4 سال قبل چترال میں پی آئی اے کا طیارہ گرا تھا تو ادارے کے سربراہ کیساتھ کیا کیا گیا تھا؟ جان کر ارشد ملک کو پسینہ آجائے

4 سال قبل چترال میں پی آئی اے کا طیارہ گرا تھا تو ادارے کے سربراہ کیساتھ کیا ...
4 سال قبل چترال میں پی آئی اے کا طیارہ گرا تھا تو ادارے کے سربراہ کیساتھ کیا کیا گیا تھا؟ جان کر ارشد ملک کو پسینہ آجائے

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) گزشتہ روز کراچی میں قومی ایئرلائن کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، اس حادثے کے بعد ماضی میں ہونیوالے حادثوں پر بھی بحث ہورہی ہے ، ایسے میں چیئرمین پی آئی اے اعظم سہگل کا استعفیٰ بھی خبروں میں ہے جنہوں نے چترال سے اسلام آباد آنیوالے اے ٹی آر طیارہ حادثے اور 47 افراد کی شہادت کے بعد عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا ، اب یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا کراچی سانحے پر چیئرمین پی آئی اے ارشد ملک عہدے سے استعفیٰ دیں گے یا نہیں؟

تفصیلات کے مطابق حویلیا ں کے قریب چار سال قبل طیارے کی تباہی پر قومی ایئرلائن کی ساکھ پر بھی شدید تنقید کی گئی تھی اور اندرون ملک پرواز کرنیوالے اے ٹی آر طیارے از سرنو کلیئرنس تک گرائونڈ کردیئے گئے تھے ، اس حادثے میں 47 افراد کی موت ہوئی تھی جبکہ تنقید ہونے پر اس وقت کے چیئرمین پی آئی اے  نے  بھی عہدے سے استعفیٰ دیدیاتھا اور اعظم سہگل نے بتایا تھا کہ  ذاتی وجوہات کی بنا پراستعفیٰ دے رہا ہوں۔بعض اطلاعات کے مطابق مرحوم اعظم سہگل پی آئی اےسےتنخواہ بھی نہیں لیتےتھے.

ادھرکراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے کا کہنا تھا کہ قومی ایئر لائن ( پی آئی اے ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او ) ایئر مارشل ار شد ملک نے کہا کہ شہید پائلٹ کے اہل خانہ کا حوصلہ دیکھ کر مجھے بھی حوصلہ ہوا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اللہ طیارہ حادثے میں شہید ہونے والوں کے درجات بلند کرے، لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔ ہم سانحہ میں لواحقین کے ساتھ ہیں، آج کے حادثے میں ہمارے دو پلائٹ ہم سے جدا ہوگئے ۔ جہاز ٹیک آف کرنے سے پہلے انجینئرز سے کلیئر کرایا جاتا ہے، جہاز ٹیکنیکل طور پر پوری طرح محفوظ تھا۔ طیارہ حادثے کی انکوائری وزارت ہوا بازی مکمل کرے گی۔ وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور بھی کراچی آرہے ہیں۔

ارشد ملک کا کہنا تھا کہ اس سانحے میں متاثرین کے ساتھ کھڑےہیں، انکوائری میں فیکٹ اینڈ فیگرز سامنے آئیں گے۔ شفاف انکوائری میں پی آئی اے اور سی اے اے کا کوئی کردار نہیں ہوگا،انکوائری میں فیکٹ اینڈ فیگرز سامنے آئیں گے۔ جہازمیں 99 لوگ تھے جس میں کیبن کریو بھی شامل تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ حادثے کا شکار جہاز آبادی میں ایک گلی میں لینڈ ہوا، کچھ لوگ میڈیا پر شر پھیلا رہے ہیں۔ پائلٹ نے بتایا کہ وہ ہر لحاظ سے لینڈنگ کے لئے تیار ہے، دوسری دفعہ لینڈنگ کے لئے آتے وقت جہاز کے ساتھ کچھ ہوا۔

پی آئی اے چیئر مین کا کہنا تھا کہ پنجاب بینک کے صدر ظفر مسعود محفوظ ہیں انکا کنفرم کر رہا ہوں۔ ہمیں فتنہ اور شر سے بچنا ہے، ایدھی اور چھیپا اس وقت سب سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔تحقیقات کے حوالے سے ارشد ملک کا کہنا تھا کہ سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ حکومت پاکستان کا ادارہ ہے وہی تحقیقات کریگا، تحقیقات میں پی آئی اے کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ آپریشن مکمل کرنے میں 2سے3دن ملیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اور سول ایوی ایشن کے چیک اینڈ بیلنس بھی ہوتا ہے۔ جب تک سیفٹی مکمل نہیں ہوتی جہاز نہیں اڑایا جاتا، بوئنگ یا ائربس کا اگر کوئی جہاز اڑتا ہے تو اسکی نگرانی کمپنی کررہی ہوتی ہے۔چیئر مین پی آئی اے کا کہنا تھا کہ پائلٹ نے لینڈنگ کی کوشش کی لیکن گیئر نہیں کھلا، پائلٹ نے دوبارہ لینڈنگ کی کوشش کی جب حادثہ ہوا۔ ہوسکتا ہے گیئر کھلا ہی نہ پھنس گیا ہو۔ جہاز تکنیکی لحاظ سے بالکل ٹھیک تھا۔ یہ جہاز بالکل ٹھیک اور اسکا الفا چیک مارچ میں ہوا۔ یہ سانحہ کیسے ہوا اس کیلئے انکوائری ضروری ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے ارشد ملک کا کہنا تھا کہ جہاز گلی میں گرا، تمام لواحقین سے آج رات تک رابطہ کرلینگے، متاثرہ گھروں سے فی الحال کوئی ڈیڈ باڈی نہیں ملی، ائرپورٹ ہوٹل خالی کر لیا ہے کسی بھی مسافر کے لواحقین آنا چاہیں تو انکو وہاں رکھیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت بین الاقوامی طور پر پی آئی اے کے طیارے محفوظ ترین ہیں۔ کوئی جہاز تکنیکی کلیئرنس کے بغیر اُڑان نہیں بھر سکتا، پرندوں کے ٹکرانے کی وجہ سے ہمارے ہاں بہت سے حادثات ہوئے، اس حوالے سے کچھ مشینری بھی درآمد کر رہے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -