کورونا سے بچاؤ کیلئے فوری 10ار ب جاری، لیبارٹریوں کو سبسڈی دی جائے: سراج الحق

کورونا سے بچاؤ کیلئے فوری 10ار ب جاری، لیبارٹریوں کو سبسڈی دی جائے: سراج الحق

  

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر دس ارب روپے عوام کو کرونا سے بچانے اور صحت کی سہولتیں دینے کیلئے جاری کئے جائیں۔ کورونا ٹیسٹ مفت کیا جائے اورپرائیویٹ لیبارٹریوں کو حکومت سبسڈی دے۔حکومت عید کے اجتماعات پر پابندی ختم کرے۔مساجد و مدارس اور علماء کرام نے حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس اوپیز کی مکمل پابندی کرکے ثابت کردیا ہے کہ دین پر عمل کرنے والے ہی قانون کا احترام کرتے ہیں۔ فلسطین اورکشمیر کی آزادی کیلئے عالم اسلام کو مشترکہ لائحہ عمل بنا نا ہوگا۔امریکہ اسرائیل اوربھارت کا سرپرست اور عالم اسلام کا دشمن ہے،جب تک مسلم حکمران امریکہ سے امیدیں لگائے رکھیں گے کشمیر اور فلسطین آزاد نہیں ہونگے۔عالم اسلام کو مظلوم کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں کی مدد کیلئے خود میدان میں آنا پڑے گا۔یوم القدس پر ہم فلسطینی بھائیوں کو پیغام دیتے ہیں کہ پوری امت اور خاص طور پر پاکستانی قوم آ پ کے ساتھ ہے اور ہم کسی حالت میں بھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔کشمیر پاکستان کیلئے بقا اور سا لمیت کا مسئلہ ہے۔حکومت کشمیر یوں کو بھارتی مظالم سے بچانے اور کشمیر میں استصواب رائے کرانے کیلئے عالمی برادری پرزور دے۔ رمضان میں کی جانے والے دعائیں رنگ لائیں گی اور رمضان کے بعد کورونادنیا سے ختم ہو یانہ ہو مگر عالم اسلام میں نہیں رہے گا۔جامع مسجد منصورہ میں جمعۃ الوداع کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ کورونا کے سدباب اور مریضوں کی اصل تعداد معلوم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں فوری طور پر کورونا ٹیسٹ فری کئے جائیں تاکہ غریب مریض اپنے ٹیسٹ کروا سکیں۔اس طرح کرونا کے پھیلاؤ کو کم سے کم کیا جاسکے گا۔ٹیسٹ فیس نو ہزارروپے ہونے کی وجہ سے زیادہ تر مریض اپنے ٹیسٹ بھی نہیں کرواسکتے۔سرکاری لیبارٹریوں میں کرونا ٹیسٹ مہنگا ہونے کی وجہ سے لوگ الخدمت فاؤنڈیشن اور دیگر فلاحی اداروں کی لیبارٹریوں سے رابطہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین عالم اسلام کے مشترکہ مسائل ہیں۔دونوں مقبوضہ علاقوں میں ہندو اوریہودی مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔کشمیر میں نو ماہ سے کرفیو اور لاک ڈاؤن نے کشمیر یوں کو موت سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کررکھا ہے۔بیماروں کو علاج تک کی سہولت نہیں،لوگ گھروں میں دم توڑ رہے ہیں اور انہیں قبرستانوں میں دفن کرنے تک کی اجازت نہیں دی جارہی۔ہزاروں نوجوانوں کو بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند کردیا گیا ہے۔پوری کشمیری قیادت گھروں یا قید خانوں میں نظر بند ہے۔ان حالات میں ہماری حکومت کا فرض ہے کہ وہ عالمی سطح پر کشمیریوں کے حق میں آوازبلند کرے اور اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے عالمی اداروں میں اس مسئلہ کو ایک بار پھر پوری قوت سے اٹھایا جائے تاکہ کشمیریوں کو بھارت سے آزادی مل سکے۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -