اندھیرے سے روشنی کا سفر: بھکھی پاور پلانٹ

اندھیرے سے روشنی کا سفر: بھکھی پاور پلانٹ
اندھیرے سے روشنی کا سفر: بھکھی پاور پلانٹ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

توانائی کے بحران نے قوم کو شدید کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث روزمرہ زندگی کے معمولات شدید متاثر ہوکر رہ گئے ہیں۔ آج سے 20 سال قبل بھی اگر درست سمت میں قدم اٹھالئے جاتے تو آج توانائی کا بحران اتنی شدت کے ساتھ سامنے نہیں آتا۔

موجودہ حکومت جسے توانائی بحران ورثے میں ملا ہے ،حکمرانوں نے فوری اپنا پہلا دورہ چین کا کیا اور چین سے توانائی کے منصوبوں پر بات کی۔وزیر اعلیٰ پنجاب بھی چین کا کئی مرتبہ دورہ کرچکے ہیں۔

حکومت بجلی کی کمی پر قابو پانے کیلئے تیز رفتاری سے اقدامات کرر ہی ہے۔ہوا، کوئلے ، ہائیڈل،سولر اور دیگر ذرائع سے توانائی کے حصول کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جا رہاہے۔ توانائی بحران کے خاتمے کے لئے موجودہ حکومت کی دن رات کی جانے والی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں۔ توانائی کے منصوبوں پر تیزرفتاری سے کام کیا جارہا ہے۔

یہ منصوبے ملک سے لوڈشیڈنگ کے اندھیرے دور کرنے کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حکومتی دلچسپی، محنت اور کاوشوں کی بدولت پاور پلانٹس میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے، جس سے بجلی کے ان منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت ہوئی ہے ۔

ان منصوبوں میں گزشتہ دنوں مکمل ہونے والا بھکھی پاور پلانٹ ہے جو 1180 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے بھکھی پاور پلانٹ کو مکمل فعال کرنے کے حوالے سے تختی کی نقاب کشائی کرتے ہوئے منصوبے کے مکمل فعال ہونے پر مسرت کا اظہار کیا، انہوں نے کنٹرول روم کا دورہ کیا۔ یہ پلانٹ کم ایندھن استعمال کر کے زیادہ بجلی پیدا کرے گا،اس کا شمار دنیا کے بہترین پاور پلانٹس میں ہوگا

ایندھن کی مد میں سالانہ 18ارب روپے کی بچت ہوگی، جبکہ منصوبے کی تعمیر میں 37ارب روپے کی بچت ہوگی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج بہت تاریخی دن ہے۔

پاور پلانٹ پاکستان میں اپنی نوعیت کا جدید ترین گیس ٹیکنالوجی پاو رپلانٹ ہے، اب تک 3.1 ارب یونٹ بجلی کی پیداوار حاصل کی جا چکی ہے۔ منصوبے میں 39 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کوششوں سے ملک پر چھائے اندھیرے چھٹ رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کاوشوں اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باعث بجلی کے منصوبے مکمل ہونے سے 10 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، اس منصوبے پر پنجاب حکومت نے سرمایہ کاری کی ہے۔ ماہ رمضان میں سحری ، افطاری اور تراویح کے دوران مکمل طور پر پورے پاکستان میں بجلی مل رہی ہے۔

پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے دور میں گیس کی بنیاد پر لگنے والے اسی کپیسٹی کے منصوبے ہم نے آدھی قیمت پر لگائے ہیں۔ توانائی منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت کر کے قومی خزانے کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔

آصف علی زرداری صاحب ہیں جن کی حکومت نے ملک کو اندھیروں میں ڈبویا ، بجلی کے منصوبوں کے نام پر کرپشن کی پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے دور میں گیس کی بنیاد پر لگنے والے منصوبے نہ صرف دگنی قیمت پر لگے، بلکہ ان کی کارکردگی بھی کم تھی۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو ملک ہر طرف اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ پہلا سال دھرنوں کی نذر ہو گیا۔ دھرنوں سے جہاں قومی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا وہاں بجلی سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ہوئی۔

اس سے بڑا جرم اور کوئی ہو نہیں سکتا اور قوم دھرنے والوں کے اس جرم کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ دھرنوں کے باعث چین کے صدر کا دورہ ملتوی ہوا اور منصوبوں میں تاخیر ہوئی، اگر دھرنے والے ہوش کے ناخن لیتے تو یہ منصوبے بہت پہلے مکمل ہو چکے ہوتے۔

خیبر پختونخوا میں جہاں دریا ہیں ، آبشاریں ہیں اور ہزاروں میگا واٹ پن بجلی پیدا کرنے کے مواقع موجود ہیں، وہاں بجلی پیدا کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

عوام کو سستے نرخوں پر بجلی فراہم کرنا حکومت اور نیپرا کی ذمہ داری ہے ،اگر نیپرا اپنا کردار پوری طرح نبھائے تو پاکستان میں نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی بلکہ عوام کو بجلی بھی سستی ملے گی، پنجاب میں گیس پاور پلانٹس کے منصوبے ماضی کے تمام منصوبو ں سے آدھی قیمت پر لگ رہے ہیں،جس سے یہ اندیشہ تو پیدا ہوا ہے کہ نجی شعبہ اس جانب نہیں آئے گا، اس لاگت پر اس طرح کے منصوبے لگانا نجی شعبے کے لئے محال ہوگا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ حکومت نے معیار مقرر کر دیاہے اورآنے والی حکومتیں اگر اچھی ہوں گی تو ایسے منصوبے لگتے رہیں گے۔ حکومت کی ان تمام تر کوششوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بجلی کے حصول کے لئے زیادہ توجہ اور سنجیدگی سے کام کا آغاز کرچکی ہے، اگرچہ اسے درست سمت پر چلائے رکھنا یہ بھی حکومت کی ذمے داری ہے،لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ یا پراجیکٹس اسی وقت قابل عمل اور مفید ثابت ہوں گے، جب ان سے پیداوار جو حاصل کی جائے گی، وہ سستی بجلی ہوگی اور اس سے ملک میں بجلی کی ضروریات بھی پوری کی جاسکیں گی۔ اب جبکہ موجودہ حکومت کی مدت پوری ہو چکی ہے تو پاور پراجیکٹس کی بدولت ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ اور سستی بجلی کا حصول ممکن ہے، کیونکہ نئے الیکشن میں ایک بار پھر توانائی کا بحران ہی زیر بحث آئے گا۔

مزید : رائے /کالم