سیاست میں 35سالہ تجربے کے حامل وزیراعظم کی انوکھی خواہش

سیاست میں 35سالہ تجربے کے حامل وزیراعظم کی انوکھی خواہش
سیاست میں 35سالہ تجربے کے حامل وزیراعظم کی انوکھی خواہش
سورس: File

  

تحریر : خالد نجیب خان

کرکٹ کی دنیا میں شاہد آفریدی کو ہیروماننے والوں میں سے اکثریت ایشیئن بریڈ مین،رنزمشین،منڈا سیالکوٹی،ظہیرعباس کے نام سے واقف نہیں ہوں گے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ان کی وجہ سے بڑاعروج ملا تھا۔چند ایک میچوں میں اُن سے ٹیم کی قیادت بھی کروائی گئی مگر بعد ازاں اُنہوں نے معذرت کرلی اور پھراُنہی کپتانوں کی قیادت میں کھیلتے رہے جن کی وہ کبھی قیادت کرتے رہے تھے۔آج کل وہ کیا کررہے ہیں زیادہ ترلوگ اٗس سے بے خبر ہیں اور اُن کی حالیہ مصروفیت ہمارا موضوع بھی نہیں ہے۔ کرکٹ سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد وہ کچھ عرصہ تک ٹی وی پر آکر کمنٹری بھی کرتے رہے۔ ایک  انٹرنیشنل ٹیسٹ میچ میں ایک بیٹسمین نے بڑی شانداراننگز کھیلتے ہوئے ڈھائی سو سے زیادہ سکور کے ساتھ کوئی ریکارڈ بھی بنایا اور اپنی ٹیم کو خطرے سے نکال دیا۔اُس بیٹسمین کی اِننگز ختم ہونے پر اُسے ہر طرف سے پذیرائی مل رہی تھی ۔توقع کی جارہی تھی کہ ظہیرعباس بھی اِس پذیرائی میں کوئی ستارہ ٹانکیں گے مگر اُنہوں نے ناصرف اُس بیٹسمین کومایوس کردیا بلکہ عوام بھی اُن سے یہ توقع نہیں کررہے تھے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ کھلاڑی ایک اِنتہائی فضول قسم کی گیند پرآؤٹ ہوا ہے اِس پر اِسے سزاہونی چاہیے۔اتنی لمبی اننگز کھیلنے والے کھلاڑی کوتواتنا تجربہ حاصل ہوجاتا ہے کہ چھوٹی سی کرکٹ بال اُسے فٹبال کی طرح نظر آنے لگتی ہے اورایسی بال تو وہ آنکھیں بند کرکے بھی کھیل سکتا تھا۔اِس کے آؤٹ ہونے پرداد کی بجائے سزا ملنی چاہیے۔ ظہیر عباس کے اصل الفاظ شاید کچھ اور ہوں مگراُن الفاظ کا مقصد اورمفہوم یہی تھا۔ 

ظہیرعباس کا یہ تبصرہ ہمیں آج کے "محترم "وزیراعظم کا یہ بیان پڑھ کر یاد آگیا جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ"لاڈلے جیسا تعاون ہماری حکومت کوملتا تو ملک راکٹ کی طرح اوپرجاتا" وہ کراچی شپ یارڈاینڈ انجنیئرنگ ورکس میں پاک بحریہ کے تیسرے ملجم کلاس کارویٹ بحری جہاز پی این ایس بدر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرنے کے لئے کراچی پہنچے توایوان صنعت وتجارت کراچی بھی گئے اورایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا؛ "نئی سرکار کو سرمنڈواتے ہی اولے پڑے،اب مشکل آن پڑی ہے تو پھرقربانی دینا پڑے گی۔11اپریل کو میں نے حلف اُٹھایا توڈالر 189 روپے کا تھا،اِس اڑان میں تو ہمارا کوئی قصورنہیں تھا،جس دن حلف اُٹھایا تو ڈالرسستا ہوگیا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت  نے  ساڑھے تین سالوں میں عام آدمی کو ایک دھیلے کا ریلیف نہیں دیا۔قرضے ہی قرضے لئے گئے۔ ماضی کی حکومت نے 22ہزار ارب کے قرضے لیے،ساڑھے تین سالوں میں 80 فیصد قرضوں میں اضافہ ہوا، لاڈلی حکومت اور لاڈلے کو مقتدر ادارے نے 75سالہ تاریخ میں مثالی سپورٹ دی۔ایسی  ہماری حکومت کو30 فیصد سپورٹ ملتی توپاکستان راکٹ کی طرح اوپرجارہا ہوتا۔شہباز شریف نے کہا کہ آپ کے سامنے سب کچھ ہے۔جب لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی تودوبارہ کیوں ہورہی ہے،قوم ان سوالوں کا جواب مانگ رہی ہے، روپیہ کی قدر تیزی سے نیچے جارہی ہے، صورتحال سب کے سامنے ہے، کاروباری حضرات ساری صورتحال کو سمجھتے ہیں، خدارا حکومت کو حل بتائیں۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے2013ء میں پہلی مرتبہ صوبہ کے پی کے میں حکومت بنائی اوراِس کے بعد 2018ء کے انتخابات کے نتائج آنے پرکے پی کے  کے علاوہ پنجاب اور وفاق میں بھی حکومتیں  بنائیں۔ گویا اُن کی حکومت کا زیادہ سے زیادہ تجربہ دس سال کا بھی نہیں ہے جبکہ موجودہ وزیراعظم کو بذاتِ خود تین مرتبہ وزیراعلی اوردو مرتبہ قومی اسمبلی میں لیڈرآف دی اپوزیشن رہنے کا اعزازحاصل رہا ہے جبکہ اُن کی جماعت 1985ء سے کسی نہ کسی طرح اقتدار میں رہی ہے۔ اِس دوران میں اگر اُنہیں سیاست کی باریکیوں اورامورِ حکومت کی پیچیدگیوں کا اندازہ نہیں ہوسکا ہے تو پھر کیا وہ "لاڈلا" اُن سے ہزار گنا بہتر نہیں ہے جس نے مختصراورمشکل ترین وقت میں ناصرف امورِ حکومت کی پیچیدگیوں کو سمجھا بلکہ اُن کو ویسا بنانے کی کوشش بھی کی کہ کل کو اگروہ خود اقتدار میں نہ بھی ہوں تواُن کا بنایا ہوا نظام اِسی طرح کسی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کام کرتا رہے ۔یہ حقیقت ہے کہ 2018ء میں جب ن لیگ کی حکومت ختم ہوئی تو خاص طور پر صوبہ پنجاب میں تمام ترحکومتی نظام صرف اِس وجہ سے ٹھپ ہوگیا تھا کہ اُس کو چلانے والا غیر ن لیگی تھا۔ محترم وزیراعظم صاحب کا یہ بیان بے شک اِس بات کا اعتراف ہے کہ وہ صرف  چُوری کھانے والے رانجھا ہیں اور اُن کا اقتدار میں آنے کا مقصد محض مراعات حاصل کرنا ہی ہے۔ عوام کی خدمت یا بہبود ہرگز اُن کا مقصد نہیں ہے۔ 

عمران خان کے حامی اورپی ٹی آئی کے  ورکرزاِس وقت اسلام آباد کی سڑکوں پرجمع ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ سب لوگ ن لیگ کے مراعات یافتہ میڈیا سے پوشیدہ ہوں تاہم یہ سب لوگ باقی میڈیا کوبخوبی نظرآرہے ہیں۔ اسلام آباد میں جمع ہونے والے یہ سب لوگ صاف شفاف عام انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں۔عمران خان کی حکومت کو اپوزیشن کی طرف سے" نااہل" اور" نالائق" حکومت کے ساتھ ساتھ" لاڈلی حکومت "کا بھی خطاب ملا مگر اپوزیشن کہیں بھی اپنے اِس دعوے کو سچ ثابت نہیں کرسکی کہ عمران حکومت نااہل یا نالائق تھی اورکسی ادارے کی لاڈلی حکومت تھی اور نہ ہی عمران خان نے اپوزیشن کے اِس الزام کوتسلیم کیا جبکہ شہباز شریف کا یہ کہنا کہ اگراُن کی اِس حکومت کو30 فیصد سپورٹ بھی مل جاتی تو پاکستان راکٹ کی طرح اوپر جارہا ہوتا،اِس بات کا اقرار ہے کہ وہ خود نااہل اورنالائق حکمران ہیں اوراُنہیں کسی انسٹرکٹر کی ضرورت ہے جوہر وقت اُن کی مدد کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہواوراُن کے خاندان کے لوگ پروٹوکول کے مزے لوٹتے رہیں۔

جناب وزیراعظم! اگر35 سال تک حکومت کرنے اور اپنی دولت غیر ملکی بنکوں میں جمع کرانے یا غیر ممالک میں پراپرٹیز خریدنے  کے بعد بھی آپ کو30فیصد اُس سپورٹ کی ضرورت ہے جس کا آپ گزشتہ تین سال سے عمران حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہوئے اُسے طعنے دیتے رہے ہیں تو بہتر ہے کہ آپ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے اپنے" غریب" والد کا پیشہ اختیار کر لیں اورامورحکومت اُن لوگوں کے لئے چھوڑ دیں جواِس کے اہل ہیں ۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -