آئیے مسکرائیں

آئیے مسکرائیں

  

٭مالکہ: (خادمہ سے) تم بیکار بیٹھی بیٹھی تھک نہیں جاتیں۔

خادمہ: مجھے آپ کی خاطر تھکنے کی پروا نہیں۔

٭اردو کے استاد: کوئی اچھا سا شعر سناؤ۔

شاگرد: سنیے:

جگر کا خون چوس لیتا ہے امتحان کا زمانہ

کبھی سہ ماہی، کبھی نوماہی کبھی سالانہ

٭استاد: سب لڑکوں نے دودھ پر دو صفحات کا مضمون لکھا ہے، اور تم نے دو سطر کا۔

شاگرد: جناب! میں نے خالص دودھ پر مضمون لکھا ہے۔

٭ایک بھکاری ہاتھ میں تختی لیے بھیک مانگ رہا تھا۔ اس پر لکھا تھا، میں بہرہ اور گونگا ہوں۔ ایک آدمی نے اس سے پوچھا، آپ کب سے گونگے اور بہرے ہیں۔

اس نے فوراً کہا:”پیدائشی گونگا اور بہرہ ہوں۔“

٭استاد: دستک کو جملے میں استعمال کرو۔

شاگرد: ہمارے منے کو دس تک گنتی آتی ہے۔

٭ایک بچے نے اپنی ماں سے پاکستان کا جھنڈا خریدنے کی فرمائش کی۔ ماں نے دکان دار سے جھنڈا دکھانے کے لیے کہا۔ اس نے جھنڈا دکھایا تو وہ بولی:”کسی اور رنگ میں دکھاؤ۔“

٭ایک دیہاتی کسی بڑے ہوٹل میں گیا اور چائے کا آرڈر دیا۔ بیرا ایک چھوٹے سے کپ میں ذرا سی چائے لے آیا۔ اس نے ایک ہی گھونٹ میں چائے ختم کر دی اور بولا:

”میٹھا ٹھیک ہے، چائے لے آؤ۔

٭باپ: بیٹا میں آپ کے لیے دوسری امی لے آؤں۔

بیٹا:وہ مجھے اسکول جانے کے لیے تو نہیں کہیں گی۔

٭ایک کنجوس آدمی اپنی بائیں آنکھ پر ہاتھ رکھ کر جارہا تھا۔ ایک شخص نے پوچھا:”کیا ہوا بھائی! آنکھ کو کیا ہوا۔“

اس نے جواب دیا:”کچھ بھی نہیں! جب ایک آنکھ سے کام چل جاتا ہے تو دوسری کیوں استعمال کروں۔

٭ایک دوست دوسرے سے کہہ رہا تھا:

”یار وہ اپنے دوست وکیل احمد خان تھے نا... وہ جنھیں ہر چیز کی تہ تک پہنچنے کا شوق تھا۔“

دوسرے نے چونک کر پوچھا:”کیا ہوا انھیں۔“

پہلے نے جواب دیا:”وہ ڈوب کر مر گئے؟“

مزید :

ایڈیشن 1 -