نیویارک میں لاک ڈاﺅن کے دوران وہ واحد جوڑا جس کی عدالت نے ایمرجنسی میں طلاق کروادی

نیویارک میں لاک ڈاﺅن کے دوران وہ واحد جوڑا جس کی عدالت نے ایمرجنسی میں طلاق ...
نیویارک میں لاک ڈاﺅن کے دوران وہ واحد جوڑا جس کی عدالت نے ایمرجنسی میں طلاق کروادی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی شہر نیویارک میں جب سے کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاﺅن ہوا ہے، کسی ایک میاں بیوی کی طلاق کے مقدمے میں فیصلہ نہیں ہوا لیکن اب عدالت نے ایک جوڑے کی طلاق کے معاملے کو ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے ان کی طلاق کروا دی ہے جو لاک ڈاﺅن کے دوران ہونے والی پہلی طلاق ہے۔ میل آن لائن کے مطابق قانونی وجوہات کی بناءپر اس جوڑے کی شناخت مخفی رکھی گئی ہے۔ اس جوڑے کا تعلق مین ہیٹن سے تھا جنہوں نے طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا تھا۔

رپورٹ کے مطابق طلاق کے وکیل مورگھن رچرڈ سن نے عدالت کی جج مشعیل کیٹز سے درخواست کی کہ اس طلاق میں چونکہ امیگریشن کا معاملہ بھی ملوث ہے لہٰذا اسے ایمرجنسی کیس ڈکلیئر کرتے ہوئے اس کا ہنگامی طور پر فیصلہ سنایا جائے۔ جج نے یہ درخواست قبول کر لی۔ چونکہ جج مشعیل لاک ڈاﺅن کی وجہ سے گھر بیٹھے کام کر رہی تھی لہٰذا اس نے کیس کے کاغذات گھر منگوائے اور اس جوڑے کی طلاق کروا دی۔ وکیل مورگھن رچرڈ سن کا کہنا تھا کہ ”میری موکل فوری طور پر اپنے غیرملکی شوہر سے طلاق چاہتی تھی اور یہی راستہ تھا کہ اسے اس تکلیف دہ رشتے سے نجات دلائی جا سکے۔جب طلاق کا فیصلہ ہوا تو میری کلائنٹ خوشی کے مارے رونے لگی۔ اگر اس کی فوری طلاق نہ ہوتی تو اس کی زندگی پر اس کے خوفناک نتائج مرتب ہوتے کیونکہ امیگریشن کا ایک مسئلہ اس کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔“ تاہم مورگھن رچرڈ سن نے یہ واضح نہیں کیا کہ امیگریشن کا کیا مسئلہ اس کیس سے وابستہ تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -