نیب ایگزیکٹو بورڈ نے مزید چار ریفرنسز دائر کرنے اور 3 انکوائریز کی منظوری دیدی

نیب ایگزیکٹو بورڈ نے مزید چار ریفرنسز دائر کرنے اور 3 انکوائریز کی منظوری ...
نیب ایگزیکٹو بورڈ نے مزید چار ریفرنسز دائر کرنے اور 3 انکوائریز کی منظوری دیدی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکاﺅنٹیبلٹی، ڈی جی آپریشن، ڈی جی نیب راولپنڈی اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔ تمام انکوائریاں مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جو کہ حتمی نہیں۔ نیب قانون کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کرنے کے بعد مزید کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بدعنوانی کے 4 ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ جن کی تفصیلات درج ذیل ہے

1۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں چوہدری رشید احمد، سابق ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان نے مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے سے 28.5 ملین روپے کی رقم ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے ساتھ مل کر نکلوانے کی کوشش کی جس کو بروقت کارروائی کے ذریعے پی اے آر سی نے ناکام بنادیا۔

2۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں نعیم الدین خان سابق صدر بنک آف پنجاب اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طو رپر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بنک آف پنجاب کے شیئرز کی خرید و فروخت میں انسائڈ ٹریڈنگ کرنے کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر 10.385 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

3۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں گلاب خان سیکرٹری کراچی پورٹ ٹرسٹ آفیسرز کو آپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری زمین کو غیر قانونی طور پر قواعد و ضوابط کے خلاف من پسند افراد کو الاٹ کرنے کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر 110 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

4۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں منظور قادر سابق ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کراچی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نہر اخیام کراچی میں سرکاری زمین میسرز فرینڈز ایسوسی ایٹس کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کا الزام ہے۔ جس سے قومی کزانے کو مبینہ طور پر تین ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں تین انکوائریوں کی منظوری دی گئی جن میں سید طلعت محمود سابق چیف آپریٹنگ آفیسر زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ اور دیگر ناصر اقبال بوسال رکن قومی اسمبلی اور امداد اللہ بوسال سابق سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ پنجاب اور میسر زرداری گروپ پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے پنجاب رینیوایبل انرجی کمپنی لمیٹڈ کی انتظامیہ/ افسران/ اہلکاران اور دیگر اور قائداعظم ونڈو پاور کمپنی لمیٹڈ کی انتظامیہ /افسران/اہلکاران اور دیگر کے خلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق انکوائری ختم کرنے کی منظوری دی۔

چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب ”احتساب سب کے لئے“ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اور عوام کی لوٹی گئی رقم کی واپسی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے جس کا خاتمہ نیب سمیت تمام پاکستانیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ وہ بدعنوان عناصر، اشتہاری اور مفرور ملزمان کے مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فریضہ سمجھتا ہے اور نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد