جنگلی بلی کی کہانی

جنگلی بلی کی کہانی

  

اک جنگل میں ایک بلی رہتی تھی، جو بڑی لڑاکی تھی،بات بات پے ناراض ہو جاتی تھی، ایک دن جنگل کا بادشاہ شیر اپنے وزیر لدھڑ کے ساتھ معمول کی سیر کر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک درخت کی ٹہنیوں پر بیٹھی اسی بلی پر پڑی، شیر کی ہمیشہ سے درخت پر چڑھنے کی تمنا تھی، اس نے بلی سے مخاطب ہو کر کہا —

”بی خالہ، کہو کیا مزاج ہیں؟ ذرا نیچے تو آو، تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔“

بلی، جو اس وقت چوہا نوش فرما رہی تھی، چیخ کر بولی ”اندھا ہو گیا ہے کیا؟ خالہ ہو گی تیری فیملی …ابھی تو میں جوان ہوں، یہ بالی سی عمریا ہے میری، اور تجھ اندھے کو میں خالہ نظر آتی ہوں …“

اس کرارے جواب پر شیر کو بیحد غصہ آیا، اور اس نے اپنی توہین محسوس کی کہ وہ جنگل کا بادشاہ تھا، اور کوئی جانور اس سے ایسے بات نہ کر سکتا تھا، جب کہ اس کا وزیر لدھڑ اپنا قہقہہ نہ روک سکا، اور کھل کھلا کر ہنسنے لگا- شیر نے ایک قہر آلود نظر اپنے وزیر پر ڈالی، اور ہلکا سا غرایا، جس پر لدھڑ کی سٹی گم ہوگئی، اور اس کی ہنسی کو بریک لگ گیا – شیر جانتا تھا کہ بلی جب تک درخت پر ہے، وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا،سو لہجے میں خوشامد سمیٹ کر مودبانہ عرض کی، ”مجھے معاف کر دو جنگلی بلی، بلکہ مس بلی، میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں، اب تو نیچے آ جاؤ“ بلی نے نخوت سے سر ہلایا اور کہا ”میرا موڈ نہیں ہے۔“شیر کا تو بی پی شوٹ کر گیا، مگر پھر بھی مصلحت سے کام لیتے ہوئے بولا، ”ارے تو میں انتظار کر لیتا ہوں، جب تمہارا موڈ ہو گا تب نیچے آ جانا۔“ شیر دل ہی دل میں اس گستاخ بلی کی ٹکا بوٹی کرنے کا سوچ رہا تھا، مگر اوپر اوپر سے میٹھا بن رہا تھا، بلی تھوڑی سی پسیجی، ”اچھا زیادہ مسکا بازی مت کرو، بولو کیا بات کرنی ہے۔“ شیر سمجھ گیا، سیدھی انگلی سے گھی نہیں نکلے گا، انگلی ٹیڑھی کرنی پڑے گی، تو پنجہ ٹیڑھا کرتا، ہوا میں لہراتا یوں گویا ہوا، ”جنگلی بلی جی، تم جانتی ہوکہ پورے جنگل میں تم سے لائق فائق کوئی نہیں، جس طرح تم دوسروں کے کیڑے نکال دیتی ہو، مطلب تصحیح کرتی ہو، تو تم ایک دانشور بلی ہو، میں چاہتا ہوں کہ تمھیں اپنا نیا وزیر بنا لوں۔“اس پر لدھڑ جو اب تک منہ کھولے بڑی دلچسپی سے یہ گفتگو سن رہا تھا، سراپا احتجاج بن کر کچھ کہنے ہی لگا تھاکہ شیر نے اسے آنکھ مار دی اور مسکرا دیا، بلی تو یہ آفر کہ سن کہ وزارت کے خواب دیکھنے لگی، اس کی آنکھوں میں ڈالر جگمگانے لگے، مال و دولت نے اس کی آنکھیں چندھیا دیں، اسی وقت چھلانگ مار کر درخت سے اتری، اور شیر کی مونچھوں کو پکڑ کر بڑے جوش سے بولی، ”مجھے قبول ہے، مجھے قب–و–لل“… لیکن شیر نے اسے اتنا زوردار پنجہ رسید کیاکہ وہ بیچاری پچاس فٹ دور جا کر گری،اور قبول لفظ پے ہی لٹک گئی…

”اس گستاخ بلی کو توہین مابدولت کے جرم میں، جنگلی قانون کے تحت گرفتار کر لیا جائے، کل اس کو تالاب کے پاس پھانسی دی جائے۔شیر نے بڑے شاہانہ انداز میں حکم جاری کیا، اور بلی تو ساری اکڑ بھول کر معافیاں مانگنے لگی ”رحم شیر انکل..“

”شٹ اپ … بوڑھی کھوسٹ، تمیز سے بات کرو، ابھی تو میں جوان ہوں، انکل ہوں گے تیرے اگلے پچھلے۔“شیر نے دھاڑتے ہوے کہا، اس کی گرجدار دھاڑ سن کر بلی کی دم تک کھڑی ہو گئی۔

”مم –معافی شیرجی–میرا مطلب ہے شیر جی، غلطی بندے سے ہی ہوتی ہے نہ ”بلی نے اپنی پلکیں جھپکاتے بڑی معصومیت اور لگاوٹ سے کہا۔

شیر مسکرایا ”صحیح کہا تم نے، مگر تم بندہ نہیں ایک بلی ہو —”بلی سمجھ گئی کہ شیر اب زندہ نہیں چھوڑے گا، تو اس نے زندگی بچانے کی ایک آخری کوشش کرتے ہوے کہا:”سرکار، آپ جانتے ہیں میں تھوڑی پڑھی لکھی ہوں، اگر آپ میری جان بخشی کر دیں، تو آپ کے بچوں کو مفت میں پڑھاؤں گی، اور آپ کو درخت پر چڑھنا بھی سکھا دوں گی۔“ یہ کہہ کر وہ رحم طلب نظروں سے شیر کو دیکھنے لگی … شیر سوچ میں پڑ گیا۔”کہتی تو صحیح ہے۔“ اس نے دل میں کہا..اور پھر بلی سے مخاطب ہو کر کہا ”ٹھیک ہے، ہم تمھیں معاف کرتے ہیں، مگر ایک شرط ہے کہ تم ہر وقت بیڑیوں میں رہو گی، تاکہ فرار نہ ہو جاؤ، اور ہم تمھیں مولوی بلی کا خطاب مرحمت فرماتے ہیں۔“بلی نے شکریہ ادا کیا اور دل میں روتی وہاں سے چل دی، کاش میں درخت سے نیچے نہ اترتی۔“وہ بار بار خود کو یہ کہتی جا رہی تھی، اور روتی جا رہی تھی —-بعد میں اس نے فیس بک جوائین کر لیا، اور ہنسی خوشی رہنے لگی۔

نتیجہ —اگر آپ درخت پر محفوظ زندگی گزار رہے ہیں، تو ایویں چھلانگ مار کر نیچے مت آئیے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -