بزرگ کار از فاش

بزرگ کار از فاش

  

دبئی کے ایک ہوٹل میں کچھ لوگ ٹھہرے تھے۔ نماز کا وقت ہو گیا۔

لوگوں نے سوچا کہ باہر شدید گرمی ہے۔ لابی میں ہی جماعت کر لیتے ہیں۔ ایک اچھی سی محراب والی جگہ بھی مل گئی۔ اس میں ایک امام کھڑے ہوگئے۔ پیچھے جماعت نے نیت باندھ لی۔ عین رکعت کے درمیان امام نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ نمازی ششدر رہ گئے۔ پھر وہ رکوع کرواتے نظر آئے۔ اور پھر سجدے میں پھر نظروں سے غائب۔ حتیٰ کہ ان کا مصلیٰ بھی روپوش ہو گیا۔ لوگوں نے سوچا یار اتنے با کرامت بزرگ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔ زمان و مکاں کی حدود سے آزاد معلوم ہوتے ہیں۔ بس کبھی وہ آجاتے اور رکعت شروع کرواکے اوجھل ہوجاتے۔ جب آخر کار نماز ختم ہوئی تو مقتدیوں نے کہا: حضرت آج آپ کا راز فاش ہو گیا ہے تو یہ بتادیں یہ کیا کرامت ہے؟

بزرگ نے فرمایا: نامعقول لوگ بار بار لفٹ کا بٹن دبا رہے تھے!

مزید :

ایڈیشن 1 -