A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 56ویں قسط

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 56ویں قسط

مئی 23, 2018 | 14:14:PM

وجیہہ سحر

اس نے پسٹل بیگ میں رکھ لیالیکن یہ بات کہنے سے نہ رکی ’’تمہارے کہنے پر رکھ رہی ہوں تم ہمارے چیف ہو اس لیے تمہاری ہر بات ماننی پڑے گی ورنہ ہم سائیکاٹرسٹ کسی کے گھر گھس کے اس پر حملہ نہیں کرتے، آنکھوں کے دریچوں سے اس کے ذہن میں گھس جاتے ہیں اور اسے اسی کی سوچوں سے کبھی کبھی گھائل اور کبھی تندرست کردیتے ہیں۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

ظفر ایک چمڑے کا براؤن کلر کا بیگ لے کر اسامہ کے قریب بیٹھ گیا۔’’یہ رکھ لو میں نے بھی اسلحہ کا بندوبست کیا تھا اس میں کچھ پسٹلز ہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کرلینا۔‘‘

اسامہ نے ظفر کے ہاتھ سے وہ بیگ لیا اور وھے سے لہجے میں بولا۔’’ہم جانتے ہیں جو جنگ ہم لڑنے جا رہے ہیں وہ اسلحے کی جنگ نہیں ہے۔ اس جنگ میں ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارا ایمان ہے۔ خدا پر یقین کہ وہ رب ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 55ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’مشن کسی بھی قسم کا ہو اسلحہ پاس ہونا چاہئے۔‘‘ ظفر نے اسامہ کے شانے پر تھپکی دی تو اسامہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

’’یہی سوچ کے تو اسلحہ رکھا ہے میں نے کچھ قرآنی آیات کی فوٹو کاپی بھی کروائی ہیں۔ یہ آیات پڑھنے سے آپ ہمزاد کے حملے سے بچ سکتے ہیں۔ میرے پاس ان آیات کی آٹھ کاپیاں ہیں، چار ہم رکھ لیتے ہیں باقی چار آپ رکھ لیں ہو سکے تو ان کی مزید کاپیاں کروا کے فواد، خیام اور حوریہ کے والدیں کو دے دیں اور جتنے لوگوں میں بانٹ سکتے ہیں بانٹ دیں۔‘‘ یہ کہہ کر اسامہ نے چار کاپیاں ظفر کو دیں اور باقی چار آپس میں بانٹ لیں۔

**

رات کے نو بج رہے تھے ساجد بے بس زرغام کی خدمت میں مصروف تھا وہ کچھ نہیں کر پایا تھا اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ بے بسی کی یہ اذیت اسے اکثر سہنی پڑتی تھی۔ زرغام نے ساجد سے وہ شیشے کی پیالیاں لانے کو کہا۔

ساجد کچن سے شیشے کی دو پیالیاں لے آیا۔ زرغام کے ہاتھ میں دو شیشے کی چھوٹی چھوٹی بوتلیں تھیں جن کے ڈھکن بھی شیشے کے تھے۔ زرغام نے ساجد سے پیالیاں لیں اور لیونگ روم کی میز پر رکھ دیں اس نے چھوٹی شیشے کی بوتلیں بھی میز پر رکھ دیں۔ اس نے صوفے سے ایک سیاہ کپڑا اٹھایا اور سانپوں کے پنجرے کے اوپر ڈال دیا پھر اس نے اپنے دونوں ہاتھ پنجرے کے اوپر رکھ دیئے اور ہونٹوں کے تیز جنبش کے ساتھ کوئی خاص عمل پڑھنے لگا اس نے آنکھیں بند کر لیں اور ارد گرد کے ماحول سیبے خبر ہوگیا۔

ساجد خاموشی سے کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا ویسے اسے زرغام کے کالے جادو کے عملیات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر اسے وہاں کھڑا رہنے کی تاکید تھی۔

تھوڑی دیر کے بعد زرغام نے سیاہ کپڑا پنجرے سے ہٹا دیا۔ سانپوں کا جوڑا جوں کا توں ہی تھا۔ ساجد کو ان میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی مگر جب زرغام نے پنجرہ کھولا تو ساجد خوف سے پیچھے جا کھڑا ہوا۔

زرغام نے پنجرے میں ہاتھ ڈال کر اس کو برا سانپ کو اٹھا لیا۔

’’ص۔۔۔ص۔۔۔صاحب۔۔۔یہ سانپ آپ کو ڈس نہیں رہا؟‘‘ ساجد کے حلق سے کانپتی آواز نکلی۔

زرغام نے ہنستے ہوئے اس سانپ کو اپنے چہرے کے قریب کرلیا۔’’میرا عمل ان پر چل چکا ہے اب یہ مجھے نہیں ڈس سکتے۔‘‘

سانپ بے چین تھا۔ پھنکار رہا تھا مگر زرغام کو ڈس نہیں رہا تھا۔ اس نے زرغام کے بازوؤں کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ زرغام نے سانپ کو سر کے حصے سے پکڑتے ہوئے زور سے دبایا۔ اس کا منہ کھل گیا زرغام نے اس کے لمبے نوکیلے دانتوں کو شیشے کی پیالی پر ٹگا دیا جس سے اس کے دانتوں کے قریب زہر کی تھیلیاں دب گئیں اور زہر قطرہ قطرہ پیالی میں ٹپکنے لگا۔اس طرح زرغام نے ناگن کا بھی زہر دوسری پیالی میں نکال لیا۔

ساجد یہ سب کچھ مبہوت نظروں سے دیکھ رہا تھا زرغام نے سانپوں کو پنجرے میں بند کر دیا اور پیالیوں میں نکالا ہوا زہر بہت احتیاط س چھوٹی چھوٹی بوتلوں میں ڈال دیا۔

زرغام نے وہ بوتلیں اٹھائیں اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا، اس نے سائیڈ ٹیبل سے وارڈ روپ کی چابی نکالی اور وہ بوتلیں وارڈ روب میں رکھ کے اسے لاک کر دیا۔ کمرے سے باہر نکل کے اس نے ساجد سے کہا’’کچن سے ٹوکا لے آؤ۔‘‘

یہ کہنے کے بعد اس نے پنجرا اٹھایا اور باہر لان سے لے گیا۔ اس نے پنجرا لان میں رکھا اور لان کی ساری لائٹس آن کر دیں۔

ساجد ٹوکا لے کر زرغام کی طرف بڑھا۔ زرغام نے پنجرے سے ایک سانپ باہر نکالا اور پھرتی سے پنجرے کا دروازہ بند کر دیا۔ اس نے سانپ کو گھاس پر رکھنا چاہا مگر سانپ اس کے بازوؤں میں بل ہی کھاتا رہا۔ زرغام نے سانپ کو گھاس کی طرف کرتے ہوئے اس کے سر پر اپنا پاؤں رکھ لیا اور پھر بڑی تیزی سے ٹوکے سے اس کا سراس کے جسم سے علیحدہ کر دیا۔

اس کے بازوؤں پر لپٹا ہوا سانپ کا جسم گھاس پر گر کر تڑپنے لگا۔ اسی طرح سے اس نے ناگن کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔

’’میرے کمرے میں دو جار پڑے ہیں وہ لے آؤ۔‘‘ زرغام نے ساجد سے کہا۔

ساجد اندر سے دو جار لے آیا۔ زرغام نے شیشے کے ایک جار میں سانپوں کے سررکھے اور ایک جار میں دھڑ۔ وہ دونوں جار اٹھا کے کھڑا ہوگیا۔’’اس جگہ کی صفائی کر دو۔‘‘ اس نے ساجد سے کہا جو ایک ہی جگہ پرسہما ہوا کھڑا تھا۔

اس نے ڈرتے ڈرتے زرغام سے پوچھا’’آپ ان کا کیا کریں گے۔‘‘

زرغام نے تضحیک آمیز انداز میں ساجد کی طرف دیکھا’’بوڑھے ہوگئے ہوابھی تک تمہیں یہ نہیں چلا کہ کوبرا کا سر اچھی خاصی رقم میں فروخت ہوتا ہے اور اس کی کھال کالے جادو کے تعویذوں میں استعمال ہوتی ہے۔‘‘

یہ سب سن کر ساجد کے دل سے زرغام کے لیے ایک بار پھر بددعا نکلی۔ وہ جہاں کھڑا تھا وہیں جیسے جامد ہوگیا۔

’’اب یہ کھڑے کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو ادھر کی صفائی کرو۔‘‘ زرغام نے ساجد سے کہا اور پھر جار لے کر اندر چلا گیا۔

***

عمارہ اپنی والدہ رابعہ کے پاس بیٹھ گئی۔’’سوئی نہیں آپ۔۔۔‘‘

’’مجھے نیند کیسے آسکتی ہے۔‘‘ رابعہ نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔

’’ایسے کیوں کہہ رہی ہیں۔‘‘ عمارہ ماں کے بال سہلانے لگی۔

رابعہ پلنگ سے پشت لگا کے بیٹھ گئی’’جس کی بیٹی موت کا کھیل کھیلنے جا رہی ہو اس ماں کو نیند کیسے آسکتی ہے۔‘‘

عمارہ نے ماں کے شانے پر اپنا سر ٹکا لیا۔’’مما! آپ کی بیٹی محاذ پر جا رہی ہے۔ ہم خدا کے بندوں کی حفاظت کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔انسان اور شیطان کی اس جنگ میں اگر آپ کی بیٹی قربان بھی ہوگئی تو شہید کہلائے گی۔‘‘

رابعہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔’’تمہاری بوڑھی ماں کا تمہارے سوا اور ہے ہی کون۔۔۔‘‘

عمارہ ماں کے آنسو پونچھنے لگی’’اگر ایسی بات ہے تو بس آپ ہمارے لیے دعا کریں کہ ہم یہ جنگ جیت کے آپ کے پاس زندہ سلامت واپس لوٹیں۔ خدا پہ بھروسا کرکے ہمیں دعا دے کر بھجیں۔‘‘

عمارہ ماں کے ساتھ ہی لیٹ گئی۔ صبح فجر کی اذان کے وقت ظفر نے سب کوجگا دیا۔ عمارہ اور رابعہ نے بھی فجر کی نمازپڑھی اور ظفر اسامہ اور عارفین مسجد چلے گئے۔ صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔رات کا اندھیرا دھیرے دھیرے دن کے اجالے میں بدل رہا تھا مگر پرندوں کی چہچہاٹ نے صبح ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ نماز کے بعد رابعہ اور عمارہ باہر لان میں آکے بیٹھ گئیں۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد عارفین اسامہ اور ظفر بھی آگئے۔

عارفین اور ظفر رابعہ کے ساتھ بیٹھ گئے عمارہ گل چیں کے پودے کے قریب کھڑی کسی سوچ میں گم تھی کہ اسامہ نے اسے چونکا دیا۔

’’آپ کیا سوچ رہی ہیں ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔’‘‘ عمارہ نے مسکراتے ہوئے اسامہ کی طرف دیکھا۔ ’’ایسے ہی یہ دماغ سوچوں کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتاہے۔‘‘

اسامہ نے فوراً اپنی بھنویں اچکائیں۔’’ایک بات تو بتائیں کہ آپ لوگوں کو ٹھیک کرتی ہیں یا پاگل۔‘‘

’’کیا مطلب۔۔۔؟‘‘ عمارہ نے غصے سے اسامہ کی طرف دیکھا۔

’’میرا مطلب ہے کہ جب آپ کا اپنا یہ حال ہے تو آپ مریضوں کو اپنی سوچوں پر قابو رکھنا کیسے سکھاتی ہوں گی۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

’’جی نہیں میں لوگوں کا بہت اچھے طریقے سے علاج کرتی ہوں جہاں تک میری سوچ کا تعلق ہے تو جینئیس ایسے ہی ہوتے ہیں۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

اسامہ نے عمارہ کی طر ف تمسخرانہ انداز میں دیکھا’’آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ آپ جینئس ہیں۔‘‘

’’کوئی شک۔۔۔‘‘ عمارہ نے پر اعتماد لہجے میں کہا۔

اسامہ نے اپنی پینٹ کی جیب سے پسٹل نکالی اور عمارہ کے ہاتھ میں تھما دی۔’’اچھا یہ بات ہے تو پھر یہ پسٹل چلا کے دکھاؤ۔‘‘

عمارہ گھبرا سی گئی۔’’ذہین ہونے کا مطلب یہ تو نہیں ہے ناکہ اسلحہ بھی استعمال کرنا آتا ہے۔‘‘

’’مگر کچھ بھی سیکھنے کے لیے ذہین ہونا تو ضروری ہے نا‘‘یہ کہہ کر اسامہ نے عمارہ کے ہاتھ سے پسٹل لے لی اور بارہ فٹ کے فاصلے پر ایک انار کے درخت پر اسنے اپنا ٹارگٹ سیٹ کیا اور عمارہ کی آنکھوں کے سامنے پسٹل کو سیو کرتے ہوئے اس نے عمارہ کو سمجھایا۔

’’یہ ہم نے اپنا ٹارگٹ سیٹ کیا اور یہ ٹریگر دبا دیا۔‘‘ اسامہ نے بڑی مہارت سے ایک انار اڑا دیا ۔

’’یہ لوٹارگٹ سیٹ کر دیا ‘ ‘اسامہ نے پسٹل ایک پھر عمارہ کے ہاتھ میں تھما دی۔ عمارہ نے ڈرتے ڈرتے اپنے دائیں ہاتھ میں تھامی ہوئی پسٹل کا رخ انار کے درخت کی طرف کیا۔ اس نے ٹریگر پر انگلی رکھی پوری کوشش کے باوجود اس سے ٹریگر نہیں دبا۔اس نے اپنا دوسرا ہاتھ بھی پسٹل پر رکھا اور دوسرے ہاتھ کی انگلی بھی ٹریگر پر رکھ لی مگر اس سے ٹریگر نہیں دبایا گیا۔(جاری ہے )

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 57 ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں