حکومت پرائمری ومڈل سکول کھولنے سے اجتناب کرے،پنجاب ٹیچرز یونین

حکومت پرائمری ومڈل سکول کھولنے سے اجتناب کرے،پنجاب ٹیچرز یونین

  

لاہور(پ ر)پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر چوہدری محمد سرفراز، سید سجاد اکبر کاظمی، رانا لیاقت علی،امتیاز طاہر، جام صادق، رانا انوار، رانا الطاف حسین، ساجد محمود چشتی، عبدالقیوم راہی، سعید نامدار، افضل کیانی، رحمت اللہ قریشی، عبد الطارق نیازی،رانا طارق، راؤ عابد، عابد محمود ڈوگر، صفدر کالرو، مرزا اختر بیگ، منیر انجم و دیگر نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب بھر میں پرائمری اور مڈل سکول کھولنے سے اجتناب کرے کیونکہ پریپ سے آٹھویں تک کے طلباء سے کورونا کے ایس او پیز پر عمل درآمد کروانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے اور نہ ہی تعلیمی اداروں میں کلاس رومز کی اتنی بڑی تعداد موجود ہے کہ بچوں کو فزیکل ڈسٹینس پر بٹھا کر کلاسز کا آغاز کیا جاسکے۔البتہ نویں سے لیکر بارہویں تک کی کلاسز کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔

 اگر ایک ڈیسک پر ایک طالبعلم کو بٹھایا جائے تو ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔

شدید گرمی میں سیکنڈ شفٹ بھی کارآمد ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ دن 10بجے سے شدید گرمی پڑنی شروع ہو جاتی ہے اور اب جبکہ شدید گرمی کا آغاز بھی ہو گیا ہے اس دوران بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور بچوں کو پینے کے لئے ٹھنڈے پانی کی فراہمی جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔موجودہ حالات میں جب کورونا وائرس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہو اور عوام بھی بازاروں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ اور سڑکوں پر کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرتے ہوئے نظر آئیں تو سکولوں میں کس طرح کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کروایا جا سکتا ہے۔دوسری طرف سرکاری سکولوں میں اتنے وافر فنڈز دستیاب نہیں ہیں کہ روزانہ طلباء کو ماسک اور سیناٹائزر مہیا کیے جا سکیں۔ اگر تعلیمی ادارے کھولے گئے تو طلباء کی بڑی تعداد کورونا وائرس اور شدید گرمی سے متاثر ہو سکتی ہے جس کی نشاندہی ڈاکٹرز اور ماہرین بھی کر رہے ہیں۔ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو اس سے نمٹنا مشکل ہوگا۔لہذا صوبائی وزیر تعلیم پنجاب، اور سیکرٹری سکولزپنجاب سے مطالبہ ہے کہ تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولنے کے لئے حکمت عملی بنائی جائے۔پہلے مرحلہ میں طلباء کی محدود تعداد وائز سیکشن نویں سے بارہویں تک کی کلاسز کا آغاز صبح 6.30سے 9.30 تک کیا جائے اور سکول کھولنے کی پالیسی پنجاب کی بجائے ضلع کی سطح پر مرتب ہونی چاہیے تاکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز اپنے مقامی حالات کو مد نظر رکھ کر سکول ٹائمنگ کا فیصلہ کر سکیں

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -