پنجاب کی مجوزہ تقسیم کے خلاف پنجابی پرچار تنظیم نے آواز اٹھا دی

پنجاب کی مجوزہ تقسیم کے خلاف پنجابی پرچار تنظیم نے آواز اٹھا دی
پنجاب کی مجوزہ تقسیم کے خلاف پنجابی پرچار تنظیم نے آواز اٹھا دی

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پنجابی پرچار تنظیم نے کہا ہے کہ پنجاب کی مجوزہ تقسیم کو اہل پنجاب نے رد کر دیاہے ، صوبے کی تقسیم پنجاب کاامن تباہ کرنے کے مترادف ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص لسانی گروہ کو ہوا دے کرپنجاب کے اندر انتشار پھیلانے کی پوری تیاری ہو چکی ہے جسے ہم پنجاب کے شہری ہر سطح پر رد کرتے ہیں بعض سیاسی پارٹیاں انتظامی بنیادوں کا شوشا چھوڑ کر اپنی سیاست چمکانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب انتظامی لحاظ سے آج بھی باقی سبھی صوبوں سے بہتر پوزیشن میں ہے ، وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بات کے بجائے تقسیم کا نعرہ ایک سیاسی چال ہے جس کے اثرات نا صرف پنجاب پر بلکہ پورے پاکستان پر بہت برے پڑیں گے ، ان خیالات کااظہار صدر پنجابی پرچار احمد رضا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر بزرگ پنجابی شاعر بابا نجمی نے کہا کہ پنجاب کی تقسیم پنجاب کا قومیتی نقشہ بگاڑنے کی سازش ہے جسے ہم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے ، اگر سندھ بلوچستان اور کے پی کے کی دھرتیاں وہاں کے باسیوں کے لیے مقدس ہیں تو پنجاب کیوںنہیں ، پنجاب ہماری ماں دھرتی ہے جسے ہم تقسیم ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر جمیل پال نے کہا کہ جن باتوں کو بہانہ بنا کر پنجاب کی تقسیم کی جارہی ہے کیا وہ پنجاب سے ذیادہ دوسرے صوبوں میں پائے جاتے ہیں کیا انتظامی مسائل صرف پنجاب کے اندر ہیں اگر ہیں بھی تو ہم اس بات کی مکمل تائید کرتے ہیں کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے ، اس طرح کی بندر بانٹ سے مسائل بڑھیں گے ، انہوں نے اس جواز کو بھی رد کر دیا کہ جنوبی پنجاب سے لاہور دور ہے گھوٹکی سے کراچی کی دوری اس سے ذیادہ ہے ، یہ کیسی دوہری پالیسی ہے کہ صرف پنجاب کے اندر ہی غیر ضروری چیزوں کو جواز بنا کر اس کی تقسیم کی بات کی جاتی ہے

پنجابی پرچار کے جنرل سیکرٹری طارق جتالہ نے کہا کہ جب کوئی حکومت ڈلیور کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے ایسی کوششیں کرتی ہے ، اپنی نااہلی کو پنجاب کی تقسیم کے پیچھے چھپانا نا عقل مندی ہے اور نا ہم انہیں ایسا کرنے دیں گے، نئے صوبے بنانے کی اگر ضرورت ہے تو ایک آزاد کمیشن بنایا جائے جو پورے پاکستان میں ایک ہی وقت میں نئے صوبے بنائے ناں کہ ایک صوبہ بنا کر اگلے ستر سال نئے صوبوں کی راہ ہموار کرنے میں لگے رہیں، بھلی کھا میڈیا گروپ کے چیئرمین مدثر اقبال بٹ نے کہا کہ اگر محرومیاں دور کرنے کے لیے نئے صوبے بنانا ضروری ہے تواندرون سندھ میں چھوٹے چھوٹے صوبے بنا دیے جائیں جائیں ، پھر فاٹا کو کے پی میں کیوں ملایا گیا الگ صوبہ کیوں نا بنایا گیا ، بلوچستان کی غربت ختم کرنے کے لیے الگ صوبے کیوں نہیں بنائے جاتے ،محرومیاں ضرور دور کی جائیں لیکن پنجاب کی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے پنجابی پرچار کے نائب صدرمیاں آصف علی کا کہنا تھا پنجاب کی تقسیم جنوبی پنجاب کے لیے تباہ کن ہو گی نا صرف یہ کہ یہ خطہ جاگیر داروں کے پنجوں میں چلا جائے گا بلکہ اسی طرح لسانی فسادات کا بھی خطرہ ہے جس طرح ستر اور اسی کی دہائی میں سندھ میں پنجابیوںکو بیدخل کرنے کے لیے برپا کیے گئے تھے اور ہزاروں پنجابیوں کا قتل اغواءعصمت دری اور حملوں کے نتیجے میں لاکھوں پنجابی سندھ سے نکالے گئے تھے اور حالیہ دنوں میں بلوچستان سے پنجابیوں کو بے رحمانہ ہجرت پر مجبور کر دیا گیا ہے اس لیے نئے صوبے کے بجائے وسائل کی برابری کو یقینی بنایا جائے،رابطہ کے لیے ۔

مزید : قومی