ملکی تاریخ میں 13ہوائی حادثے،907افراد جاں بحق،ایک طیارہ آج تک نہیں ملا

    ملکی تاریخ میں 13ہوائی حادثے،907افراد جاں بحق،ایک طیارہ آج تک نہیں ملا

  

لاہور (نیوز ڈیسک)پاکستان کی تاریخ میں اب تک کئی فضائی حادثات رونما ہوچکے ہیں جن میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔ پاکستان کی تاریخ کا پہلا ہوائی حادثہ بیرون ملک 20مئی 1965 کو پیش آیا۔ اس حادثے کا شکار ہونے والی پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 705بوئنگ 720براستہ قاہرہ لندن کے افتتاحی روٹ پر تھی۔ یہ جہاز قاہرہ ائیر پورٹ پر لینڈنگ کرتے ہوئے تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں 124 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں 22صحافی بھی شامل تھے۔دوسرا حادثہ فوکر طیارے F27کا تھا جو 6اگست 1970کو جیسے ہی اسلام آباد ائیر پورٹ سے بلند ہوا، طوفان میں گھر گیا اور راولپنڈی سے 11میل دور راوت کے مقام پر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں تمام 30 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔8دسمبر 1972کو فوکر طیارہ F27فلائٹ نمبر 631اسلام آباد سے اڑنے کے بعد راولپنڈی کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ جہاز میں سوار 26مسافر جان کی بازی ہار گئے تھے۔26نومبر 1979کو پی آئی اے کا بوئنگ 707فلائٹ نمبر740جدہ ائیر پورٹ سے حاجیوں کو لے کر وطن واپس آ رہا تھا کہ طائف کے قریب اس کے کیبن میں آگ لگ گئی اور جہاز جل کر تباہ ہو گیا اور 145 مسافر اور عملے کے 11 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔23اکتوبر 1986کو پی آئی اے کا فوکر F27پشاور کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز میں سوار 54افراد میں سے 13جاں بحق ہوئے۔17اگست 1988کو امریکی ساختہ ہرکولیس C-130فوجی طیارہ بہاولپور کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں فوجی سربراہ اور صدر مملکت جنرل ضیال الحق، مزید 30فوجی جرنیل اور امریکی سفیر ہلاک ہو گئے تھے۔25اگست 1989کو پی آئی اے کا فوکر طیارہ PK-404گلگت کے قریب برف پوش پہاڑوں میں لاپتہ ہو گیا۔ 21سال گزرنے کے باوجود جہاز کا ملبہ اور لاشیں نہیں مل سکی ہیں۔ جہاز کی تلاش میں 73امدادی مشنز بھیجے گئے جو تمام ناکام رہے۔28ستمبر 1992کو پی آئی اے کی ائیر بس A300فلائٹ نمبر268نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو سے صرف چندمنٹ کی دوری پر بادلوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں سے ٹکراکر تباہ ہو گئی۔ عملے کے 12افراد سمیت 155مسافر ہلاک ہو گئے۔اس حادثے کی وجہ جہاز کی مقرر کردہ بلندی سے تقریبا 1600فٹ نیچی پرواز تھی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا بیرون ملک مسافر بردار ہوائی جہاز کا سب سے بڑا حادثہ تھا۔پاک فضائیہ کا فوکر طیارہF27کوہاٹ کے قریب دھند کے سبب گر کر تباہ ہو گیا تھا جس کے سبب پاک فضائیہ کے سربراہ مصحف علی میر، ان کی بیوی اور دیگر 15 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔اس واقعے کے پانچ دن بعد افغانستان کی کانوں اور صنعتوں کے وزیر جمعہ محمد محمدی، چار افغان آفیشلز، چین کے کان کنی کے اعلی عہدیداروں کو لے جانے والا چارٹرڈ جہاز کراچی کے قریب بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 41مسافر جاں بحق ہو گئے تھے۔10جولائی 2006کو پی آئی اے کا فوکر طیارہ F27فلائٹ نمبر 688فضا میں بلند ہونے کے دس منٹ بعد ملتان کے قریب گندم کے کھیتوں میں گر کر تباہ ہو گیا۔ لاہور جانے والی اس فلائٹ میں عملے کے چار ارکان کے علاوہ 41مسافر جاں بحق ہوئے تھے۔ 28 جولائی 2010کو نجی ائیر لائن ائیر بلو کا جہاز ائیر بس A321اسلام آباد کے قریب شمال مشرق میں مارگلہ کی پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔کراچی سے روانہ ہونے والی اس فلائٹ میں عملے کے چھ افراد سمیت تمام 152افراد جاں بحق ہو گئے۔20اپریل 2012کو پاکستان کا بھوجا ایئر بوئنگ طیارہ 737کراچی سے اسلام آباد آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا۔ اس حادثے میں 121مسافر اور عملے کے چھ ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔

طیارے تباہ

مزید :

صفحہ آخر -