میری ڈائری کے چند اوراق (7)

میری ڈائری کے چند اوراق (7)
میری ڈائری کے چند اوراق (7)

  

اب شام کے پانچ بج رہے تھے۔ کرتے کراتے ساڑھے پانچ بجے جوہر آباد کے لئے روانہ ہوئے اور تقریباً ساڑھے چھ بجے واپس جوہر آباد پہنچے…… گھر بات کی، سب خیریت تھی۔واپسی کے اس سفر میں ایک دو باتیں قابلِ ذکر ہیں …… میں بریگیڈیئر جنرل توکلّی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ وہ ان سوالوں پر خاصا ناراض تھا جو اس نے اس بریفنگ میں کئے تھے اور جن کا ذکر میں نے اوپر بھی کیا ہے۔ بریگیڈیئر جوادی کہ جو پاکستان میں ایران کے ملٹری اتاشی ہیں، انہوں نے جنرل کو بہت سمجھایا لیکن پھر بھی وہ ناراض ہی رہا۔ کہنے لگا کہ ہمیں صاف صاف بتا دیا جاتا تو کیا ہرج تھا۔آئیں بائیں شائیں کرنے کی کیا تُک تھی؟…… پھر کہا کہ میری نوکری 25سال ہو چکی ہے۔ میں نے امریکہ، برطانیہ اور کئی مغربی ملکوں میں پروفیشنل کورسز کئے ہیں۔ پاکستان میں سٹاف کالج کیا ہے۔ میرے سامنے اس قسم کی غلط سلط باتیں کہنے کا کیا فائدہ تھا؟جب میں نے دیکھا کہ یہ شخص چپ ہی نہیں ہو رہا تو (شائد) میری رگِ حمیت پھڑک اٹھی۔ میں نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور پوچھا: ”جنرل! یہ بتائیں کہ عراق کے خلاف جنگ میں ایران نے اپنے ارتش کو کیوں استعمال نہ کیا اور سارا بوجھ IRGC (سپاہِ پاسدارانِ انقلاب) پر کیوں ڈال دیا؟ آپ تو خود ان ایام میں شاہِ ایران کی فوج (ارتش) کا حصہ تھے، اسے محاذِ جنگ سے دور کیوں رکھا گیا؟“…… جنرل توکلّی یہ سن کر خاموش ہو گیا۔

میں نے موقع غنیمت جان کر ایک اور سوال کیا:

”جنرل صاحب! یہ بھی بتائیں کہ IRGCیعنی (Iranian Revolutionary Guard Corps) کو ریگولر ”ارتش“ (ایرانین ملٹری) کے ماتحت کیوں نہ کر دیا گیا؟…… اگر ایساہو جاتا تو کیا عراق کو جلد شکست نہیں دی جا سکتی تھی؟…… کیا حکومت کو ”ارتش“ پر اعتماد نہ تھا؟“…… یہ سوال خاصے سخت تھے اور بعد میں، میں نے محسوس کیا کہ مجھے یہ حد کراس نہیں کرنی چاہیے تھی۔ لیکن توکلّی نے پاک آرمی کی ہائر کمانڈ پر جو سوال اٹھائے، وہ مجھے تنگ کر رہے تھے۔ جنرل نے جوادی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ان سے پوچھیں …… بریگیڈیئر جوادی کے پاس بھی کوئی ٹھوس جواب نہ تھا۔ البتہ انہوں نے ایک ایسی بات کہی جو میرے لئے حیران کن تھی۔ کہنے لگے: ”فرض کریں کہ IRGC والے جو نوآموز، نو عمر اور پرجوش تھے وہ اگر ہماری (ارتش کی) بات نہ مانتے تو کیا ہوتا؟…… اسی لئے ہم نے ارتش(ریگولر ملٹری) اور IRGC کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا تھا۔

اس پر میں نے پوچھا کہ یہ عراق۔ ایران جنگ کس نے لڑی؟ کہا دونوں نے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی اضافہ کیا کہ ارتش والے، IRGC کو ٹریننگ دے رہے تھے۔ میں نے دل میں سوچا کہ ان ایام میں IRGC کے ہزاروں نوجوان شہید ہو رہے تھے، یہ کیسی ٹریننگ تھی؟ لیکن شائد ان دونوں نے (جوادی اور توکلی) نے میرا اندرونی شک پڑھ لیا تھا۔ دونوں آپس میں بات چیت کرنے لگے۔ پانچ سات منٹ گزرے اور میں خاموش رہا تو جنرل نے پوچھا آپ خاموش کیوں ہو؟…… میں نے جواب دیا:

”جوابِ جاہلاں باشد خموشی!“

میں نے عمداً یہ ذومعنی جواب دیا تھا کہ ”جاہلوں کا جواب خاموشی ہی تو ہوتا ہے“۔ جنرل توکلّی تنک کر بولے: ”خیلے بدگفتی!“…… میں نے جملے کی ذومعنویت کا سہارا لیتے ہوئے توضیحاً کہا: ”منم کہ خودم جاہلم، جوابِ مرا خاموشی بود“ (میں کہ خود جاہل تھا اور سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا بولوں اس لئے خاموشی اختیار کی) میری اس نئی وضاحت پر دونوں حیران ہو کر ہنسنے لگے اور توکلّی نے آنکھ مارتے ہوئے مجھے کہا: ”اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم جاہل تھے اور اس لئے تم خاموش رہے کہ ہم جاہلوں کو کیا جواب دیں!“…… میں نے لاحول ولا پڑھی تو زور کا قہقہہ لگایا اور کہا: ”استادتاں غلط بودے“ یعنی تمہارا استاد غلط تھا…… میں مزید سنجیدہ ہو گیا تو توکلّی بھی چپ کر گیا…… میرا مقصد بھی یہی تھا کہ یہ چپ ہو جائیں۔

رات کا کھانا ٹرین میں کھایا۔ خاصا پُرتکلف تھا۔ ٹرین کیا ہے گویا ”چلتا پھرتا“فورسٹار ہوٹل ہے۔ ہر طرح کی سہولت اس میں موجود ہے۔ کچن، لانڈری، باربر، گرم سرد پانی، ہوٹل بوائے۔ یعنی بارمین کے علاوہ سب کچھ ہے۔جنرل توکلّی چاہتا تھا کہ آرمرڈ ڈویژن کے بریک آؤٹ کا مرحلہ دیکھے۔ جنرل بیگ (COAS) نے بھی اسے یہ مرحلہ دیکھنے کو کہا تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ بریک آؤٹ R+4 یا R+5 کو متوقع تھا۔ یعنی چوتھے یا پانچویں روز…… دوسرے الفاظ میں ان ایام میں کہ جب یہ وفود واپس جا رہے ہوتے یا جا چکے ہوتے، لہٰذا مشکل تھا۔

گاڑی کے ڈائنگ سیلون میں میری ملاقات ترک جنرل سے بھی ہوئی۔ میں ترکی زبان میں اردو کے الفاظ پر بحث کرتا رہا۔ مجھے تو وہ کوئی ماہرِ لسانیات بھی لگتا تھا۔ اثنائے گفتگو میں اس نے اپنے دوست جرنیل کو ترکی میں ایک فقرہ کہا جس میں ”کوچک“ اور ”یواش“ کے الفاظ بولے۔ میں نے کہا کہ یہ دونوں لفظ فارسی میں بھی موجود اور مروج ہیں۔کوچک بمعنی Smallاور یواش بمعنی Slowly…… اس پر دونوں ترک جنرل متعجب ہوئے۔پھر ترکی کی عسکری قوت کا ذکر چل نکلا۔ اثنائے گفتگو میں NATO کا تذکرہ بھی ہوا۔ میں نے پوچھا: ”کیا ترکی کو ناٹو میں شمولیت سے کچھ فائدہ ہوا“۔ اس پر جنرل نے کہا: ”ہاں ہوا ہے۔ ہمیں جدید ترین اسلحہ جات اور ان کے استعمال کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ ہمارے پاس بہت سا اسلحہ امریکی ساخت کا ہے۔ پاکستان کے پاس اس پیمانے کا نہیں۔ ناٹو کی جنگی مشقیں بھی ہمیں جدید طریقہ ہائے جنگ سے باخبر رکھتی ہیں“۔…… میں نے سوال کیا: ”کیا اب تک ناٹو کے ساتھ آپ کو کسی حقیقی جنگ میں بھی شرکت کا موقع ملا ہے؟“…… یہ سن کر دوسرے جرنیل نے کہا: ”آپ کو پتہ ہے کہ ناٹو کا مطلب کیا ہے؟…… مستقبل کی ہمیں خبر نہیں لیکن اب تک ہمارے ہاں NATO کا مطلب یہی سمجھا جاتا ہے کہ  No Action Talking Only اور ساتھ ہی میری طرف ہاتھ بڑھایا اور تالی کی گونج میں زبردست قہقہہ لگایا…… یہ لوگ بھی کتنے حقیقت پسند ہیں …… ترک جرنیلوں کی آنکھوں میں جو چمک اور ان کے اندازِ گفتگو اور نشست و برخاست میں جو طنطنہ تھا وہ مجھے کسی دوسرے کسی ملک کے وفد کے ممبران میں دیکھنے کو نہ ملا۔

میری ملاقات ایک چینی آفیسر سے بھی ہوئی۔ یہ کوئی لیفٹیننٹ جنرل تھا۔ خاصا عمر رسیدہ لیکن چہرے مہرے سے سراسر فوجی…… 1937ء میں فوج میں شامل ہوا۔ میں نے حساب لگایا کہ اگر اس وقت اس کی عمر 17سال بھی ہو تو اس کا سن پیدائش 1920ء ہو گا اور آج اس کی عمر 70برس سے کیا کم ہو گی۔ میں نے پوچھا آپ کی عمریں دھوکے باز (Deceptive) کیوں ہیں؟ یہ سن کر ہنسنے لگا۔ اور کہا: ”میں نے وہ ساری جنگیں لڑی ہیں جو عوامی چین نے لڑی ہیں اور ان میں دوسری جنگ عظیم بھی شامل ہے۔ میں آج کل جنوبی چین کی افواج کا کمانڈر ہوں“۔ اس کے ساتھ ایک میجر جنرل، ایک فُل کرنل اور ایک لیفٹیننٹ کرنل بھی تھا۔ میں نے برماوار (1942-45ء) میں چینی افواج کی کارکردگی کا ذکر کیا۔ اور کہا کہ میں نے اس جنگ میں اتحادی کمانڈر، فیلڈ مارشل ولیم سلم  (William Slim) کی کتاب Defeat Into Victory نہ صرف پڑھی ہے بلکہ اس کا ترجمہ اپنی زبان میں بھی کیا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ کی دو افواج (Armies) برما وار میں شریکِ جنگ تھیں۔ لیکن سلم نے جب بھی آپ کی فوج ذکر کیا ہے اس میں پروفیشنل مہارت کا ذکر کم ہے اور تضحیک زیادہ ہے۔ اس پر اس نے کہا: ”وہ غلام فوج تھی۔ اس کا کمانڈر چیانگ کائی شیک تھا جو امریکہ اور برطانیہ کا پٹھو تھا۔ میں اس کی فوج میں شامل نہ تھا۔ میں تو اپنے عظیم لیڈر ماؤ کی فوج میں تھا۔ ہم لوگ وسطی چین میں چیانگ کی نام نہاد نیشنلسٹ فوج سے لڑ رہے تھے۔ میں اس قوم پرست فوج کا حصہ نہیں تھا۔ہم چیانگ سے آزادی چھین رہے تھے۔ یہ ہمارا حق تھا۔ ہمارے عظیم لیڈر نے ہم کو آزادی ء عمل دے رکھی تھی۔ ہم آزاد فوج تھے اور چیانگ کی فوج غلام فوج تھی“۔

میں نے یہاں چینی جنرل کو روکا اور کہا: ”جنرل ولیم سلم کو چینی افواج سے یہی گلہ تھا کہ وہ اگرچہ اس برٹش جنرل کے ماتحت ہو کر لڑرہی تھیں۔ لیکن ان کو جنرل سلم جو بھی حکم دیتا وہ اس کو بجا لانے میں تاخیر سے کام لیتے۔ کئی دفعہ اتنی تاخیر ہو جاتی کہ اتحادی فوج کے نرغے میں آئے ہوئے جاپانی دستے بچ کر نکل جاتے۔ سلم (Slim) نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ چینی جرنیل میرا حکم سن کر ”یس سر“ تو کہہ دیتے تھے، لیکن اپنے ہیڈکوارٹر میں جا کر وائرلیس پر چیانگ کائی شیک سے پوچھتے تھے کہ اس حکم کی تعمیل کی جائے یا نہ کی جائے…… اور ان کا یہی طرز عمل تاخیر کا باعث بنتا تھا۔“چینی آفیسرز میری باتوں کو غور سے سنتے رہے اور ان کا لیفٹیننٹ کرنل ایک نوٹ بک میں (شائد) اس گفتگو کا ریکارڈ رکھتا رہا۔      (باقی آئندہ)

مزید : رائے /کالم