ایف پی سی سی آئی اور ڈی جی رینجرز سندھ کے درمیان آن لائن میٹنگ

  ایف پی سی سی آئی اور ڈی جی رینجرز سندھ کے درمیان آن لائن میٹنگ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کرونا کی وبا نے پاکستان کی معاشی اور سماجی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے یہ بات میاں انجم نثار صدر وفاق ایوان ہائے تجارت وصنعت پاکستان نے ڈی جی رینجر کے ساتھ آن لائن میٹنگ پر کہی۔ FPCCIاور سندھ رینجر کا ڈی جی جنرل عمراحمدبخاری کے درمیان کاروباری طبقہ کے مسائل پر ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں صدر ایف پی سی سی آئی نے ڈی جی رینجر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہم بحیثیت بزنس کمیوٹنی آپ کی کارکردگی پر اطمینان اور سکون کا سانس لیتے ہیں جس طرح سے سندھ رینجر نے امن وامان خاص طور پر کراچی کا امن قائم کیا ہے۔ انتہاہی قابل ستائش ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہا کہ لاک ڈاں کے دوران ساری مارکیٹیں بند تھیں اور پولیس کی نفری بھی لاک ڈاں کے لئے شاہراہوں پر موجود تھی لیکن اس کے باوجود بھی کسی مارکیٹ میں ڈکیتی یا شٹر توڑنے کی کاروائی دیکھائی نہیں دی۔ یہ لا اینڈ آرڈر قائم کرنے والی ایجنسیوں کی کاوششوں کے بعث ممکن ہوا۔عام طور پر یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جب تہوار آتے ہیں خاص طور پر رمضان اور عید کا موقع آتا ہے تو جرائم خاص طور پر اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اور یہی چیز کچھ دنوں سے دیکھائی دے رہی ہے۔میاں انجم نثار نے کہا کہ عوام پاک فوج اور رینجر کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں آپ کی عزت دل سے کی جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر لاک ڈان کرانے یا بازاروں میں SOPs پر عمل کرانے کے لئے آپ کی خدمات لی جائیں تو یقینا کامیابی ہوگی اور لوگ آپ کی بات پر عمل بھی کریں گے۔انھوں نے کہا کہ اگلے چند دنوں میں امید ہے کہ مارکیٹیں اور بازار کھول دیے جائیں گے اس لئے SOP پر عمل کرانا انتہاہی لازمی اور ضروری ہوگا۔ میاں انجم نثار صدر ایف پی سی سی آئی نے بتایا کہ گزشتہ روز میں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ وزیر اعظم صاحب سے ملاقات کی اور بزنس کمیونٹی کے درپیش مسائل سے عمران خان صاحب کو آگاہ کیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارہ موقف بھی درست ہے کہ اس وقت پاکستان کی صنعت کے پاس غیر ملکی کمپنیوں کے ایکسپورٹ آرڈر موجود ہیں اگر ان کو پورا نہ کیا گیا تو سیزنSeason نکل جائے گا اور پھر ہمیں برآمدات کی کمی کی صورت میں بھاری نقصان کا سامنہ کرنا ہوگا۔ اس لئے بزنس کیونٹی خاص طور پر FPCCI برآمدی صنعت کو کھولنے کی بات کرتا ہے۔جب پاکستان میں یہ وبا کے پھیلنے کا خدشہ پیدار ہوا اور حکومت نے لاک ڈان کی طرف جانے کا اشارہ کیا تو میں نے معاشی سرگرمیوں اور صنعت و تجارت کو درپیش مسائل کے حل کے لئے فوری طور پر ایک ہیلپ ڈیسک FPCCI کے تمام دفاتر میں قائم کردی جس کی وجہ سے ہم نے کاروبار کو پیدا ہونے والے مسائل کو فوری حل کیا۔صدر میاں انجم نثار نے یہ بھی بتایا کہ انھوں ایف پی سی سی آئی کی طرف سے وزیر اعظم صاحب کو دو(2) کروڑ روپے کی امداد بھی دی تاکہ وزیر اعظم کے وژن کے مطابق اس کرونا سے متاثرہ غریب خاندانوں کی مدد کی جاسکے۔جنرل عمر احمد بخاری نے بزنس کمیونٹی کے مسائل سن کر جواب دیا کہ آج کی میٹنگ ان کے لئے بحیثیت سربراہ سندھ رینجر بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں جو مسائل اجاگر ہوئے ان کی نوعیت براہ راست پاکستان کی معاشی ترقی سے ہے۔ ہم کراچی کے امن وامان پر خاص توجہ اور نظر رکھتے ہیں کیونکہ کراچی کی ترقی ملک کی ترقی ہے اور کراچی کی ترقی کا سہراہ بزنس کمیونٹی کو جاتا ہے۔ میں سندھ میں جب سے تعینات ہوا ہوں میں نے دیکھا ہے کہ یہاں کہ بزنس مین سماجی اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور میری اولین ترجیع بھی یہی ہے کہ کراچی کی معاشی سرگرمیاں جاری رہیں۔ جہاں تم اسٹریٹ کرائم کا تعلق ہے تو ابھی کرمنل کو مواقع نہیں مل رہے لیکن حالات بدلتے ہی جب بھی لاک ڈان ختم ہوگا لوگ گھروں سے باہر نکلیں گے تو یہ بھی سرگرم ہونے کی کوشش کریں گہ ہم پوری طرح واقف ہیں اور ہر ممکن ٹیکنالوجی کے ساتھ ان کرمنل کا مقابلہ کریں۔ ڈی جی رینجر جنرل عمر احمد بخاری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لاک ڈاں نرم کرنے کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی کیونکہ ہمارے معاشرہ میں کچھ عادات ایسی ہیں کہ اگر لاک ڈاں کا دورانیہ کم کیا گیا تو لوگ اس کو تفریح سمجھ کر باہر نکلیں گے جس کی وجہ سے کرونا کی وبا اور متاثرہ افراد میں اضافہ کا خدشہ ہے۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سلطان رحمن نائب صدر نے کہا کہ جب لاک ڈان میں نرمی ہوئی تو لوگوں نے بازار کا رخ کیا اور SOP پر عمل نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں دوکانداروں کے خلاف مقدمات بنائے گئے حالانکہ کہ کاروباری شخصیات اپنی نمائیندتنظیموں کے ذریعہ اس پر عمل کرانے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ لہذا میں سمجھتاہوں کے ان مقدمات کو ختم کر دیا جائے۔سلطان رحمن نائب صدر نے میاں انجم نثار کی جانب سے ڈی جی رینجر کو ایف پی پی سی آئی کی یاد گاری شیلڈ بھی پیش کی۔ میٹنگ سے اسلام آباد میں موجود سابقہ صدر سینیٹر حاجی غلام علی، قیصر خان نائب صدر اور مرزا عبدالرحمن نے بھی خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر ارشد نائب صدر نے لاہو ر سے شرکت کی۔ کراچی میں بزنس کمیونٹی کے نمائیندوں جن میں ذکریہ عثمان سابق صدر ایف پی سی سی آئی، شوکت احمد سابق سینئیر نائب صدر، امجد رفیع، ناصر حیات مگوں، حاجی غنی عثمان اور اسلم نیازی نے بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔

مزید :

صفحہ آخر -