کورونا وائرس کا پہلا علاج کب تک دستیاب ہوجائے گا،برطانوی سائنسدانوں نے خوشخبری سنادی

کورونا وائرس کا پہلا علاج کب تک دستیاب ہوجائے گا،برطانوی سائنسدانوں نے ...
کورونا وائرس کا پہلا علاج کب تک دستیاب ہوجائے گا،برطانوی سائنسدانوں نے خوشخبری سنادی

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)یہ دعویٰ بڑے پیمانے پر ادویات کی کورونا وائرس کے 10 ہزار سے زائد مریضوں پر آزمائش کے بعد کیا گیا. انہیں ایچ آئی وی، انسداد ملیریا سمیت 5 ادویات استعمال کرائی جارہی ہیں جو پہلے ہی مختلف امراض کے علاج میں مدد فراہم کررہی ہیں۔

تحقیق میں شامل آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن لانڈرے نے بتایا کہ جن ادویات کو اس تحقیق میں شامل کیا گیا ہے ان میں لوپناویر، ریٹوناویر (ایچ آئی وی کے علاج کے لیے عام استعمال ہونے والی)، ڈیکسا میٹاتھاسون (ورم میں کمی لانے والا ایک قسم کا اسٹرائیڈ) اور ہائیڈرو آکسی کلورو کوئن شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اینٹی بائیوٹک azithromycin اور ورم کے علاج کے لیے انجیکشن کی شکل میں دی جانے والی دوا tocilizumab بھی تحقیق میں شامل ہیں۔

پروفیسر مارٹن لانڈرے نے کہا اگر کوئی دوا اموات کی شرح میں 20 فیصد تک بھی کمی لاسکے تو ہزاروں زندگیوں کو بچانا ممکن ہوجائے گا۔

اموات کا خطرہ 20 فیصد تک کم ہونا سننے میں زیادہ نہیں لگتا، تاہم اگر ہم متعدد ادویات کو دریافت کرسکے جن میں سے ہر ایک خطرے کو 20 فیصد تک کم کردے، تو ہم اموات کی شرح کو فوری طور پر 50 فیصد تک کم کرسکیں گے. زیادہ امکان یہ ہے کہ صرف ایک دوا فاتح ثابت نہیں ہوگی، متعدد ادویات ہی مددگار ثابت ہوسکیں گی.

تحقیقی ٹیم کے قائد پروفیسر نک ہوربے نے خبردار کیا کہ کورونا وائرس ایک مستقل وبا کی شکل اختیار کرسکتا ہے اور طویل المعیاد بنیادوں پر ادویات کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ ایک موثر ویکسین حاصل کر بھی لی گئی تو بھی اس وائرس کا خاتمہ ناممکن ہوگا. وہ شاید ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے. اس لیے اس کا شکار ہونے والوں کے لیے موثر علاج کی ضرورت رہے گی۔

زیادہ عمر والوں کے مقابلے میں نوجوان کورونا سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے اعدادوشمار کے مطابق 17 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں اس بیماری کا امکان زیادہ ہوتا ہے، تاہم ان میں معمر افراد کی طرح شدید بیمار ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔اپریل کی ابتدا تک 11 فیصد مریضوں کی عمریں 17 سے 29 سال کے درمیان تھیں۔ 30 سال سے زائد عمر والوں میں یہ شرح 10 فیصد تھی جبکہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح 7 فیصد تھی لیکن ان میں اموات کا تناسب زیادہ رہا.اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ نوجوان سماجی طور پر زیادہ سرگرم ہوتے ہیں اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی بھی سب سے زیادہ کرتے ہیں.

پاکستان میں بھی نوجوانوں میں اس مرض کی شرح زیادہ ہے مگر اموات میں زیادہ عمر کے افراد کی شرح زیادہ ہے۔

پاکستان کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 20 سے 29 سال کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جو مجموعی مریضوں کی تعداد کا 21.45 فیصد ہے۔

اسی طرح 30 سے 39 سال کا گروپ دوسرے نمبر پر ہے جن میں یہ شرح 21.05 فیصد ہے۔40 سے 49 سال کے افراد لگ بھگ 16 فیصد کے ساتھ تیسرے جبکہ 50 سے 59 سال کے مریض 14.86 فیصد کے چوتھے نمبر پر ہیں۔60 سے 69 سال کے مریضوں میں یہ شرح 9.36 فیصد، 70 سے 79 سال کے مریضوں میں 3.48 فیصد اور 80 سال سے زائد میں 0.81 فیصد ہےمگر اموات کے لحاظ سے یہ شرح بالکل الٹ ہے۔

20 سے 29 سال کی کے مریضوں میں اموات کی شرح 2.09 فیصد ہے جبکہ 30 سے 39 سال کے افراد میں 2.35 فیصد۔

40 سے 49 سالل کے مریضوں میں 13.05 فیصد، 50 سے 59 سال کے افراد میں 25.33 فیصد اور 60 سے 69 سال کے لوگوں میں سب سے زیادہ 32.64 فیصد ہے۔

70 سے 79 سال کے افراد میں 16.71 فیصد اور 80 سال سے زائد کے مریضوں میں 7.31 فیصد ہے۔یہ بات پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ کووڈ 19 کے ایک تہائی سے زائد مریض ایسے ہوتے ہیں جو بیمار نہیں ہوتے یعنی وائرس تو ان میں ہوتا ہے مگر علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

مزید :

برطانیہ -کورونا وائرس -