پاکستان میں سالانہ 35ملین ٹن خوراک ضائع

  پاکستان میں سالانہ 35ملین ٹن خوراک ضائع

  

 اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان میں سالانہ 35 ملین ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے، 43 فیصد شہری غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، 18 فیصد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔ ہوٹلز، ریستورانوں اور دیگر مقامات سے بچا ہوا کھانا اکٹھا کرکے مستحق افراد تک پہنچانے کے حوالہ سے خدمات فراہم کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ”رزق“ کے حکام نے کہا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 35 ملین ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے جبکہ 43 فیصد شہری غذائی عدم تحفظ اور 18 فیصد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اس حوالہ سے خوراک کے ضیاع کو روکنے کیلئے بچ جانے والی خوراک کو اکٹھا کرکے محفوظ کرنے کے بعد ضرورت مند طبقات تک پہنچانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2015ء میں تنظیم نے اس حوالہ سے سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا اور اس وقت تنظیم کے لاہور اور اسلام آباد میں دو فوڈ بینک کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بغیر کسی فنڈ اور معاونت کے ایک فیس بک پیج بنا کر اس کام کا آغاز کیا جس کے بعد ڈونرز ہم سے رابطہ میں آئے اور ہم نے دیگر مخیر حضرات کی معاونت سے خوراک کو اکٹھا اور محفوظ کرکے مستحق افراد تک پہنچانے کے کام کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک کی انتظامیہ نے ضرورت مند طبقات تک خوراک کی فراہمی کے حوالہ سے معاونت فراہم کی اور اب ہماری تنظیم تین مختلف پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے جن میں ”رزق بچاؤ“، ”رزق سکول لنچ“ اور ”رزق دیگ“ کے علاوہ ”رزق راشن“ شام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوراک کے ضیاع کو روکنے اور بچ جانے والی خوراک کو ضرورت مندوں تک پہنچانے کیلئے اپنے اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ لاکھوں پاکستانیوں کو غذاء کے عدم تحفظ اور غذائی قلت کے مسائل سے بچایا جا سکے۔

مزید :

علاقائی -