مطلب پرست

مطلب پرست

  

ڈاکٹر نے جب میرے والد کے حقے پر پابندی لگائی تو یہ خبر میرے والد کے لیے صورِ اسرافیل کی حیثیت رکھتی تھی‘وہ پریشان ہو گئے لیکن ڈاکٹر کا فیصلہ عدالتی فیصلہ تھا۔میرے والد ڈسپلن کے بھی انتہائی سخت ہیں‘یہ جب کوئی بات‘کوئی چیز ٹھان لیتے ہیں تو یہ پھر اس سے پیچھے نہیں ہٹتے‘میرے والد نے حقے پر پابندی لگا دی‘ہم لوگوں نے حقہ اٹھایا اور گودام میں رکھ دیا یوں دکان کی بڑی اٹریکشن اچانک ختم ہو گئی حْسن اتفاق سے انھیں دنوں ”ایکس چینج“کی ”اپ گریڈیشن“بھی شروع ہو گئی اور ہمارا فون بھی عارضی طور پر کٹ گیا یوں دکان کی دوسری اٹریکشن بھی ختم ہو گئی‘ان اٹریکشنز کے خاتمے کے ساتھ ہی دکان کے رش میں کمی ہو گئی‘ لوگ دکان کے قریب پہنچ کر منہ نیچے کرلیتے تھے اور تیز تیز قدموں سے آگے نکل جاتے تھے‘وہ جو روز صبح سویرے ہماری دکا ن پر آکر بیٹھ جاتے تھے اور ان کی شام بھی اسی دکان پر ہوتی تھی وہ بھی اچانک غائب ہو گئے۔

ہم جن کو والد کا انتہائی قریبی دوست سمجھتے تھے‘جو لوگ ہمارے چاچا جی ہوتے تھے‘جو گلی میں داخل ہو کر اونچی آواز میں چوہدری صاحب کا نعرہ لگاتے تھے اور جو گھنٹوں ہمارے والد کی تعر یفیں کرتے تھے‘وہ سب بھی غائب ہو گئے‘ہم ان کی شکلیں تک بھول گئے‘میرے والد سارا دن دکان پر اکیلے بیٹھے رہتے تھے‘گاہک آتے تھے‘منشی اور دکان کے کار ندے گاہکوں کو ڈیل کرتے تھے لیکن وہ لوگ بھی میرے والد کے قریب نہیں جاتے تھے‘وہ دْور سے انھیں سلام کرتے تھے‘رسید بنواتے تھے اوررخصت ہو جاتے تھے۔

میں اس وقت پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا‘میرے کچے ذہن کے لیے یہ صورت حال ہضم کرنا مشکل تھا۔میں ایک دن والد کے پاس بیٹھا اور میں نے ان سے پوچھا ”ابا جی آپ کے سارے دوست کہاں چلے گئے ہیں؟“میرے والد نے غور سے میری طرف دیکھا‘میری آنکھوں میں اس وقت آنسو تھے‘ میرے والد نے رومال سے میری آنکھیں صاف کیں‘سر پر ہاتھ پھیر ا اور بڑے پیار سے کہا”بیٹا یہ لوگ میرے دوست نہیں تھے‘یہ حقے اور ٹیلی فون کے دوست تھے‘حقہ بند ہو گیا‘ٹیلی فون کٹ گیا‘یہ لوگ بھی کٹ گئے‘یہ بھی بند ہو گئے‘جس دن ٹیلی فون اور حقہ واپس آجائے گا‘یہ لوگ بھی اس دن واپس آجائیں گے“میرے کچے ذہن نے یہ فلسفہ سمجھنے سے انکار کر دیا‘میرے والد نے میرے چہرے کی گومگوپڑھ لی‘وہ بولے ”بیٹا یاد رکھو اللہ تعالیٰ جب آپ کو کوئی نعمت دیتا ہے تو یہ نعمت اپنے ساتھ نئے دوست لے کر آتی ہے لیکن ہم نعمت کے ان دوستوں کو اپنا دوست سمجھ بیٹھتے ہیں‘یہ ہماری بے وقوفی ہوتی ہے‘یہ نعمت جس دن چلی جاتی ہے‘یہ سارے دوست بھی رخصت ہو جاتے ہیں۔“

میرے والد نے اس کے بعد شاندار نصیحت کی‘انھوں نے فرمایا”بیٹا آپ کا اصل کمال یہ ہو گا آپ نعمتوں کے دوستوں کو نعمتوں کا دوست رہنے دو‘آپ ان لوگوں کو کبھی اپنا دوست نہ بننے دو‘تم زندگی میں کبھی مایوس نہیں ہو گے“۔

میرے والد نے فرمایا ”بیٹا آپ کا ر کے دوستوں کو کار کا دوست سمجھو‘کاروبار کے دوستو ں کو کا روبار کا دوست سمجھو اور اپنے عہد ے کے دوستوں کو عہدے کا دوست سمجھو‘ان لوگوں کو کبھی اپنے دل تک نہ پہنچنے دو‘تمہارادل کبھی زخمی نہیں ہو گا‘تم کبھی خون کے آنسو نہیں روؤ گے“۔

مزید :

ایڈیشن 1 -