اسلام اور کفرکے درمیان پہلا معرکہ

اسلام اور کفرکے درمیان پہلا معرکہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تاریخ اسلام کا وہ معرکہ خیر و شر کہ جس نے توحید و رسالت کے پرچم کو سربلند کرکے، اس دن کے سینے پر یوم الفرقان کا تمغہ ہی نہیں سجایا بلکہ اس معرکہ نے ایک کلیہ حرب بھی نمایاں کردیا کہ ”کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن اللہ“ کہ جب اللہ پر بھرسو کرنے والے میدان میں آجائیں تو فتح و تائید انہی کا نصیبہ ٹھہرتا ہے خواہ ان کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو!
اس معرکہ پر بے شمار بڑی بڑی کتب اور مضامین لکھے گئے ہیں لیکن ہم یہاں اختصار سے بنیادی باتیں نقل کر رہے ہیں مکہ والوں نے پیارے رسول اور ان کو ساتھیوں کو مکہ میں چین سے نہ رہنے دیا،جب آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ آ گئے تو یہاں بھی یلغار کرنے میں لگے رہے۔ رمضان 2ہجری کو بڑے لاﺅ لشکر کے ساتھ حملہ کرنے کو آئے، بدر کے مقام پر جب مشرکین کا لشکر نمودار ہوا اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کو دکھائی دینے لگیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے اللہ یہ قریش ہیں جو اپنے پورے غرور و تکبر کے ساتھ تیری مخالفت کرتے ہوئے اور تیرے رسول کو جھٹلاتے ہوئے آگئے ہیں۔ اے اللہ تیری مدد.... جس کا تونے وعدہ کیا ہے۔ اے اللہ آج انہیں اینٹھ کر رکھ دے۔
”اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کی صفیں درست فرمائیں۔ پھر جب صفیں درست کی جا چکیں توآپ نے لشکر کو ہدایت فرمائی کہ جب تک اسے آپ کے آخری احکام موصول نہ ہو جائیں جنگ شروع نہ کرے۔ اس کے بعد طریقہ جنگ کے بارے میں ایک خصوصی رہنمائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب مشرکین جمگھٹ کر کے تمہارے قریب آ جائیں تو ان پر تیر چلانا اور اپنے تیر بچانے کی کوشش کرنا (یعنی پہلے ہی سے فضول تیر اندازی کرکے تیروں کو ضائع نہ کرنا۔) اور جب تک وہ تم پر چھانہ جائیں تلوار نہ کھینچنا۔ اس کے بعد آپ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ چھپر کی طرف واپس گئے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنا نگران دستہ لے کر چھپر کے دروازے پر تعینات ہوگئے۔
اس معرکے کا پہلا ایندھن اسود بن عبدالاسد مخزومی تھا۔ یہ شخص بڑا اڑیل اور بدخلق تھا۔ جب یہ ادھر سے نکلا تو ادھر سے حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب برآمد ہوئے۔ دونوں میں حوض سے پرے ہی مڈبھیڑ ہوئی۔ حضرت حمزہؓ نے ایسی تلوار ماری کہ اس کا پاﺅں نصف پنڈلی سے کٹ کر اڑ گیا اور وہ پیٹھ کے بل گر پڑا۔ اس کے پاﺅں سے خون کا فوارہ نکل رہا تھا۔ جس کا رخ اس کے ساتھیوں کی طرف تھا لیکن اس کے باوجود وہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر حوض کی طرف بڑھا اور اس میں داخل ہوا ہی چاہتا تھا کہ اتنے میں حضرت حمزہؓ نے دوسری ضرب لگائی اور وہ حوض کے اندر ہی ڈھیر ہو گیا۔
اس کے بعد قریش کے تین بہترین شہسوار نکلے جو سب کے سب ایک ہی خاندان کے تھے۔ ایک عتبہ اور دوسرا اس کا بھائی شیبہ جو دونوں ربیعہ کے بیٹے تھے اور تیسرا ولید جو عتبہ کا بیٹا تھا۔ انہوں نے اپنی صف سے الگ ہوتے ہی دعوت مبارزت دی۔ مقابلے کے لئے انصار کے تین جوان نکلے۔ ایک عوفؓ دوسرے معوذؓ.... یہ دونوں حارث کے بیٹے تھے اور ان کی ماں کا نام عفراءتھا.... تیسرے عبداللہ بن رواحہؓ،قریشیوں نے کہا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: انصار کی ایک جماعت ہیں۔ قریشیوں نے کہا: آپ لوگ شریف مدمقابل ہیں لیکن ہمیں آپ سے سروکارنہیں۔ ہم تو اپنے چچیرے بھائیوں کو چاہتے ہیں۔ پھر ان کے منادی نے آواز لگائی: محمد.... ہمارے پاس ہماری قوم کے ہمسروں کو بھیجو۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: عبیدہ بن حارثؓ! اٹھو حمزہؓ! اٹھو۔ علیؓ! اٹھو۔ جب یہ لوگ اٹھے اور قریشیوں کے قریب پہنچے تو انہوں نے پوچھا۔ آپ کون لوگ ہیں؟انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ قریشوں نے کہا۔ ہاں آپ لوگ شریف مدمقابل ہیں۔ اس کے بعد معرکہ آرائی ہوئی۔ حضرت عبیدہ ؓنے جو سب سے معمر تھے.... عتبہ بن ربیعہ سے مقابلہ کیا۔ حضرت حمزہؓ نے شیبہ سے اور حضرت علیؓ نے ولید سے حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ نے تو اپنے اپنے مقابل کو جھٹ مار لیا لیکن حضرت عبیدہؓ اور ان کے مدمقابل کے درمیان ایک ایک وار کا تبادلہ ہوا اور دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو گہرا زخم لگایا۔ اتنے میں حضرت علیؓاور حضرت حمزہؓ اپنے اپنے شکار سے فارغ ہو کر آگئے، آتے ہی عتبہ پر ٹوٹ پڑے، اس کا کام تمام کیا اور حضرت عبیدہؓ کو اٹھا لائے۔ ان کا پاﺅں کٹ گیا تھا اور آواز بند ہوگئی تھی جو مسلسل بند ہی رہی یہاں تک کہ جنگ کے چوتھے یا پانچویں دن جب مسلمان مدینہ واپس ہوتے ہوئے وادی صفراءسے گزر رہے تھے ان کا انتقال ہو گیا۔اس مبارزت کا انجام مشرکین کے لئے ایک برا آغاز تھا۔ وہ ایک ہی جست میں اپنے تین بہترین شہ سواروں اور کمانڈروں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس لئے انہوں نے غیض و غضب سے بے قابو ہو کر یکبارگی حملہ کر دیا۔
دوسری طرف مسلمان اپنے رب سے نصرت اور مدد کی دعا کرنے اور اس کے حضور اخلاص و تضرع اپنانے کے بعد اپنی اپنی جگہوں پر جمے اور دفاعی موقف اختیار کئے مشرکین کے تابڑ توڑ حملوں کو روک رہے تھے اور انہیں خاصا نقصان پہنچا رہے تھے۔ زبان پر احد احد کا کلمہ تھا۔
ادھر رسول اللہﷺ صفیں درست کرکے واپس آتے ہی اپنے پاک پروردگار سے نصرت و مدد کا وعدہ پورا کرنے کی دعا مانگنے لگے۔ آپ کی دعا یہ تھی:”اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرے وعدے کا سوال کر رہا ہوں۔“
پھر جب گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی، نہایت زور کا رن پڑا اور لڑائی شباب پر آگئی تو آپ نے یہ دعا فرمائی۔”اے اللہ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو تیری عبادت کبھی نہ کی جائے گی۔ اے اللہ! اگر تُو چاہے کہ آج کے بعد تیری عبادت ہو تو مدد فرما۔آپ نے خوب تضرع کے ساتھ دعا کی یہاں تک کہ دونوں کندھوں سے چادر گر گئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے چادر درست کی اور عرض پرواز ہوئے، اے اللہ کے رسول! بس فرمایئے! آپ نے اپنے رب سے بڑے الحاح کے ساتھ دُعا فرمالی۔ ادھر اللہ نے فرشتوں کی وحی کی کہ:”میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہل ایمان کے قدم جماﺅ، میں کافروں کے دل میں رعب ڈال دوں گا۔“اور رسول اللہﷺ کے پاس وحی بھیجی کہ:”میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے“۔
اس کے بعد رسول اللہﷺ کو ایک جھپکی آئی۔ پھر آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا! ابوبکر خوش ہو جاﺅ، تمہارے پاس اللہ کی مدد آگئی۔ یہ جبریل علیہ السلام ہیں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اور اس کے آگے آگے چلتے ہوئے آ رہے ہیں اور گردوغبار میں اٹے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ چھپر کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ آپ نے زرہ پہن رکھی تھی۔ آپ پرجوش طور پر آگے بڑھ رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے۔”عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔“اس کے بعد آپ نے ایک مٹھی کنکریلی مٹی لی اور قریش کی طرف رخ کرکے فرمایا: ”چہرے بگڑ جائیں“ اور ساتھ ہی مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینک دی۔ پھر مشرکین میں سے کوئی بھی نہیں تھا جس کی دونوں آنکھوں، نتھنے اور منہ میں اس ایک مٹھی مٹی میں سے کچھ نہ کچھ گیا نہ ہو۔ اسی کی بابت اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
”جب آپ نے پھینکا تو درحقیقت آپ نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔“
رسول اللہﷺ نے جوابی حملہ کا حکم صادر فرمایا دشمن کے حملوں کی تیزی جا چکی تھی اور ان کا جوش و خروش سرد پڑ رہا تھا۔ اس لئے یہ باحکمت منصوبہ مسلمانوں کی پوزیشن مضبوط کرنے میں بہت موثر ثابت ہوا، کیونکہ صحابہؓ کرام کو جب حملہ آور ہونے کا حکم ملا اور ابھی ان کا جوش جہاد شباب پر تھا تو انہوں نے نہایت سخت تند اور صفایا کن حملہ کیا وہ صفوں کی صفیں درہم برہم کرتے اور گردنیں کاٹتے آگے بڑھے۔ ان کے جوش و خروش میں یہ دیکھ کر مزید تیزی آگئی کہ رسول اللہﷺ بہ نفس نفیس زرہ پہنے تیز تیز چلتے تشریف لا رہے ہیں اور پورے یقین و صراحت کے ساتھ فرما رہے ہیں کہ ”عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا، اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔“ اس لئے مسلمانوں نے نہایت پرجوش و پرخروش لڑائی لڑی اور فرشتوں نے بھی ان کی مدد فرمائی۔ چنانچہ ابن سعد کی روایت میںحضرت عکرمہؓسے مروی ہے کہ اس دن آدمی کا سرکٹ کر گرتا اور یہ پتا نہ چلتا کہ اسے کس نے مارا اور آدمی کا ہاتھ کٹ کر گرتا اور یہ پتا نہ چلتا کہ اسے کس نے کاٹا۔
ابلیس لعین، سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں آیا تھا اور مشرکین سے اب تک جدا نہیں ہوا تھا، لیکن جب اس نے مشرکین کے خلاف فرشتوں کی کارروائیاں دیکھیں تو الٹے پاﺅں پلٹ کر بھاگنے لگا، مگر حارث بن ہشام نے اسے پکڑ لیا، وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ واقعی سراقہ ہی ہے، لیکن ابلیس نے حارث کے سینے پر ایسا گھونسا مارا کہ وہ گر گیا اور ابلیس نکل بھاگا، مشرکین کہنے لگے: سراقہ کہاں جا رہے ہو؟ کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم ہمارے مدد گار ہو ہم سے جدا نہ ہو گے؟ اس نے کہا! میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جسے تم نہیں دیکھتے۔ مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے اور اللہ بڑی سخت سزا والا ہے، اس کے بعد بھاگ کر سمندر میں جا رہا۔تھوڑی دیر بعد مشرکین کے لشکر میں ناکامی اور اضطراب کے آثار نمو دار ہو گئے۔ ان کی صفیں درہم برہم ہونے لگیں ۔البتہ ابو جہل اب بھی اپنے گرد مشرکین کا ایک غول لئے جما ہوا تھا۔اس کی موت دو انصاری جوانوں کے ہاتھوں اس کا خون چوسنے کی منتظر تھی۔حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کا بیان ہے کہ میں جنگ بدر کے روز صف کے اندر تھا کہ اچانک مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دائیں بائیں دو نو عمر جوان تھا۔ گویا ان کی موجودگی سے میں حیران ہو گیا کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپا کر مجھ سے کہا: چچا جان! مجھے ابو جہل کو دکھلا دیجئے۔ میں نے کہا بھتیجے تم اسے کیا کرو گے؟ اس نے کہا: مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ کو گالی دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہ ہو گا۔ یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے لکھی ہے وہ مر جائے۔ دوسرے نے مجھے اشارے سے متوجہ کرکے یہی بات کہی۔ میں نے چند ہی لمحوں بعد دیکھا کہ ابو جہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے کہا: ارے دیکھتے نہیں! یہ رہا تم دونوں کا شکار جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔ ان کا بیان ہے کہ یہ سنتے ہی وہ دونوں اپنی تلواریں لیے جھپٹ پڑے اور اسے مار دیا۔ پھر پلٹ کر رسول اللہ کے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا: تم میں سے کس نے قتل کیا ہے؟ دونوں نے کہا: میں نے قتل کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اپنی اپنی تلواریں پونچھ چکے ہو؟ بولے نہیں۔ آپ نے دونوں کی تلواریں دیکھیں اور فرمایا: تم دونوں نے قتل کیا ہے۔ البتہ ابو جہل کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو دیا دو حملہ آوروں کا نام معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفرا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ابو جہل کا سر کاٹ لیا اور رسول اللہ کی خدمت میں لا کر حاضر کرتے ہوئے عرض کیا: یارسول اللہ! یہ رہا اللہ کے دشمن ابو جہل کا سر۔ آپ نے تین بار فرمایا: واقعی۔ اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے بعد فرمایا:” اللہ اکبر، تمام حمد اللہ کے لئے ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد فرمائی، اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دی“۔
پھر فرمایا: چلو مجھے اس کی لاش دکھاﺅ۔ ہم نے آپ کو لے جا کر لاش دکھائی۔ آپ نے فرمایا: یہ اس امت کا فرعون ہے۔
اس جنگ میں حضرت عکاشہ بن محصن اسدیؓ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ وہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے انہیں لکڑی کا ایک پھٹا تھما دیا اور فرمایا عکاشہ! اسی سے لڑائی کرو۔ عکاشہ نے اسے رسول اللہ سے لے کر ہلایا تو وہ ایک لمبی، مضبوط اور چم چم کرتی ہوئی سفید تلوار میں تبدیل ہو گیا۔ پھر انہوں نے اسی سے لڑائی کی یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ اس تلوار کا نام عون، یعنی مدد، رکھا گیا تھا۔ یہ تلوار مستقلاً حضرت عکاشہؓ کے پاس رہی اور وہ اسی کو لڑائیوں میں استعمال کرتے رہے یہاں تک کے دور صدیقی میں مرتدین کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس وقت بھی یہ تلوار ان کے پاس ہی تھی۔
خاتمہ جنگ کے بعد حضرت معصب بن عمیر عبدریؓ اپنے بھائی ابو عزیز بن عمیر عبدری کے پاس سے گزرے۔ ابو عزیز نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑی تھی اور اس وقت ایک انصاری صحابی اس ہاتھ باندھ رہے تھے۔ حضرت معصبؓ نے اس انصاری سے کہا: اس شخص کے ذریعے اپنے ہاتھ مضبوط کرنا، اس کی ماں بڑی مالدار ہے وہ غالباً تمہیں اچھا فدیہ دے گی۔ اس پر ابو عزیز نے اپنے بھائی مصعب سے کہا: کیا میرے بارے میں تمہاری یہی وصیت ہے؟ حضرت مصعب نے فرمایا.... (ہاں!) تمہارے بجائے یہ.... انصاری.... میرا بھائی ہے۔
یہ معرکہ مشرکین کی شکستِ فاش اور مسلمانوں کی فتح مبین پر ختم ہوا اوراس میں چودہ مسلمان شہید ہوئے۔ چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے، لیکن مشرکین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بڑے بڑے ستر آدمی مارے گئے۔اس معرکہ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی، آلات حرب نہ تھے، سازو سامان بھی نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید و نصرت سے یوں نوازا کہ کفر پر دھاک بیٹھ گئی۔
٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -