”ہمیں ایسی کوئی دستاویز ہی نہیں ملی جس سے۔۔۔“ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءنے اسحاق ڈار کو کلین چٹ دیدی

”ہمیں ایسی کوئی دستاویز ہی نہیں ملی جس سے۔۔۔“ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ ...
”ہمیں ایسی کوئی دستاویز ہی نہیں ملی جس سے۔۔۔“ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءنے اسحاق ڈار کو کلین چٹ دیدی

  


اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں واجد ضیاءپرجرح کے دور ان نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہاہے کہ سارے سوالات ایک اشتہاری شخص سے متعلق پوچھے جا رہے ہیں، اشتہاری شخص سے متعلق جرح نہیں ہو سکتی جو شخص عدالت سے بھاگا ہوا ہے اس سے متعلق پوچھا جا رہا ہے جبکہ واجد ضیاءنے بتایا ہے کہ ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جس سے اسحاق ڈار کے خفیہ اثاثے ظاہر ہوں۔ بدھ کو سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیر نے کی۔ دور ان سماعت نعیم محمود اور منصور رضا رضوی کے وکیل قاضی مصباح نے مرکزی گواہ واجد ضیاءپر جرح کی۔

وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہاکہ کیا جے آئی ٹی نے ماہر معاشیات سے مدد لی گئی تھی۔واجد ضیاءنے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ جے آئی ٹی نے ماہر معاشیات سے مدد لی تھی۔قاضی مصباح نے کہاکہ کیا ایف بی آر نے مکمل ریکارڈ جے آئی ٹی کو فراہم کیا تھا۔ واجد ضیاءنے کہاکہ ایف بی آر نے مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا تھا۔واجد ضیاءنے کہاکہ 1981 سے 1985 تک کا ریکارڈ ایف بی آر نے فراہم نہیں کیا ہے،جے آئی ٹی کے علم میں تھا کہ اسحاق ڈار نے اپنے غیر ملکی اثاثے الیکشن کمیشن میں ظاہر کیے تھے۔انہوںنے کہاکہ ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جس سے اسحاق ڈار کے خفیہ اثاثے ظاہر ہوں۔وکیل صفائی نے کہاکہ کیا آپ کے علم میں ہے اسحاق ڈار کی ہجویری فاﺅنڈیشن 90 یتیم بچوں کی کفالت کر رہی ہے ؟

واجد ضیاءنے کہاکہ مجھے یاد نہیں بچوں کی کفالت کی جاتی تھی یا کتنے بچے تھے۔وکیل صفائی نے کہاکہ آپ کو یاد نہیں تو ہم آپ کو یاد دلا دیتے ہیں،آپ کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ دیکھ لیتے ہیں۔وکیل صفائی نے کہاکہ آپ کی رپورٹ میں لکھا ہے ہجویری ٹرسٹ اور فاﺅنڈیشن فلاحی ادارے ہیں۔ واجد ضیاءنے کہاکہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہجویری ٹرسٹ رمضان راشن، مریضوں کو مالی معاونت اور ایسے کام کرتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی نے ہجویری فاﺅنڈیشن کے کسی ایسے پراجیکٹ کی تفصیلات حاصل نہیں کیں۔

انہوں نے کہاکہ درست ہے کہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی کے سامنے بیان دیا تھا ،درست ہے کہ اسحاق ڈار نے کہا 1999 میں آئی ایس آئی اور نیب نے ان کا ٹیکس ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔ وکیل صفائی نے کہاکہ کیا آپ نے اسحاق ڈار کے اس بیان کی حقیقت معلوم کی تھی ؟ واجد ضیاءنے کہاکہ ہم نے اس بیان کی کہیں سے کوئی تصدیق نہیں کی۔ وکیل صفائی کے سوالات پر نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہاکہ سارے سوالات ایک اشتہاری شخص سے متعلق پوچھے جا رہے ہیں۔

افضل قریشی نے کہاکہ اشتہاری شخص سے متعلق جرح نہیں ہو سکتی جو شخص عدالت سے بھاگا ہوا ہے اس سے متعلق پوچھا جا رہا ہے۔بعد ازاں اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس پر سماعت 29مئی تک ملتوی کر دی گئی۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد