شوگر ملز ایسوسی ایشن نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں اخذ شدہ نتائج، تجاویز مسترد کر دیں

شوگر ملز ایسوسی ایشن نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں اخذ شدہ نتائج، تجاویز ...

  

لاہور(خصوصی رپورٹ) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں اخذ کیے گئے نتائج اور تجاویز کو مسترد کردیا۔پی ایس ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ ایک ٹیکس ادا کرنے والی انڈسٹری کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ پی ایس ایم اے نے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کی غیر ضروری تشہیر کو شوگر انڈسٹری کا میڈیا ٹرائل قرار دیا ہے۔پی ایس ایم اے نے شوگر کمیشن پر الزام عائد کیا ہے اس نے شوگر کمیٹی والی غلطیوں کو دہرایا ہے اور پوری انڈسٹری کو ایک ہی نظر سے دیکھا اور غیر ضروری الزامات عائد کیے۔ رپورٹ میں اعداد و شمار اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، پی ایس ایم اے کی جانب سے جو بھی تحریری چیزیں فراہم کی گئیں کمیشن نے انہیں نظر انداز کیا۔پی ایس ایم اے کے مطابق شوگر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کے تمام اداروں کو نا اہل قرار دیا ہے جس سے ان اداروں کی ساکھ پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کمیشن کیا اس الزام کو بھی مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شوگر ملز کسانوں کو ادائیگیاں نہیں کرتیں۔ اگر شوگر ملز ادائیگیاں نہیں کرتیں تو پھر ہر سال گنے کی کاشت میں اضافہ کیوں ہوتا جارہا ہے؟پی ایس ایم اے کے چیئرمین اسلم فاروق نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے شوگر ملز کا بزنس ختم ہوتا جارہا تھا اور کسان پریشانی کا شکار تھے، موجودہ حکومت کو اس بات کا کریڈٹ لینا چاہیے کہ اس نے برآمدات کے ذریعے شوگر انڈسٹری میں توازن پیدا کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے صرف 3 ارب روپے کی سبسڈی کے ذریعے انتہائی مشکل وقت میں تقریباً 50 ارب روپے کا زر مبادلہ کمایا جبکہ کسانوں نے بھی 60 ارب روپے کمائے۔

شوگر ملز ایسوائشن

مزید :

صفحہ اول -