سندھ یونائیٹڈ پارٹی سے اتحاد پی ٹی آئی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے

سندھ یونائیٹڈ پارٹی سے اتحاد پی ٹی آئی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے

  

کراچی : تجزیہ مبشر میر

الیکشن 2018ء کے لیے صف بندی کا سلسلہ تیز تر ہوتا جارہا ہے ۔تحریک انصاف اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے درمیان انتخابی اتحاد کے لیے اتفاق رائے ہوگیا ہے ۔سندھ کی قوم پرست جماعتوں کو اگرچہ سندھ کے الیکشن میں کوئی کامیابی نہیں ملی لیکن ایک نفسیاتی تاثر قائم کرنے کے لیے پی ٹی آئی کو اندرون سندھ فائدہ مل سکتا ہے ۔قوم پرست سیاسی جماعتوں کی سیاست کا مزاج بھی تبدیل ہوچکا ہے اور طریقہ کار میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے لیکن عوامی پذیرائی کا عالم اس قدر نہیں کہ ان کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو ۔مسلم لیگ (ن) نے بھی ایم کیو ایم بہادرآباد سے قربتیں بڑھالی ہیں ۔پنجاب مسلم لیگ (ن) کے راہنما رانا مشہود احمد کئی ہفتوں سے مسلم لیگ (ن) کے نئے صدر میاں شہباز شریف کی ہدایت پر کراچی میں ہیں اور انہوں نے سیاسی راہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ایم کیو ایم کے راہنماؤں نے میاں شہباز شریف کے دورہ کراچی کے موقع پر ان سے ملاقات بھی کی تھی ۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ دونوں جماعتیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر متفق ہوجائیں گی ۔امریکہ میں پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کے قتل کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے راہنما ان کے گھر تعزیت کے لیے جارہے ہیں ۔گویا سیاسی فوائد حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ۔حتیٰ کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی خاص طورپر ان کے گھر پہنچے جبکہ سیاسی جماعتوں کے متعدد راہنما اب تک سبیکا شیخ کے والد سے ملاقات کے لیے گئے ہیں جبکہ کوئٹہ میں دہشت گردی کے بدترین واقعات کے باوجود وہاں سیاسی راہنماؤں نے جانا گوارہ نہیں کیا ۔یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہر سیاسی جماعت کراچی کے عوام کو بھی متاثر کرنے کی تگ و دو میں ہے ۔ان کا خیال ہے کہ اس وقت کراچی کے ووٹر کو متاثر کرنے کا کوئی بھی موقع ہو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔2018کے الیکشن میں کراچی کی صورت حال ابھی تک گوں مگوں کا شکار ہے ۔عوامی حمایت کسی ایک پارٹی کے حق میں جاتی نظر نہیں آرہی ۔ووٹر بھی تذبذب کا شکار ہے ۔

مزید :

تجزیہ -رائے -