دیکھنے ہم بھی گئے پر تماشہ نہ ہوا

دیکھنے ہم بھی گئے پر تماشہ نہ ہوا
دیکھنے ہم بھی گئے پر تماشہ نہ ہوا

  

دیکھنے ہم بھی گئے پر تماشہ نہ ہوا کے مصداق بلاول بھٹو کی دعوت افطار کھانے پینے تک ہی محدود رہی، چلے تھے حکومت مخالف مشترکہ تحریک چلانے مگر مقصد سے عاری اپوزیشن اکٹھ خود ہی کسی بات پر متفق نہ ہو سکا،ملکی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ آج تک ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاست ایک دوسرے کی مخاصمت کی حد تک مخالفت کی بنیاد پر استوار رہی۔ماضی میں جھانکیں تو ضیاء الحق نے ن لیگ کی بنیاد ہی پیپلز پارٹی کو سیاسی میدان سے آئوٹ کرنے کیلئے رکھی تھی،مگر اسلام کے نام پر ملک کو لسانی اور مذہبی گروہوں کے سپرد کرنے والے جرنیل کو بھی ہزیمت کا سامنا کرناپڑا اور پیپلز پارٹی کا وجود اور سیاسی کردار جرنیل کے وظیفہ خوار ختم نہ کرسکے۔ تاریخ شاہد ہے کہ عوام کو بیوقوف بناکر ووٹ لینے والی ان دونوں جماعتوں کی قیادت کو جب کبھی اپنی سیاست اور لوٹی دولت خطرے میں دکھائی دی دونوں جماعتوںکی قیادت اختلافات کو بھلا کر ایک ہو گئی اور جیسے ہی خطرہ ٹلا عوام کو بیوقوف بناتے ہوئے ایک بار پھر باہمی مخالفت پر کمر کس لی،ایوب خان اور ضیاء الحق کی باقیات یہ دونوں جماعتیں عرصہ دراز سے جمہوریت کے نام پر عوام کو الو بنا رہی ہیں،حالانکہ جمہوریت نام کا جانور خود ان کی پارٹی میں بھی دکھائی نہیں دیتا،باپ کے بعد بیٹا،بھائی یا بیٹی ہی قیادت کے حقدار جانے گئے۔

ملکی سیاست میں نواز شریف کا کردار تقریباً ختم ہو چکا، خبریں اڑ رہی ہیں شہبازشریف جلد واپس نہیں آئیں گے ،اگر یہ خبریں مبنی بر حقیقت نہیں بھی ہیں تو پھر بھی شہباز شریف کا مستقبل کی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے۔ڈوبتی سیاسی نائو کو بچانے کیلئے مریم نواز کو پارٹی کی سربراہی دینے کے بجائے نائب صدارت سونپی گئی،کہ پارٹی صدارت ان کے سپرد کرنے سے پارٹی تتر بتر ہو جانے کا خدشہ تھا،پارٹی عہدہ ملنے کے بعد مریم نواز کی بلاول بھٹو کی افطار پارٹی میں شرکت پہلا بڑا سیاسی شو تھا،مگر نام بڑے اور درشن چھوٹے والا معاملہ ہوا،افطار پارٹی کے شرکاء حکومت مشترکہ تحریک چلانے پر ہی آمادہ نہ ہو پائے،تحریک پر اتفاق رائے تھا مگر ہر جماعت اپنے اپنے طور پر تحریک چلانے پر بضد رہی، اس عدم اتفاق کی وجہ بھی ڈھکی چھپی نہیں سب جانتے ہیں کہ اپوزیشن کی تحریک عوامی یا ملکی مفاد میں نہیں، عوامی مسائل مشکلات کا حل اپوزیشن کے ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں،حکومت مخالف تحریک دراصل نیب زدہ سیاست دانوں کی مقدمات سے جان چھڑانے،لوٹی دولت کو تحفظ دینے اور گرفتاریوں سے بچنے کیلئے حکومت کو بلیک میل کرنے کی ایک کوشش ہے۔جو جماعتیں نیب کے نشانہ پر نہیں ان کو ایسی کسی تحریک سے کوئی دلچسپی نہیں۔عوام کی اکثریت یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہے کہ جن پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ اپنی بیگناہی ثابت کرنے کی بجائے محاذ آرائی پر کیوں اترنے کو بیتاب ہیں،نواز شریف، آصف زرداری سمیت نیب کی زد میں آئے ہرفرد کا دعویٰ ہے کہ الزامات بے بنیاد اور سیاسی نوعیت کے ہیں ۔اگرواقعی ایسا ہے تو پھر فرار ہونے یا جنگ آزمائی کرنے کی کیا تک ہے،نیب کی انکوائری میں شامل ہو کر یا عدالت میں پیش ہو کر اپنی صفائی دیں، ذرائع آمدن ظاہر کریں اور بتائیں کہ یہ جائیداد اس ذریعے سے بنائی گئی ہے،معاملہ چند روز میں ختم ہو جائیگا، مگر یہ مختصر راستہ اپنانے کی بجائے معاملات کو خود ہی طول دینے کی کوشش کی جا رہی ہے،جو دال میں کچھ کالا ہونیکا نہیں بلکہ ساری دال کالی ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

ملک آج اپنی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے،معاشی حالت دگر گوں ہے،بیرونی قرضے وبال جان بنے ہوئے ہیں،قرضوں کے سود اور قسط کی ادائیگی کیلئے بھی قرض لینا مجبوری بن چکا ہے،ان حالات میں میثاق معیشت کی ضرورت ہے،اصل ضرورت آج ملکی معیشت کو دبائو سے نجات دینے کی ہے مگر اپوزیشن اپنی قومی ذمہ داری فراموش کر کے حکومت پر سیاسی دبائو بڑھانے کی فکر میں مبتلا ہے،دیانتداری سے سوچا جائے تو آج ملک کو جس معاشی بحران کا سامنا ہے اس کی ذمہ دار پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی ماضی کی حکومتیں ہیں،ہونا یہ چاہئے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کو پیشکش کریں کہ جو گند ان کی وجہ سے پڑا ہے آئو اسے مل کر صاف کرتے ہیں مگر یہ لوگ مزید گندگی پھیلانے کے درپے ہیں۔

سیاسی نقشہ جو مجھے دکھائی دے رہا ہے اتنا سا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کسی حکومت مخالف تحریک کیلئے متحد نہیں،کہ ان کے باہمی اختلافات ہی بہت زیادہ ہیں۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی دوسر ے تیسرے درجے کی قیادت ان دونوں جماعتوں کی شراکت پر ہی آمادہ نہیں ،قیادت نے اگر ایسے کسی ایڈونچر کا فیصلہ کیا تو کارکن تو کیا مقامی قائد ین بھی اس فیصلہ سے دور ہی رہیں گے۔

قیادت کی کرپشن بچانے کیلئے اب کوئی قربانی کابکرا بننے کو تیار نہیں اور یہ حقیقت جلی حروف سے دیوار پر لکھی ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ