ¥ œ§ ¦¥ó ’¤ ™¤Ž ¤›¤ ¤ œ¤ ¢‡¦ ’¥ ¦Ÿ ‚¤  ž›¢Ÿ¤ –¢ŽƒŽ ž „§ž ¦¢Ž¦¥ ¦¤¡ó ‰ž ¦¤ Ÿ¤¡ ›¢Ÿ Ÿ„‰‹¦ œ¥ ”‰„ œ¥ ‹Ž¥  ¥ ¦ŸŽ¥ “¦Ž¤¢¡ ƒŽ œˆ§ ™¤Ž Ÿžœ¤ ’šŽ¤ ƒ‚ ‹¤¡ ˜£‹ œ¤ ¦¤¡ ‡¢ –ž‚  œ¤ œŽŽ¢£¤¢¡ ¢Ž ‹§Ÿœ¤¢¡ œ  „¤‡¦ ¦¤¡í œ¤¢ œ¦ ƒ¢ž¤¢ ¢¤œ’¤  ¤“  ƒž ¥ ¢ž¤ …¤Ÿ¢¡ œ¢  ¦¢¡  ¥ ™¤Ž š˜ž œŽ‹¤ ‡’ œ¤ ‚  ƒŽ š¤ ž¢›„ Ÿžœ ‚§Ž Ÿ¤¡ ƒ¢ž¤¢ œ¥ 66œ¤’ ’Ÿ ¥ È£¥ ‡¢ ‚¤  ž›¢Ÿ¤ ‹ ¤ Ÿ¤¡ Š–Ž¥ œ¤ ‚¦„ ‚¤ § …¤ ’Ÿ‡§¤ ‡Ž¦¤ ¦¥ó ¦Ÿ¤¡ ‚§¤ „œ ’ ‚„ œ ‹Žœ  ¦¤¡ ¦¥ œ¦ ’ ƒ‚ ‹¤ ’¥ ¦Ÿ¤¡ œ¤ œ¤ Ÿ”£‚ ž‰› ¦¢¡ ¥ó

‹ ¤ Ÿ¤¡ ‡¦¡ œ¦¤¡ ‹¦“„ Ž‹¤ œ Ž„œ‚ ¦¢„ ¦¥í ¢¦¡ ƒœ’„  ¦¤ Ÿ˜„¢‚ …§¦Ž„ ¦¥ ¢Ž ¦Ÿ¤¡ ¦¤ ‚‹ Ÿ œ¤ ‡„ ¦¥ó ™¤ŽŸžœ¤ ’ŽŸ¤¦ œŽ¤ Ž¢¡ Ÿž¤ ’ž Ÿ¤¡  ¦ ¦¢ ¥ œ¥ ‚Ž‚Ž ¦¥í Žˆ¦ ‰œ¢Ÿ„¤ Ž£˜ ’ •Ÿ  Ÿ¤¡ ¤œ Š¢‚”¢Ž„ „”¢¤Ž ƒ¤“ œŽŽ¦¥ ¦¤¡í ž¤œ  ¤¦ ¤œ ¤’¤ ‰›¤›„ ¦¥ œ¦ ‡’ œ  œŽ  ¦¤¡ ¦¢’œ„ œ¦ ‚‹¤“¤ ’ŽŸ¤¦ œŽ ƒœ’„  Ÿ¤¡ ’ŽŸ¤¦ ž ¥ ’¥ Ž¤¡ ¦¤¡ó ‡‚ „œ Ÿ  ¢Ÿ  œ Ÿ’£ž¦ ‰ž  ¦¤¡ ¦¢í ™¤Ž Ÿžœ¤ ’ŽŸ¤¦ œŽ ‹§Ž œ ŽŠ œ¤’¥ œŽ¤¡ ¥ 휤¢ œ¦ ¢¦ ƒ ¥ ’ŽŸ£¥ œ¢ ¤¦¡ ™¤Ž Ÿ‰š¢— ’Ÿ‡§„¥ ¦¤¡ó ’ ž£¥ Ÿ  ¢Ÿ  œ ›¤Ÿ ¦ŸŽ¥ ž£¥ ’‚ ’¥ ‚ Ÿ’£ž¦ ¦¥ í ’¤ ž£¥ ¤¦ ’‚ ’¥ ƒ¦ž¤ „Ž‡¤‰ ‚§¤ ¦¢ ¤ ˆ¦£¥ ó –ž‚  ’¥ Ÿ˜Ÿž„ ‡„ ¤ ‡ž‹¤ ‰ž œŽž£¥ ‡£¤¡ „  ¦¤ ‚¦„Ž ¦¥ó Ž ŸœŽ„¤ ‚¤ž Ÿ Œ§¥  ¦¤¡ ˆ§ ’œ„¤ „¢ Ÿ„‚‹ž Ž£˜ ’„˜Ÿž œŽ ¥ Ÿ¤¡ Ÿ¤‹ „Ÿž  ¦¤¡ ¦¢  ˆ¦£¥í œ¤¢ œ¦ ƒ¦ž¥ ¦¤ ‚¦„ ¢›„ •£˜ ¦¢ˆœ ¦¥ó

’ ¢›„ ¦ŸŽ¥ Ž‹Ž‹ ¢Ž ¦Ÿ’¤¦ ŸŸžœ Ÿ¤¡ ‡¢ ‰ž¤¦ „‚‹¤ž¤¡ ¦¢Ž¦¤ ¦¤¡í œ¤ ¦Ÿ ’ ’¥ ™šž Ž¦ ’œ„¥ ¦¤¡ ¢Ž ¢Ÿ¢ ¢Ž „Ÿž œ¤ ’ ƒž¤’¤ œ¢ Ÿ¤‹ ‡Ž¤ Žœ§ ‡’œ„ ¦¥î –ž‚  œ¥ œŸ ŒŽ Ÿž š•ž žž¦ œ¤ ‰ž¤¦ ‹§Ÿœ¤ ’¥ ™Ÿ• ‚Ž„  ¦ŸŽ¥ ž£¥ œ„  Š¢š œ ¦¢’œ„ ¦¥í œ¤¢ œ¦ š™ ’„  ¢Ž ¦ ‹¢’„  Ÿ¤¡ ‰ž¤¦ ™¤Ž ’¤’¤ „‚‹¤ž¤¡ ¦ŸŽ¤ „¢‡¦ ˆ¦„¤ ¦¤¡ó Š” –¢Ž ƒŽ š™ ’„  Ÿ¤¡ ‰œ¢Ÿ„ œ¤ „‚‹¤ž¤ Š–Ž¥ œ¤ § …¤ ¦¥ ó  £¤ š™  ›¤‹„   ˜’œŽ¤ Ž¢¦¢¡ œ¢ ¦ŸŽ¥ Šžš ’„˜Ÿž œŽ ¥ ’¥ Ž¤  ¦¤¡ œŽ¥ ¤í‡‚œ¦ ŸŽ¤œ¦ ¢Ž  ¤…¢ š¢‡ œ¥  Šž£ œ¥ ‚˜‹ œ¤ ”¢Ž„ ‰ž ¦ŸŽ¥ ž£¥ È’   ¦¤¡ ¦¢¤ ¢Ž Ÿ¤‹ ¢›„ •£˜ œŽ ¥ ’¥ ’ ƒ¤ˆ¤‹¦ „Ž”¢Ž„ ‰ž ’¥  ‚Ž‹ ȐŸ ¦¢  ‹“¢Ž „Ž ¦¢ó  ‹Ž¢ ¤ Šžš“Ž Ÿ¤¡ Ÿ‚„ž Ž¦ œŽ ¦ŸŽ¥ ˆŽ¢¡ –Žš ¦¢ ¥ ¢ž¤ „‚‹¤ž¤¢¡ ’¥ ˜¦‹¦ ‚Ž È ¦¢  ¦ŸŽ¥ ž£¥ œ„  ŸŸœ  Ž¦¥ í ’ œ ‡¢‚ ”Žš ’ ‚„ Ÿ¤¡ ¦¥ œ¦ ¦Ÿ  ¦¤„ ’Ž˜„ œ¥ ’„§ –ž‚  œ¥ ’„§ ƒ ¥ Ÿ˜Ÿž„ –¥ œŽž¤¡ó

Ž ŸœŽ„¤ ˜Ÿž  œŸ ¦¢¤ ¦¥ ‡¢ ¦Ÿ¤¡ ¤’ ¦¤ Ÿ˜ž¢Ÿ ¦¢„ ¦¥ „¢ ƒ§Ž ’ Ÿ’£ž¥ œ¥ ‰ž œ¥ ž£¥ ‹¢’Ž¥ Ž£˜ ’„˜Ÿž œŽ ¥ Ÿ¤¡ ‹¤Ž  ¦¤¡ ¦¢ ¤ ˆ¦£¥í ’ œ¥ ž£¥ ¦Ÿ¤¡  ‹Ž¢ ¤ –¢ŽƒŽ ¤œ’¢£¤ œ¥ ’„§ ȝ¥ ‚§  ˆ¦£¥ í ™¤Ž •Ž¢Ž¤ Ÿ˜Ÿž„ Ÿ¤¡ ž‡§ ¥ ’¥ ‰„Ž ‚Ž„  ˆ¦£¥ ¢Ž ¤œ ¤’¤ ‡ ‹Ží ™¤Ž Ÿ‚¦Ÿí ™¤Ž ‡Ÿ‹ ¢Ž ™¤Ž žˆœ ‹Ž ŠŽ‡¦ ƒž¤’¤ ŸŽ„‚ œŽ ¤ ˆ¦£¥ ‡¢ ›¢Ÿ œ¤ Ÿ ¢¡ œ¤ ˜œ’ ¦¢ ó ¦Ÿ¤¡ ƒ ¥ §Ž œ¢ Ÿ —Ÿ œŽ  ˆ¦£¥ ¢Ž ™¤Ž •Ž¢Ž¤ Ÿ‚‰† Ÿ¤¡ ¢›„ •£˜ œŽ ¥ œ¤ ‚‡£¥ ¢ Ÿ¢ œ¤ ”¢Ž„ ’¥  œž œŽ ›‹Ÿ„ œŽ ¥ ¦¢¡ ¥ ¢Ž ‚ ¢›„ ȝ¤ ¦¥ œ¦ ‰œ¢Ÿ„ ›¢Ÿ œ¢ ƒ ¤ ›¢Ÿ¤ ƒž¤’¤ œ¥ ž£¥ ˜„Ÿ‹ Ÿ¤¡ ž¥ 휤¢ œ¦ ‚¥ Š‚Ž ›¢Ÿ Ÿ¤¡ ˜„Ÿ‹ ƒ¤‹  ¦¤¡ ¦¢’œ„ ¢Ž ‡„Ÿ˜¤ “˜¢Ž ‚§¤ ‡Ž  ¦¤¡ ¦¢’œ„ó ™¤Ž ¤›¤ ¤ ”¢Ž„ ‰ž ’¥ ‚¦Ž  œž œŽ ›¢Ÿ¤ “˜¢Ž œ¥ ’„§ ȝ¥ ‚§  ¦¤ ’‚ ’¥ ‚¤ ‹ “ Ÿ ‹¤ ¦¢¤ó‚‹ž„¥ ¦¢£¥ ‰ž„ Ÿ¤¡ „ ¤ ‹¤Ž ¦ ¦¢‡£¥ œ¦ ¦Ÿ ¦„§ Ÿž„¥ Ž¦ ‡£¤¡ó

مزید :

کالم -