مرد بحران،آصف علی زرداری، افواہیں اور وضاحتیں!

مرد بحران،آصف علی زرداری، افواہیں اور وضاحتیں!
مرد بحران،آصف علی زرداری، افواہیں اور وضاحتیں!

  

میرے نزدیک سابق صدر اور پیپلزپارٹی (پارلیمنٹیرین) کے صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے حالات حاضرہ میں لکھنا کافی مشکل اور اہم بھی ہے کہ سابق صدرحقیقی طور پر سخت علیل ہیں، وہ اس عمر میں دل، شوگر، بلڈ پریشر، کمردرد اور رعشہ کے امراض میں مبتلا ہیں اور ان کے علاج کے لئے ڈاکٹروں کی ایک پوری ٹیم مقرر ہے میں ایک ہفتے سے ان کے بارے میں لکھنے کا سوچ رہا تھا تاہم انتظار اس لئے کرنا پڑا کہ ان کے حوالے سے ان کی جماعت کی طرف سے کوئی معتبر وضاحت سامنے نہ آئی کیونکہ سوشل میڈیا سے چلائی گئی مہم کنفیوژن پھیلا رہی تھی۔ میرے نزدیک گزشتہ روز عبدالرحمن ملک کا بیان اور آج پیپلزپارٹی کی سرکاری پریس ریلیز زیادہ معتبر ہے اور اسی حوالے کے بعد یہ سطور تحریر کرنے کا ارادہ کیا۔آصف علی زرداری جنہوں نے بھرپور زندگی گزاری، اب یقینی طور پر سخت علیل ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ نیب ریفرنسوں کے حوالے سے ضمانت کی منسوخی کا خوف ہے جس کی وجہ سے وہ منظرعام پر نہیں آ رہے،مجھے افسوس ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے ان کے انتقال کی افواہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی وفات کے حوالے سے انکشاف اور الزام تراشی والی ویڈیوز وائرل ہونے کے باوجود ہمارے بھائیوں نے دلچسپی لے کر حقیقی خبر تلاش نہیں کی، حالانکہ یہ کوئی زیادہ مشکل کام بھی نہیں۔ میری گزارش کے باوجود جب کوئی پیش رفت نہ کی گئی تو میں نے خود ہی اپنے تعلقات استعمال کئے اور اس نتیجے پر پہنچا جو عرض کیا ہے اور اب وضاحت ہوئی تو یہ سطور لکھ بھی رہا ہوں۔

یہ تحریک ایک ایسی ویڈیوسننے کے بعد ہوئی جسے انتہائی افسوسناک کہا جا سکتا ہے، کسی ا ہم ا ور عزیز دوست کی طرف سے بھیجی گئی یہ ویڈیو ایک باریش بزرگ کی ہے (احتراماً لکھا، ورنہ جو ان کی زبان ہے وہ اس کا اہل نہیں گردانتی) اس ویڈیو میں یہ صاحب بہت ہی واہی تباہی فرما رہے ہیں۔ انہوں نے آصف علی زرداری تو کجا محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو بھی نہیں بخشا اور بہت بے ہودگی سے الزامات لگائے اس کالم کا محرک ان حضرت کی یاواگوئی کا وہ حصہ ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری دنیا سے رخصت ہو چکے، ان کی نعش کو ایک سردخانے میں چھپا کر محفوظ کیا گیا ہوا ہے اور ان کے لواحقین ان کی وفات کا اعلان 27رمضان المبارک کو کریں گے۔ ان موصوف نے ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر ان کی بات غلط ہو تو ان کو جو چاہے،سزا دی جائے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اگر ایسا نہیں تو آصف علی زرداری کی کوئی تازہ ویڈیو وائرل کی جائے جو ان کی زندگی کا ثبوت دے۔ بوجوہ میں نے 27رمضان المبارک (شب قدر) کا بھی انتطار کر لیا موت کا اعلان تو نہ ہوا، البتہ وہ وضاحتیں سامنے آ گئیں جن کا میں نے ذکر کیا، اب ان ’مولوی‘ صاحب اور موت کے خواہش مند حضرات کو اپنی سزا خود ہی تجویز کر لینا چاہیے کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کے لاکھوں جیالوں اور خود آصف علی زرداری کے اہل و عیال کو دکھ پہنچایا اور ان کے مخالفین کو خوش کیا، جواب یقینا مایوس بھی اتنے ہوئے ہوں گے جتنے خوش تھے۔

میں اس ساری صورت حال میں ایسی حرکات کے مقاصد پر بھی غور کرتا رہا ہوں اور یہ صرف اتنی سی بات نظر نہیں آتی کہ کوئی صاحب اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے گالیوں سے نوازتے اور آصف علی زرداری کی موت کے خواہاں ہیں، اس کے محرکات کچھ اور بھی ہیں اور ان کے بارے میں جب اپنے ذرائع سے بات کی تو انہوں نے انکشاف کیا، ان مخالفین کی یہ خواہش ہی نہیں مقصد ہے کہ آصف علی زرداری رخصت ہو جائیں، تاکہ ان کے وفات پا جانے سے یکایک ایک خلا پیداہو گا اور آصف علی زرداری کے قریبی حضرات کو نقصان ہوگا، جو اس وقت جماعتی طورپر بھی بلاول کو چلنے نہیں دیتے، ہمارے ایک مہربان نے یوں تبصرہ کیا کہ ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ بلاول کو بھی اپنی والدہ والے دور کی طرح ”انکلوں‘ کا سامنا ہوگا جو اپنی موجودہ حیثیت کوبرقرار رکھنے کے لئے ہاتھ پاؤں ماریں گے اور یوں پارٹی انتشارکا شکار ہو گی۔ یوں بھی بظاہر یہ بتایا جا رہا ہے کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی پالیسیوں اور نقطہ ء نظر میں اختلاف ہے اور آصف علی زرداری نے خود کو منتخب اور ٹکٹ جاری کرنے والی پیپلزپارٹی کا سربراہ بنا رکھا ہے اور بلاول اس پارٹی کے چیئرمین ہیں جو ایسا اختیار نہیں رکھتی، اس کے علاوہ مخالفین کا یہ بھی خیال ہے کہ آصف علی زرداری کے ساتھ ہی مفاہمتی پالیسی بھی رخصت ہو جائے گی۔

ہمارے یہ دوست،بلکہ ”مخبر“ ایک بہت پرانے بلکہ پیدائشی جیالے، بارسوخ اور اچھے تجزیہ کار بھی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری نے جب سے پیپلزپارٹی سنبھالی، محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کی شہادت کے بعد ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگا کر حالات کو سنبھالا اور پھر مفاہمت سے پارٹی کو بچایا۔ اقتدار کے پانچ سال پورے کئے اور سندھ میں حکمرانی بھی قائم رہی، تب سے ان ”مخالف حضرات“ کو وہ چبھتے ہیں کہ بحران میں مرد میدان ثابت ہوتے ہیں۔

میں ان صاحب اور دوست کا احترام کرتا ہوں اور ایک حد تک اتفاق بھی کہ بلاول بھٹو اتنے عرصہ میں پارٹی کے تمام حلقوں اور امور تک رسائی حاصل کر چکے ہیں اور ان کے بارے میں یہ تاثر بھی غلط ہے کہ وہ مقتدر قوتوں سے محاذ آرائی کے قائل ہیں، ایسانہیں، بلاول مفاہمت (خصی) کے قائل نہیں، لیکن محاذ آرائی کو اس حد تک لے جانے کے قائل بھی نہیں ہیں کہ پارٹی طوفان ہی میں گھر جائے، اس سلسلے میں،میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ محترمہ تعلقات کے بگاڑ کی قائل نہیں تھیں، وہ بھی ایک خوشگوار اور دوستانہ تعلق اور ماحول کی قائل تھیں، اسی لئے بہت سے حضرات کے بارے میں یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ”مخبر“ ہیں، ان کو اہمیت دیتی تھیں اور بعض رہنماؤں کی اہمیت تو ہمارے بھی سامنے تھی، جن کی بقاء یہ تھی کہ وہ مقتدر قوتوں سے اچھے تعلقات کے دعویدار تھے اور اس بات کا تو میں ذاتی طور پر گواہ ہوں کہ ہمارے ایک دوست نے ڈرتے ڈرتے ایک اہم بڑے افسر کے ساتھ تعلقات کا اعتراف کیا تو محترمہ نے نہ صرف یہ کہ اعتراض نہ کیا بلکہ حوصلہ افزائی کی کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں، اب ایک بات یہ بھی عرض کر دوں کہ محترمہ کے مقابل ”انکلوں“ اور بلاول کے ساتھ ”انکلوں“ کی پوزیشن قدرے مختلف ہے۔ آج کل جو انکل بچے ہوئے ہیں، وہ سب ماسوا ایک کے، بلاول کے ساتھ ہیں اور ان کے درمیان احترام کا رشتہ بھی ہے اور جو انکل زرداری کے بہت زیادہ بلاول سے بھی زیادہ وفادار ہیں وہ بھی اپنی ضرورت کے باعث چیئرمین کے ساتھ ہوں گے۔ بہرحال وفات سے جو بھی فرق ہونا ہے وہ تو حقیقت کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ ”یہی حقیقت ہے کہ سب نے چلے جانا ہے“ بہرحال بلاول تعلیم یافتہ اور اپنی والدہ کے تربیت یافتہ ہیں، اور اب تو تجربہ بھی حاصل کر چکے اور جو ”انکل“ ساتھ ہیں وہ اچھے اور سوجھ بوجھ والے بھی ہیں۔

جہاں تک آصف علی زرداری کی اپنی ذات کا تعلق ہے تو میرے اپنے تجربے کے مطابق وہ یاروں کے یار ہیں اور اس کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جوڑ توڑ کے بادشاہ ہیں اور انہی کی حکمت عملی سے پارٹی اقتدار میں بھی آئی تھی۔اگرچہ اکثر ہی نہیں بھاری اکثریت میں ”ترقی پسند“ ان کی اس حکمت عملی سے متفق نہیں، لیکن وہ ان کو بھی ساتھ رکھنا جانتے ہیں، مجھے یاد ہے کہ جب 1988ء کے انتخابی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کو اقتدار ملا اور یہ ”لولا لنگڑا“ تھا کہ متعدد سمجھوتے بھی ہوئے اور پنجاب میں مخالف حکومت تھی تو ہم جیسے بہت سے حضرات کا خیال تھا کہ اپوزیشن میں بیٹھنا زیادہ مفید تھا کہ پارٹی مضبوط ہوتی اور اگلے انتخابات میں بھارتی اکثریت حاصل کر لیتی۔ تاہم محترمہ اور ان کی حکمت عملی کے حامی حضرات کا موقف تھا کہ کارکن طویل جدوجہد اور اس دوران صعوبتیں برداشت کرکے تھک چکے ہین، ان کو کچھ آرام بھی ملنا چاہیے، تب بھی آصف علی زرداری اہم ہی تھے۔اپنے رپورٹنگ کے زمانے میں مجھے جتنی بار آصف علی زرداری سے واسطہ ہوا وہ ہنستے ہوئے ہی ملے، بلکہ ایک سے زیادہ ملاقاتیں ایسی ہیں جس دوران وہ مجھ سے پنجابی میں بات کرتے رہے ہیں، وہ سندھ کے علاوہ سرائیکی، بلوچی اور پشتو بھی بولنے کے اہل ہیں۔

آصف علی زرداری کی ذات سے بہت سے متنازعہ معاملات بھی وابستہ ہیں، لیکن پارٹی میں ان کے مداح قائل ہیں کہ وہ واقعی یاروں کے یار ہیں اور اپنوں کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ اس شدید بیماری کی حالت میں بھی ایک ”سلوشن“ کا کام دے رہے ہیں اور پارٹی میں ایک صفحہ والی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں، محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی آپ بیتی ”دختر مشرق“ میں ان کے ساتھ شادی کا احوال بڑی تفصیل سے لکھا اور بعد کے حالات کا بھی ذکر کیا وہ ان کو ”آصف“ کہہ کر پکارتی تھیں۔ ازدواجی زندگی اور محترمہ کی شہادت کے حوالے سے کئی داستانیں گردش کرتی رہتی ہیں۔ بعض امور سے میں بھی واقف ہوں۔ تاہم بیگم ناہید عباسی کی اہمیت اپنی جگہ اگر وہ مجھے ایک تفصیلی انٹرویو دینے پر آمادہ ہو جائیں، آخر میں آصف علی زرداری کی صحت کے لئے دعا کرتے ہوئے بات کو اس پر ختم کرتا ہوں ”موت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے مولوی صاحب! آپ کی بات غلط ثابت ہو گئی“ ویسے بھی وفات کو چھپانے کی تُک نہیں کہ یہاں معاملات طے ہیں، جانشینی کا بھی جھگڑا نہیں۔

بات اور معاملات تفصیل کے متقاضی ہیں جگہ کی قلت پیش نظر ہے اس لئے باقی پھر سہی۔

مزید :

رائے -کالم -