جاپانی کنزیومر پرائس میں 40 ماہ کے دوران پہلی کمی

جاپانی کنزیومر پرائس میں 40 ماہ کے دوران پہلی کمی

  

ٹوکیو۔(اے پی پی) جاپانی کنزیومر پرائس میں تین سال سے زیادہ عرصے میں اپریل کے دوران پہلی مرتبہ کمی ہوئی جس کی وجہ کورونا لاک ڈاؤن کے نتیجے میں خام تیل کے نرخوں کا گرنا ہے۔وزارت بین الاقوامی امور کی جانب سے جمعے کو جاری رپورٹ کے مطابق کورونا لاک ڈاؤن سے دنیا بھر کے طرح جاپان میں بھی پیداواری و کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور اپریل کے دوران کنزیومر پرائس انڈیکس گر گیا جو 40 ماہ کے عرصے میں پہلی مرتبہ ہے۔تازہ اشیائے خوراک کی قیمتوں سے ہٹ کر دیگر اہم چیزوں کے نرخ اپریل 2019 ء کے مقابلے میں 0.2 فیصد کم رہے، مارچ کے دوران ان میں 0.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔اپریل کے دوران مجموعی طور پر اشیاء کے نرخوں میں 0.5 فیصد کمی ہوئی۔

جبکہ مارچ کے دوران کمی کی شرح 0.1 فیصد رہی تھی۔مرکزی بینک کے سربراہ ہاروہیکو کورودا کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان نہیں کہ ان کا ملک سخت تفریط زر کی صورتحال کا شکار ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال افراط زر کی شرح منفی رہے گی تاہم 2021 ء اور 2022 ء کے دوران اس میں مثبت تبدیلی آئے گی۔

مزید :

علاقائی -