ریلوے کا آن لائن بکنگ کا نظام فیل ہو گیا

ریلوے کا آن لائن بکنگ کا نظام فیل ہو گیا

  

وفاقی وزیر ریلوے نے جمعہ کے روز سے راولپنڈی، ملتان، پشاور،لاہور،سکھر اور کوئٹہ میں ریلوے سفر کے لئے ٹکٹوں کی بکنگ کی غرض سے بکنگ دفاتر میں ایک ایک کھڑکی کھولنے کی ہدایت کی جہاں صبح 8بجے سے5 بجے سہ پہر تک مسافروں کی بکنگ کی ذمہ داری پوری کی جائے گی،وزیر ریلوے کو یہ اہتمام اِس لئے کرنا پڑا کہ ریلوے کا آن لائن ریزرویشن کا نظام ابتدا ہی میں بیٹھ گیا اور اب آن لائن بکنگ ممکن نہیں رہی،مسافروں کو کورونا سے بچاؤ کے لئے یہ سہولت فراہم کی گئی تھی کہ وہ گھر بیٹھے اپنے لئے نشست محفوظ کرا لیں،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے کے خواہش مند موصوف نے اپنی سیاسی مصروفیات کے پیش نظر ماہرین کی تجویز تو منظور کر لی،لیکن تفصیلی غور نہ کیا گیا کہ یہ امر قدرتی تھا کہ طویل لاک ڈاؤن کے بعد جب ریلوے سفر شروع ہو گا تو مسافروں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہو گی،جو عرصہ سے دوسرے شہروں میں قرنطینہ جیسی حالت میں ہیں،چنانچہ جو نتیجہ برآمد ہونا تھا وہ ہوا اور آن لائن نظام دباؤ برداشت نہیں کر سکا اور بیٹھ گیا، چلئے ابتدائی خواہش تو پوری ہوئی، تاہم اب ایس او پیز کا کیا بنے گا کہ بڑے شہروں میں ایک کھڑکی پر جو رش ہو گا اس میں سماجی فاصلے برقرار نہیں رہ سکیں گے،اِسی لئے شاید وزیر صاحب نے مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کا خیال خود رکھیں، نئے دور کے نئے تقاضوں کے مطابق ای نظام یا ڈیجیٹل سسٹم کا اختیار کرنا ایک مجبوری ہے اور درجہ بدرجہ تمام شعبوں میں اسے رائج کرنا ہو گا، تاہم ایسا کرنے کے لئے لازم ہے کہ پہلے فزیبلٹی تیار کی جائے کہ جس مقصد کے لئے ای نظام شروع کرنا ہے اس کی ضروریات کتنی اور سافٹ ویئر کیا تیار ہونا چاہئے،اعداد و شمار کے بغیر کام شروع کر دینے سے ایسا ہی نتیجہ نکلتا ہے، جو ریلوے ٹکٹنگ کے نظام کا ہو۔

مزید :

رائے -اداریہ -