ہندسرکار کی افغان پالیسی اور طالبان کا مستقبل

ہندسرکار کی افغان پالیسی اور طالبان کا مستقبل
ہندسرکار کی افغان پالیسی اور طالبان کا مستقبل

  

افغانستان میں قیام امن، کن قوتوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے؟ وہ کون ہیں جن کو افغانستان میں امن و امان ہضم نہیں ہو رہا؟ طالبان، امریکہ مذاکرات کی کامیابی کن کو ہضم نہیں ہو پا رہی ہے؟ وہ کون سی قوتیں ہیں جو افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں کو ناکام دیکھنا چاہتی ہیں؟ اگر اختصار کے ساتھ بات کی جائے تو افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں کو کون ناکام بنانے کی کوششیں کر رہا ہے؟

12مئی 2020ء لوکل ملیشیا کمانڈر شیخ اکرم کے جنازے پر خودکش حملہ کیا گیا، ننگر ہار میں کئے گئے اس حملے میں اسلامک سٹیٹ ان خراسان کا عبداللہ الانصاری ملوث پایا گیا۔ جنازے میں شریک بزرگ اور بچے بھی مارے گئے۔ اس سے پہلے 25مارچ 2020ء کو کابل کے ایک سکھ گوردوارے پر انڈین Raw نے حملہ کرایا، جس میں بشمول افغان سیکیورٹی اہلکار 50سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

12مئی 2020ء کو ہی کابل کے دشتِ برچی کے میٹرنٹی ہسپتال پر حملہ کیا گیا، جس میں 56سے زائد اموات ہوئیں،جس میں کئی نوزائیدہ بچے بھی شامل تھے۔ 19مئی کو جاریکر کی مسجد پر حملہ کیا گیا۔ طالبان نے ایسے تمام حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے 14مئی 2020ء گردیز میں ایک ٹرک بم کے ذریعے ملٹری کورٹ پر حملہ کیا اور 18مئی کو انہوں نے گردیز میں NOS کے مرکز پر خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ طالبان، غیر ملکی حملہ آوروں اور ان کے لوکل دوستوں کے خلاف 18سالوں سے سربکف ہیں۔ انہوں نے حملہ آوروں اور ان کے مربیوں اور مددگاروں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ طالبان اور دیگر ایسے ہی گروہ جو افغانستان کی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں وہ ایسے اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، جن سے ان کی قوت کا اظہار ہو، ان کی دھاک بیٹھے اور عام شہریوں کے غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف حوصلہ بڑھیں۔ طالبان کے حملے بہادری کا اظہار ہوتے ہیں، جبکہ جنازوں اور بچوں کے ہسپتالوں پر حملے بزدلی اور غیر انسانی رویوں کا اظہار ہوتے ہیں، اس سے طالبان کے موقف کو تقویت نہیں ملتی ہے، اس لئے وہ ایسی غیر انسانی اور گھٹیا حرکتوں سے مکمل طور پر اجتناب کرتے ہیں۔

افغان حکومت اور اس کی فوجی تنصیبات پر حملے طالبان کی عسکری قوت کا اظہار ہیں، طالبان چاہتے ہیں کہ افغان امن معاہدے کے مطابق افغان حکومت قیدیوں کو رہا کرے، لیکن افغان حکمران اس حوالے سے سردمہری کا مظاہرہ کررہے ہیں، اس لئے طالبان حملوں کے ذریعے ان پر عسکری دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ اس طرح طالبان عامتہ الناس کے ذہنوں میں یہ بات بھی راسخ کرنے کی کاوشیں کر رہے ہیں کہ وہی افغانستان کے حقیقی حکمران ہیں، اس کے علاوہ طالبان چاہتے ہیں کہ ان کے بارے میں تاثر ایک منظم اور ہمہ گیر قوت کا پیدا ہو، جہاں تمام فیصلے مرکزی طور پر ہوتے ہیں، ایسا نہیں کہ جس کے جی میں جو آئے کرتا پھرے۔

ہندوستان کی متعصب اور ہندو حکومتوں کے افغانستان میں منفی کردار کے بارے میں افغان ترجمان کا بیان ایک تاریخی حقیقت ہے جو افغان عوام گزرے 40سالوں سے دیکھ رہی ہیں۔ 79ء میں جب اشتراکی فوجوں نے افغانستان پر فوج کشی کی تو ہندوستان حملہ آوروں اور ان کے افغان مددگاروں کا ساتھی بنا۔ افغان عوام 9سال تک اشتراکی حملہ آوروں اور ان کے معاونین کے ساتھ برسرِ پیکار رہے۔ ہندوستانی حکمرانوں نے افغان قتل عام میں قاتلوں کا ساتھ دیا۔ اس کے بعد نائن الیون کے پس منظر میں 2001ء میں جب امریکی اتحادی افغانستان پر حملہ آور ہوئے تو ہندوستان حکمران ایک بار پھر غیر ملکی حملہ آوروں اور ان کے لوکل مددگاروں کے ساتھی بنے۔ گزرے 18سالوں کے دوران افغانستان میں ہزاروں نہیں لاکھوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ فوجی و سویلین، جوان اور بچے، عورتیں اور بوڑھے، سب ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ افغان عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہندو سرکار اس کشت و خون میں غیر ملکی حملہ آوروں اور ان کے لوکل مددگاروں کی ممد و معاون رہی ہے۔

طالبان یہ تاریخی حقیقت روزِ اول سے ہی جانتے تھے لیکن اس کا اظہار انہوں نے ایک تاریخی وقت پر کیا ہے جب وہ فاتح کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں انہوں نے اپنے زورِ بازو سے افغانستان پر اپنا حق حکمرانی ثابت کر دکھایا ہے انہوں نے صرف ثابت نہیں کیا، بلکہ دنیا کی سپریم طاقت نے ان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر نہ صرف انہیں برابر کا ہم پلہ فریق تسلیم کیا، بلکہ ایک معاہدے پر دستخط کرکے ان کی حیثیت پر مہر تصدیق بھی ثبت کیا۔

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر طالبان ترجمان کے ہندوستان کے بدکردار بارے بیان پر تبصرے ہو رہے تھے، جس میں یہ بھی کہا گیا کہ طالبان کشمیری مسلمانوں کی مدد کے لئے مقبوضہ کشمیر پر حملہ کریں گے“ گو طالبان نے ایسے تاثر کی نفی کی ہے لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بت خانہ ہند پر افغان فاتحین حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔ عصرِ حاضر کی تاریخ میں ایک بات بڑی واضح ہے کہ ہندوستانی حکمرانوں کی افغان پالیسی پاکستان دشمن پر مبنی ہے گزرے 18سالوں کے دوران ہندوستانی RAW اور دیگر ادارے یہاں افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف مورچہ زن رہے۔ ہندوستان کے افغانستان میں قونصلیٹ دفاتر، پاکستان دشمن عناصر کی شیرازہ بندی کرتے رہے ہیں ایسے ہی عناصر نے پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم رکھاہے سینکڑوں نہیں ہزاروں فوجی و سویلین شہادتیں ہوئیں، اربوں ڈالر کی املاک تباہ و برباد ہوئیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستانی قوم نے پاکستان کی مسلح افواج نے ہندوستانی سپانسرڈ دہشت گردی کا عفریت ختم کیا۔ ہند سرکار افغانستان میں کسی بھی امن و امان کے منصوبے کے خلاف ہے۔ صرف ہند سرکار ہی نہیں بلکہ افغان حکمران بشمول NDS اور اشرف غنی و عبداللہ عبداللہ اور اسلامک سٹیٹ ان خراسان کی تکون طالبان امریکہ امن معاہدے کے خلاف ہے، کیونکہ اس معاہدے کے نتیجے میں طالبان کا افغانستان پر حق حکمرانی بھی ثابت ہو گیا ہے اور غیر ملکی افواج کا افغان معاملات میں کردار بھی ختم ہونا طے ہے۔

یہ بات نہ صرف ساری دنیا کو معلوم ہے،بلکہ افغان حکمرانوں اور ہند سرکار کو روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ طالبان بزور طاقت کابل پر قابض ہونے اور حکومت قائم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اشرف غنی و ساتھی حکمرانوں کا جانا ٹھہر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے خلاف ہندوستانی مورچہ بھی اپنی موت آپ مر جائے گا۔ہندوستان کی 40سالہ افغان پالیسی صفر ہوتی ہوئی نظر ا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ افغان حکمران ہند سرکار اور تحریک خراسان مل جل کر کوشش کررہے ہیں کہ طالبان۔ امریکہ امن معاہدہ کسی طرح بھی فلاپ ہو جائے۔ افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات اسی سلسلے کی ایک واضح کڑی ہیں۔ ان حملوں میں دونوں فریق شامل ہیں اور دونوں کے مقاصد بڑے واضح ہیں۔ طالبان کا مخالف سہ فریقی اتحاد، امن معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، تاکہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کا عمل دخل ہے اور اس کی آڑ میں انہیں یہاں حکومت کرنے اور من مانیاں کرنے کے مواقع ملتے رہیں، لیکن ایسا ہونا اب قطعاً ممکن نہیں ہے۔

امریکی حکمران یہاں سے ملٹری آپریشن ختم کرکے جانا چاہتے ہیں، اسی لئے ایک ایسے فریق جسے وہ دہشت گرد قرار دیتے تھے کے ساتھ، برابری کی سطح پر بیٹھ کر ایک امن معاہدہ کیا، تاکہ انہیں واپسی کا باعزت راستہ مل سکے سو وہ انہوں نے حاصل کر لیا ہے۔ معاہدے کے مطابق یا کم از کم اس کی روح کے مطابق وہ یہاں واپس آنے کے بھی حق دار ہیں (اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہو تو) لیکن کورونا نے پوری دنیا بالعموم ، امریکہ کی بالخصوص بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ امریکی نظام معیشت اور معاشرت ابتری کا نقشہ بنا ہوا ہے۔ معاملات خاصے خراب ہیں۔ وائرس نے نہ صرف تباہی پھیلا رکھی ہے، بلکہ اس کی ہلاکت خیزیاں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں۔ اس لئے اب امریکہ کے لئے افغانستان میں واپسی، کسی بھی صورت میں مداخلت قطعاً ممکن نہیں ہوگی۔ یہ بات طالبان دشمن افغان ٹرائیکا کو بھی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ اس لئے وہ الٹے پلٹے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ دوسری طرف طالبان کی فتح مندی دن بدن واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔

وہ قدم بقدم اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے افغان دشمن کردار کو بھی طشت ازبام کر دیا ہے، جس کے باعث کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ مودی سرکار نے 5اگست 2019ء کو کشمیر میں لاک ڈاؤن کرکے اپنے لئے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔ 9لاکھ فوج تعینات کرنے کے باوجود، وہاں معاملات قابو میں نہیں ہیں۔ کشمیری ہند سرکار کے خلاف، اس کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ پاکستان کی حکومت بھی ہر فورم پر مودی سرکار کے ظالمانہ اقدامات کو بے نقاب کر رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان فالس فلیگ آپریشن کی بات کرکے اقوام عالم کی توجہ مودی سرکار کی پاکستان کے خلاف ممکنہ جارحیت کی طرف مبذول کرا رہے ہیں۔ کشمیر میں ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف مودی سرکار کی غیرانسانی پالیسیوں کے خلاف احتجاج جاری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -