عوام رحم کی بھیک مانگنے لگے!

عوام رحم کی بھیک مانگنے لگے!
عوام رحم کی بھیک مانگنے لگے!

  

وفاقی حکومت کے مہربانوں کی طرف سے معاشی ابتری اور آئی ایم ایف کی شرائط پیشگی تسلیم کرنے کا صرف ایک ہی جواب ہے،گھبراؤ نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔یہ سب جانے والی حکومتوں کا کیا دھرا ہے جو ملک پر قرضوں کا بوجھ لاد گئے،وہ چور ہیں،ڈاکو ہیں،جلد ہی جیل جائیں گے،اس وقت جو معروضی حالات ہیں،ان میں یہ فسوں کارآمد نہیں رہا،عوام کی ایک تعداد نیب کی کارروائیوں اور جوشیلے انصافیوں کی شعلہ بیانیوں کے باعث یہ باور کر چکی کہ ملک کے وسائل کو لوٹا گیا،اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جن پر الزام لگایا جا رہا ہے وہ نیب اور عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں،عوام یہ بھی سوچتے ہیں کہ ای او بی آئی میں اربوں روپے کے فراڈ اور غبن میں ملوث پاک صاف ہیں،آف شور کمپنیوں والے اور ملک سے پیسہ باہر بھیجنے کا اعتراف کرنے والے صاحب حکومتی امور چلا رہے ہیں اور ان کی سرکاری امور میں شرکت پر جماعت کے نمبر دو رہنما کی تنقید پر بھی کچھ نہیں کہا جاتا،لوگ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ بنی گالا جاتے ہوئے مشروب کی بوتلوں کا انکشاف اور پھر ان کا شہد ثابت ہونا کس امر کی غمازی کرتا ہے، عوام سوچتے ہیں،شہد کی برکت سے وزارت کیسے ملتی ہے؟ان سب باتوں اور سابقین پر طنز اور الزام ہی سب کچھ ہے، یہ جواب کیوں نہیں دیا جاتا کہ روپے کی اِس قدر بے حرمتی کیسے ہو رہی ہے کہ کہیں ٹکتا نہیں،کمزور سے کمزور تر ہو رہا ہے اور اب تو خدشات میں گھرے شہریوں کا یہ شک یقین میں بدل گیا کہ یہ ڈالر 180 روپے سے کم پر نہیں رُکے گا، اور اسی تناسب سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔

اب خود سٹیٹ بنک نے تسلیم کیا کہ مہنگائی کی شرح 50فیصد ہے اور مزید گرانی ہو گی۔ یہ ایماندارانہ رائے ہے کہ اگر آپ پٹرول مزید مہنگا کریں گے، روپے کی قدر بھی کم ہو گی، گیس اور بجلی کے نرخ بڑھائیں گے، اور گیس کے آئندہ سلیبس ایسے ہوں گے کہ کم گیس والوں پر بوجھ زیادہ پڑے گا تو اس سے اشیا کتنی سستی ہوں گی؟ یقین جانیئے یہ جو عرض کی کچھ بھی نہیں، ذرا خود بازار جائیں، گھر کے لئے گراسری خریدیں،پھر کسی سے یہ بھی پوچھ لیں کہ یہ جو بھنڈی120 روپے فی کلو اور ٹینڈے 160 روپے فی کلو بک رہے ہیں۔ یہ اس سیزن (سابقہ) میں کس بھاؤ بکتے رہے ہیں، یہ فرق سنتے ہی آپ کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا کہ یہ اشیاء خوردنی اس رمضان میں اڑھائی سو گنا مہنگی بِک رہی ہیں اور ظلم تو یہ ہے کہ بازار میں مہنگائی کے باعث میری تنخواہ(کہ یہی میری آمدنی ہے) کی صلاحیت گزشہ برس کی نسبت آدھی رہ گئی ہے اور بجٹ آتے آتے اس میں ایک چوتھائی اور کمی کی اطلاع ہے تو حضور! مجھے بتا دیں، آپ کے فلسفے، صبر کی تلقین اچھے دِنوں کی نوید سے میرے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔ایسے ہی ایک جلے بھنے سفید پوش کا کہنا ہے، آپ بجلی اور گیس مہنگی کریں گے تو چوری بڑھ جائے گی کہ ان کمپنیوں کے سرکاری ملازمین بھی تو اس مہنگائی کی زد میں ہیں۔

آپ کہتے ہیں،سب اچھا ہے، عوام پوچھتے ہیں کہ ہمارے محافظوں کے ترجمان نے منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں پر کھلا الزام لگایا،آپ سب(پوری اسمبلی) نے انہی کے ایم این اے کی تجویز پر صاد کر دیا اور متفقہ طور پر نشستوں میں اضافے کی آئینی ترمیم منظور کر لی! کیا یہ بھی ایک ہی صفحہ ہے؟

مَیں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ماضی سے اب تک ”ملک خطرے میں ہے“ کی بات دہرائی جاتی رہی ہے،اب اس میں حقیقت ہے کہ سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں، دشمن ملک کے ایجنٹوں کے نیٹ ورک پکڑے جا رہے ہیں، دہشت گردی بھی جاری ہے ایسے میں عوام معاشی چکی میں پس گئے ہیں تو آپ ان کے جذبہ حب الوطنی کو کیسے اُبھار لیں گے۔آپ نے ملزمان کی طرف سے قومی دولت ملک سے باہر لے جانے کی بات کی اور قوم سے وعدہ کیا کہ لوٹی رقم واپس لائیں گے،کیوں نہیں لا سکے، آپ ”سٹیٹس کو“ کو توڑنے آئے، آپ کے تمام اقدامات اسے مضبوط کر رہے ہیں، بھوک تو نچلے متوسط طبقے سے متوسط طبقے کے گریبانوں تک پہنچ گئی ہے۔ ایک سفید پوش تنخواہ دار کا سوال ہے، میاں، بیوی اور دو بچوں کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہنے والے اس شہری کا ماہانہ بجٹ بنا دیں، جس کی لگی بندھی تنخواہ 40ہزار روپے ماہانہ ہے؟ اللہ کے واسطے اس قوم پر رحم کریں، اَنا پرستی چھوڑ دیں، سب سیاسی رہنما اور سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور ”سامراج“ سے نجات کے لئے متفقہ فیصلے کریں۔اپنی بساط سے زیادہ کہہ گیا ہوں، اس کی وجہ آپ بھی جانتے اور قارئین کو بھی علم ہے،اللہ کا واسطہ انارکی سے بچا لیں، جرائم بڑھ رہے ہیں تو بڑھتے رہیں گے کہ بھوک سے اگر انقلاب نہ آئے (کہ انقلابی لیڈر نہیں ہے) تو جرائم ہی بڑھتے ہیں۔

حاجی شریف کا انتقال

ایک اچھے دوست اور معزز شخص کا ذکر رہ گیا، مزنگ کی آرائیں فیملی کے اہم چشم و چراغ حاجی شریف دُنیا سے رخصت ہو گئے،گزشتہ روز نمازِ جنازہ کے بعد تدفین بھی ہو گئی، وہ نام ہی کے نہیں، کام کے بھی شریف اور اچھے دوست تھے۔ 1979ء کے بلدیاتی انتخابات میں سامنے آئے، کونسلر منتخب ہوئے اور پھر ایک وقت آیا جب ایم پی اے بھی بن گئے،بعد ازاں ان کے صاحبزادے آجاسم شریف نے بھی اسمبلی میں جگہ بنائی، 2018ء کا انتخاب نہ جیت سکے تھے، نمازِ جنازہ میں بھرپور شرکت تھی، اللہ اُن کی آخرت آسان فرمائے۔ آمین

مزید : رائے /کالم