کراچی مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ، 57افراد جاں بحق، مسافر اور عملے کے 107افراد سوار تھے، لینڈنگ سے ایک منٹ قل ایئر پورٹ سے رابطہ ٹوٹ گیا

کراچی مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ، 57افراد جاں بحق، مسافر اور عملے کے ...

  

کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پی آئی اے کا لاہور سے کراچی آنے والامسافر طیارہ ائیرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا جس سے 57افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، طیارے میں مسافر اور عملے کے 107افراد سوار تھے ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ قومی ائیرلائن کی پرواز پی کے 8303 کو لینڈنگ کے وقت حادثہ پیش آیا اور طیارہ 2 بجکر 37 منٹ پر تباہ ہوگیا۔ترجمان کے مطابق پی آئی اے کے زیر استعمال یہ ائیربس اے 320 طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا اور اس کی عمر تقریباً 10 سے 11 سال تھی اور طیارہ مکمل مینٹین تھا لہٰذا تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ سول ایوی ایشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پی آئی اے کی پرواز 8303 کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل ائیرٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔جہاز کے پائلٹ اور ٹریفک کنٹرول ٹاور کے درمیان آخری رابطے کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آئی جس میں طیارے کے پائلٹ نے ایک انجن فیل ہونیکی اطلاع دی اور مے ڈے مے ڈے کی کال دی تھی جس پر پائلٹ کو بتایا گیا کہ طیارے کی لینڈنگ کے لیے دو رن وے دستیاب ہیں جس کے بعد طیارے کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ طیارے میں فنی خرابی پیدا ہوئی تھی اور لینڈنگ سے پہلے اس کے پہیے نہیں کھل رہے تھے جس پر پرواز کو راؤنڈ اپ کا کہا گیا لیکن اس دوران جہاز آبادی پر گر گیا۔پی آئی اے نے حادثے کا شکار طیارے کے مسافروں کی فہرست جاری کردی ہے جس کے مطابق مسافروں میں 51 مرد،31 خواتین اور 9 بچے شامل ہیں۔طیارے میں سینئر صحافی اور چینل 24 کے پروگرامنگ ڈائریکٹر انصار نقوی بھی سوار تھے بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود حادثے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ذرائع نے بتایا کہ طیارے کے کپتان کا نام سجاد گل ہے جب کہ عملے میں عثمان اعظم، فرید احمد، عبدالقیوم اشرف، ملک عرفان رفیق، عاصمہ اور مدیحہ ارم شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق طیارہ ماڈل کالونی اور ملیر کینٹ کے قریب جناح گارڈن کے پاس آبادی پر گرا اور اس میں گرتے ہی ہولناک آگ لگ گئی، طیارہ گرنے سے علاقے میں کے الیکٹرک کی تاریں اور ٹیلی فون کی تاریں بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ طیارہ گرنے سے قبل قریب موجود رہائشی عمارتوں کی چھتوں سے ٹکرایا جس سے کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور گھروں کی چھتوں پر بھی آگ لگ گئی جب کہ طیارہ گرنے کے بعد علاقے میں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔عینی شاہدین کے مطابق طیارہ گرنے سے پہلے بائیں جانب جھکا، پہلے طیارے کی دْم زمین سے ٹکرائی جس سے طیاریکا زور ٹوٹ گیا، اگلے حصے کی نشستوں کو دھچکا کم لگا اور کئی مسافر محفوظ رہے۔طیارہ رہائشی مکانات پر گرا جس کی وجہ سے گھروں اور گلی میں کھڑی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پائلٹ نے آبادی کو بچانے کی کوشش کی لیکن طیارے میں آگ بھڑکنے کے بعد وہ آبادی پر جاگرا۔حادثے کے بعد رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا جب کہ آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کا عملہ بھی پہنچ چکا ہے اور شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کرلیے گئے۔صوبائی وزیر صحت نے طیارہ حادثے کے بعد کراچی کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی اور ہدایت کی ہیکہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی تاخیرنہ کی جائے۔دریں اثناایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ اب تک 50 افراد کی لاشیں اور 7 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، زخمیوں میں ایک مسافر باقی علاقہ کے مکین ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل ایدھی نے بتایا کہ اب تک ایدھی فانڈیشن کی ایمبولینسز کے ذریعے پچاس افراد کی میتیں کراچی کے دو ہسپتالوں میں منتقل کی گئی ہیں جن میں مسافر اور مقامی شہری شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جن زخمیوں کو ریسکیو کیا گیا ان میں سے 1 مسافر باقی علاقہ مکین تھے، حادثے میں پندہ سے بیس گھر بہت زیادہ متاثر ہوئے جس کے ملبے تلے پچاس سے زائد لاشیں موجود ہوسکتی ہیں۔فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ ہیوی مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا جائے تو دو سے تین گھنٹے میں سب کلیئر ہونے کا امکان ہے مگر گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے، جس کی بنیاد پر میں ہفتہ کی صبح تک کا وقت دے سکتا ہوں۔انہوں نے بتایا کہ بینک آف پنجاب کے صدر ایک گاڑی کے اوپر گرے تھے جبکہ اسی گاڑی میں تین لوگ پہلے سے موجود تھے جس سے وہ محفوظ رہے جبکہ بینک صدر اور ایک دوسرے شخص کو معجزانہ طور پر بچ جانے والوں نے گاڑی سے باہر نکالا۔ نجی ٹی و ی کی رپورٹ کے مطابق طیارے حادثے کے 17 متاثرین کو جناح ہسپتال جبکہ 15 کو سول ہسپتال کراچی منتقل کیا گیا جبکہ چند زخمیوں کو نجی ہسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا۔سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ طیارہ حادثے میں دو مسافر معجزاتی طور پر محفوظ رہے جن میں بینک آف پنجاب کے ظفر مسعود اور محمد زبیر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دونوں زخمیوں کا جسم جھلسا ہوا ہے البتہ ڈاکٹرز نے ان کی حالت خطرے سے باہر قرار دی ہے۔ وزیراعظم نے طیارہ حادثے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ترجمان پی آئی اے نے ایئربس320 کے گرنے کی تصدیق کردی اور پی آئی اے کے آپریشنل ملازمین کو ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے،سی ای او پی آئی ایایئرمارشل ارشد ملک کا ناگہانی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ترجمان پی آئی اے جبکہ سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے طیارے میں 99مسافر اور 8 کریو ممبر سوار تھے۔ڈی آئی جی نعمان صدیقی کا کہنا ہے کہ طیارہ گرنے سے زمین پر 4 گھر تباہ ہوئے ہیں، آرمی کوئیک ری ایکشن فورس اور پاکستان رینجرز سندھ کے جوان کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ گرنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کی معاونت کیلئے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے ٹویٹ کے مطابق پاک فوج کی ٹیموں کے ساتھ ساتھ نقصان کے جائزہ کیلئے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر بھی بھجوائے گئے ہیں جبکہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں امدادی کاموں کیلئے سائٹ پر روانہ کی جا رہی ہیں۔زیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے کراچی میں طیارہ حادثے کی جگہ کا معائنہ کیا اور حادثے کے متاثرہ لوگوں کی فوری مدد کرنے کی ہدایت کی۔ترجمان وزیراعلی سندھ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ زخمیوں کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے شہر کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کردی ہے۔ترجمان کے مطابق وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی ہے کہ اسپتالوں میں فوری طور پر خون کا بندوبست کیا جائے۔وزیر اعلی کو بریفنگ دی گئی کہ حادثے کے باعث علاقے کے گھروں کوبھی نقصان ہوا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ گھروں کے مکینوں کی ہرطرح کی مدد کی جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں ہونے والے پی آئی اے مسافر طیارے کے حادثے کے نتیجے میں قیمتی جانی نقصان پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے جاں بحق ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔ جبکہ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ریلیف، ریسکیو اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کی ہدایت کی اور وزیراعظم عمران خان نے طیارہ حادثے کی فوری تحقیقات کا حکم دیدیاوفاقی وزیر اطلاعات سینیٹرشبلی فراز نے بھی سماجی ٹویٹ میں لکھا کہ پی آئی اے طیارہ حادثے پر گہرا دکھ اور افسوس ہے، یہ انتہائی غم زدہ کر دینے والا حادثہ ہے، متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اس وقت بنیادی توجہ امدادی کاروائیوں پر مرکوز ہے۔ اْدھر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے حادثے پر ہم سب رنج اور غم کا شکار ہیں۔ جاں بحق مسافروں کو اللہ غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے آرمی چیف نے پی آئی اے طیارے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا، جنرل قمر جاوید باجوہ نے متاثرہ خاندانوں سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ آرمی چیف نے ہدایت کی کہ سول انتظامیہ کی ریسیکو اور ریلیف آپریشن میں بھرپور مدد کی جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج اور رینجرز کے دستے امدادی کاموں کیلئے پہنچ گئے، پاک فوج کے دستے سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں، آرمی کی کوئیک رسپانس فورس موقع پر پہنچی ہے، پاک فوج، رینجرز، انتظامیہ امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔کراچی میں پی آئی اے کے گر کر تباہ ہونے والے بدقسمت طیارے کے کپتان کی کنٹرول ٹاور سے آخری گفتگو سامنے آ گئی، کنٹرول ٹاور سے بات کرتے ہوئے جہاز کا کپتان کہتا ہے کہ 8303 کے انجن نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، ہم بائیں جانب مڑ رہے ہیں، ہمیں لینڈنگ کے لئے گائیڈ کیا جائے اس کے جواب میں کنٹرول ٹاور کپتان سے کہتا ہے کہ آپ لینڈ کر سکتے ہیں، مختصر وقفے کے بعد جہاز کا کپتان تین بار مے ڈے مے ڈے مے ڈے کی کال دیتا ہے اور کنٹرول ٹاور سے پوچھتا ہے کہ کیا ہم لینڈ کر سکتے ہیں؟ کنٹرول ٹاور سے جواب آتا ہے کہ نمبر 25 اور دوسری لینڈنگ رو جہاز کی لینڈنگ کیلئے خالی ہیں آپ جہاز کو لینڈ کر سکتے ہیں اس کے بعد بدقسمت طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا اور پی آئی اے کا طیارہ ایئر پورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہو گیا۔جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن،پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف،کستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چودھری محمد سرور ،پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز نے پی آئی اے جہاز حادثہ پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا ہے جمعہ کے روزمولانا فضل الرحمن نے جہاز حادثے کے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع مجھ سمیت پوری قوم کیلئے صدمہ ہے انہوں نے حکومت پرزور دیاکہ کالونی کے متاثرین کی بحالی اور زخمیوں کے فوری علاج کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں جائیں۔ شہبازشریف نے پی آئی اے مسافر طیارے کے حادثے پر شدید رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ ائیر بس حادثے پر پوری قوم کو دلی رنج ہے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی آئی اے جہاز حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے میں قیمتی جانوں کا ضیاع مجھ سمیت پوری قوم کے لیے باعث صدمہ ہے۔انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا اور حکومت سندھ کو ہدایت کی کہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے تمام وسال بروئے کار لائے جائیں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ گرنے کے افسوسناک واقعہ پر گہرے دکھ و رنج کااظہار کیا، وزیراعلی اور گورنر پنجاب کہتے ہیں کہ جن کے پیارے حادثے میں بچھڑ گئے ان کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیاجاسکتا -وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے طیارے کے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا اور انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا۔عثمان بزدار کاکہناتھاکہ طیارہ گرنے کے واقعہ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی صدمہ ہواہے -ہماری تمام تر ہمدردیاں جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں - وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے لاہور سے کراچی جانے والے پی آئی اے کے طیارے کے حادثہ پر اظہار افسوس اور تعزیت کی ہے۔ وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے حادثہ کے شکار مرحومین کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعا کی اور کہا کہ الل? تعالیٰ مرحومین کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز نے پی آئی اے کے پیش آنے والے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طیارہ حادثے کی خبر سن کر ایک دھچکا لگا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ طیارے کو پیش آنے والے حادثے پر ہر پاکستانی کورنج ہے۔

طیارہ حادثہ

مزید :

صفحہ اول -