حیرت کی واردات

حیرت کی واردات
 حیرت کی واردات

  

برادر محترم شاہد ملک صاحب نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ معروف تخلیق کار ٹی ایس ایلیٹ کہہ گئے ہیں کہ کسی بھی شاعر کے لئے اس کا تازہ خیال ایک نئی واردات کی طرح ہوتا ہے جو اس کے فکری نظام کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔

تازہ خیال کی واردات محض شاعروں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اقبال طرز کہن پر اڑنے اور آئین نو سے ڈرنے کو قوموں کی زندگی کا کٹھن مرحلہ قرار دے چکے ہیں۔ اہل پاکستان ترکوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ ترکوں نے بھی تاریخ کے ہر نازک موڑ پر اپنی دوستی اور بھائی چارے کا حق ادا کیا ہے۔ نئے خیالات ہی انسان کے فکری نظام کو تبدیل نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات نئے حقائق بھی انسان کو حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

پاکستان میں ترک ڈرامہ ”ارطغرل غازی“ کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ ڈرامے میں ارطغرل غازی کی بیوی حلیمہ سلطان کا کردار ترک اداکارہ اور ماڈل اسرابلجیک نے ادا کیا ہے۔ ان کے کام کو بے پناہ سراہا جا رہا ہے۔ اسرابلجیک جدید ترکی کی اداکارہ ہیں۔ انہوں نے بے شمار ترکی فلموں اور ڈراموں میں کام کیا ہے۔ ترکی ڈراموں میں محبت کا اظہار کرنے پر کوئی زیادہ پابندیاں نہیں ہیں۔ لباس کے معاملے میں بھی جدید ترک مغرب کی پیروی کرتے ہیں۔ برطانیہ میں کہا جاتا ہے کہ جتنی لڑکی زیادہ خوبصورت ہو گی موسم گرما میں اتنا ہی کم وہ لباس پہنے گی۔ ترکی میں بھی اس فلسفے کے نظارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ترک اداکارہ جہاں ڈرامے میں ایک غازی کی نیک و صالح بیوی کا کردار ادا کر رہی ہیں وہاں اس نے بہت سی ترک فلموں میں بولڈ کردار بھی کئے ہیں۔

گزشتہ دنوں ٹویٹر پر ایک ترقی پسند خاتون نے ترک اداکارہ کا ایک ایسا ویڈیو کلپ شیئر کیا تھا جس میں وہ ایک نامحرم کے ساتھ خضوع و خشوع کے ساتھ بوس و کنار کرتی نظر آتی ہیں۔ اس کلپ کے ساتھ ”مومنین کی امی“ کا کیپشن لگایا گیا تھا۔ بہت سے لوگ جو حلیمہ سلطان کو ایک غازی کی بیوی سمجھ بیٹھے تھے وہ ان کی ایسی حرکات پر خاصے حیرت زدہ بلکہ ناراض تھے اور انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ مجاہدہ ایسی حرکات کیوں کر رہی ہیں۔ اس پر ہمیں وہ مرید یاد آیا جو اپنے مرشد کی محفل میں بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک ملازم نے آ کر پیر صاحب کی خدمت میں عرض کی ”حضور مبارک ہو اللہ نے آپ کو بیٹے کی سعادت سے نوازا ہے۔“ انتہائی عقیدت مند مرید حیران و پریشان ہو گیا اور یہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔ ”پیرو مرشد یہ ہمارے جیسے گناہگار انسانوں والے کام آپ بھی کرتے ہیں؟“

کرنل محمد خان کی کتاب بجنگ آمد میں جب ہم نے پہلی مرتبہ یہ پڑھا کہ ایک عرب ملک میں لوگ نماز پڑھتے ہوئے سگریٹ بھی پیتے ہیں تو ہمیں خاصی حیرت ہوئی تھی۔ ترکی کا سفر کرنے والے ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ بعض شہروں میں ترک شراب بھی پی رہے ہوتے ہیں۔اذان کی آواز بلند ہوتی تو وہ شراب پینا چھوڑ دیتے ہیں۔ مسجد میں جا کر نماز پڑھتے ہیں اور اس کے بعد واپس آ کر دوبارہ شغل مے نوشی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ تاہم ہم یہ ضرور عرض کریں گے کہ چند عرب یا ترک ایسی حرکات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ تمام عربوں اور ترکوں کا یہی طرززندگی ہے۔

برصغیر کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے تحریک خلافت غیر معمولی متاثر کرتی تھی۔ اس تحریک نے مسلمانوں میں ایک نئی روح پیدا کر دی تھی۔ مگر مجھے جب اتاترک مصطفی کمال پاشا کی معروف سوانح عمری GREY WOLF پڑھنے کا موقع ملا تو میری بے شمار حیرتوں سے ملاقات ہوئی۔ اتاترک مصطفی کمال پاشا کی معروف سوانح عمری GREY WOLF کے مصنف ایچ سی آرمسٹرانگ نے ترکی کے اس نازک دور کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب اتاترک نے خلافت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو اسے چاروں طرف خطرات نظر آ رہے تھے۔ استنبول میں اس کے خلاف نفرت میں بے پناہ اضافہ ہو رہا تھا۔ مذہبی قوتوں نے خلافت کے حق میں سازشیں شروع کر دی تھیں اور اس کے سیاسی مخالفین خلافت کے حامیوں کے ساتھ مل کر بھرپور تحریک چلانے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اس کے سیاسی مخالفین اور خلافت کے حامی متحد ہو گئے تو اسے شکست ہو جائے گی۔ اتاترک اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہا تھا۔ سی آر آرمسٹرانگ کے مطابق اس وقت اسے غیر متوقع طور پر ایک غیبی مدد حاصل ہوئی۔ یہ غیبی مدد اس کے سب سے بڑے دشمن برطانیہ کی طرف سے آئی تھی جس کے خلاف اتاترک نے بھرپور جنگ کر کے اسے ترکی چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ آرمسٹرانگ کے مطابق یہ موقع اتاترک کو آغاخان اور ایک قابل احترام ہندوستانی امیر علی کے مشترکہ خط کی صورت میں ملا۔ ترکی میں لوگوں کا رحجان مذہبی تھا اور وہ عمومی طور پر مصطفی کمال کے سیکولر نظریات کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے مگر اس دور میں ترکی میں برطانیہ سے نفرت اپنے عروج پر تھی۔ اس کی وجہ برطانیہ کا منافقانہ کردار تھا۔ انگریزوں نے یونانیوں کے ذریعے ترکی پر چڑھائی کی اور ترکوں کو غلام بنانے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر یہ کوشش اتاترک کی قیادت میں ترکی کی فوج نے ناکام بنا دی تھی۔

یہ وہ دور تھا جب برصغیر میں علی برادران تحریک خلافت چلا رہے تھے اور انگریزوں سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہ ترکی میں خلافت بحال کریں۔ انگریز سے اس مطالبے سے زیادہ مجھے اکثر اس پر حیرت ہوتی ہے کہ یہ مطالبہ مہاتما گاندھی کی قیادت میں کیا جا رہا تھا۔ اس دور میں جناب آغا خان اور جناب امیر علی نے انڈین مسلمانوں کی طرف سے ایک احتجاجی خط لکھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ خلافت کی حرمت و عزت بحال کی جائے۔ یہ خط استنبول کے اخبارات کو بھی بھجوایا گیا۔ یہ انقرہ میں اتاترک کی حکومت کو ملنے سے پہلے ہی اخبارات میں شائع ہو گیا۔ ایچ سی آرمسٹرانگ کے مطابق اس خط نے مصطفی کمال کو ایک غیر معمولی موقع فراہم کر دیا۔ اس نے آغا خان کے متعلق تفصیلات اکٹھی کرنا شروع کر دیں۔ اسے بتایا گیا کہ آغا خان کو انڈیا میں خاصی اہمیت حاصل ہے اور وہ اسماعیلی فرقے کے سربراہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں رہتے ہیں۔ ان کے پاس انگریزی نسل کے گھوڑے ہیں اور وہ برطانوی سیاستدانوں اور سفیروں کے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں۔ جنگ عظیم کے دوران انگریز نے محتاط پراپیگنڈے کے ذریعے آغا خان کی قدرومنزلت میں اضافہ کر دیا تھا اور انہیں بھارتی مسلمانوں کے نمائندہ و راہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

مصطفی کمال کو بتایا گیا کہ آغا خان کو خلافت کے حق میں پراپیگنڈے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس وقت کسی کو انگریزوں کا خاص ایجنٹ قرار دے کر عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلا جا سکتا تھا، کیونکہ ترکی میں انگریزوں کے خلاف نفرت عروج پر تھی اور اگر انگریزوں کا خاص ایجنٹ خلافت کی حمایت کرتا ہے تو یہ ایک سنگین غداری اور جرم تھا۔ ترک اسمبلی کے ایک دھواں دھار اجلاس میں خلافت اور خلیفہ کے خلاف ہنگامہ خیز تقریریں کی گئیں اور ایک قانون پاس کیا گیا جس کے مطابق جمہوریہ ترکی کی کسی بھی قسم کی مخالفت اور جلاوطن سلطان سے ہمدردی کو غداری اور اس کی سزا موت قرار دی گئی۔ اجلاس میں جب کچھ اراکین نے خلافت ترکی کی ڈپلومیٹک اہمیت بیان کرنے کی کوشش کی تو پورا ایوان ان پر برس پڑا۔ مصطفی کمال پاشا نے اس موقع پر ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا ”کیا ترک کسانوں نے خلافت اسلام اور علماء کے لئے صدیوں تک جنگ نہیں کی اور اس سلسلے میں ترکوں نے جانیں قربان نہیں کیں؟ مگر اب ترکی کو اپنی طرف دیکھنا ہے۔ ہمیں ہندوستانیوں اور عربوں کو نظرانداز کرنا ہے۔ ان کے ساتھ تعلقات سے نجات حاصل کرنی ہے اور اسلام کی قیادت سے دستبردار ہونا ہے۔ ترکی کو اپنے معاملات کو بہتر بنانے پر توجہ دینا ہے۔ خلافت صدیوں تک ہمارا خون چوستی رہی ہے۔“

تاریخ کے بعض حقائق حیران کن ہوتے ہیں۔ وہ آپ کے فکری نظام کو غیر معمولی انداز میں متاثر کرتے ہیں۔ مجھے یہ پڑھ کر خاصی حیرت ہوئی تھی کہ فلسطینی لیڈر یاسرعرفات بھارت کے ساتھ غیر معمولی محبت کرتے تھے۔ فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ فلسطینی عیسائیوں نے بھی یہودیوں کے خلاف زبردست جدوجہد کی اور غیر معمولی قربانیاں دیں۔ نہ صرف یاسرعرفات کی اہلیہ عیسائی تھیں بلکہ فلسطینی تحریک کے بے شمار راہنماؤں نے عیسائی گھرانوں میں شادیاں کیں۔ دنیا میں حقائق کتنے پریشان کن ہوتے ہیں۔ اس کا تازہ تجربہ مجھے مشرق وسطیٰ سے آنے والی ان رپورٹوں کو پڑھ کر ہوا جن میں سعودی عرب میں دکھائے جانے والے ڈراموں پر تنقید ہو رہی ہے۔ ان میں ”ایگزٹ۔7“ ڈرامہ خاص طور پر قابل ذکر ہے جسے ایم بی سی گروپ نے پروڈیوس کیا ہے۔ اس ڈرامے میں اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے اور یہودیوں کا اچھا امیج پیش کیا گیا ہے۔ مبصرین اس ڈرامے کو سعودی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا رہا ہو۔ جس نے ہر فورم پر اسرائیل کی مذمت کی ہو۔ وہاں ایسے ڈراموں کا سرکاری ٹیلی ویژن پر دکھایا جانا خاصا حیران کن ہے۔ دنیا کیسے تبدیل ہو رہی ہے۔ قوموں اور ملکوں کے لئے اپنے قومی مفادات کتنے اہم ہیں۔ اس کے متعلق خوف فساد کی وجہ سے تمام حقائق کو زبان نہیں دی جا سکتی۔

مزید :

رائے -کالم -