لاہور میں تعینات 300 پٹواری ایسی مشکل میں پھنس گئے کہ حیرت کی انتہا نہ رہے

لاہور میں تعینات 300 پٹواری ایسی مشکل میں پھنس گئے کہ حیرت کی انتہا نہ رہے
لاہور میں تعینات 300 پٹواری ایسی مشکل میں پھنس گئے کہ حیرت کی انتہا نہ رہے
سورس: File

  

لاہور (عامر بٹ) پنجاب کے دارالحکومت کے محکمہ ریونیو میں تعینات 300سے  زائد پٹواری ایک دوسرے کے ہم نام ہونے کی سزا بھگتنے پر مجبور ہوگئے۔ ہمنام ہونے کے باعث محکمہ اینٹی کرپشن ، محکمہ ریونیو ودیگر احتسابی اداروں  کے افسران کے جانب سے بے گناہ ملازمین کو سزائیں دیئے جانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے ۔

روزنامہ پاکستان کو موصول ہونے والی  معلومات کے مطابق  لاہور  میں تعینات پٹواری قانونگو ، ریونیو آفیسر اور تحصیلداروں  کے  ناموں کی مماثلت اُن کے لیے وبال جان بن چکی ہے ، صوبائی دارالحکومت کی پانچوں تحصیلوں میں تعینات محکمہ ریونیو کے زیادہ تر پٹواری ہم نام ہونے کے باعث ایک دوسرے کی سزا جھیلنے پر بھی مجبور ہوگئے ۔

ذرائع کے مطابق 2008 میں بنائی جانے والی پٹواریوں کی بلیک لسٹ میں بھی اصل ذمہ داران پٹواری ہم نام ہونے کے باعث بچا لیے گئے اور بے گناہ پٹواریوں نے  10سال سے زائد عرصہ  سزائیں بھگتیں ۔ اسی طرح محکمہ اینٹی کرپشن لاہور ریجن میں بھی اگر نیاز بیگ کے پٹواری قاسم شاہ کوپکڑنا ہوتا ہےتو وہ ستوکتلہ میں تعینات پٹواری قاسم شاہ کو گرفتار کرلاتے ہیں۔  اگر نیاز بیگ کے منشا پٹواری کوپکڑنے گئے تو کوٹلی گھاسی کے منشا ء پٹواری کی گرفتار ی کرڈالی ۔ایک جیسے نام ہونے کے باعث افسران کو بھی ان کی شناخت میں دشواری پیش آتی ہے ان کے خلاف ہونے والی انکوائری کی سزا ا س کے ہم نام کو ملنا بھی معمول بن چکا ہے۔

ان ہم نام پٹواریوں کی وجہ سے محکمہ مال کے افسران کے ساتھ احتسابی اداروں کے تفتیشی افسران اور عدالتیں بھی پریشان ہیں جو کہ ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنے ،جعلسازی اور فراڈ میں ملوث ملازمین کو نوٹس بھجواتی ہیں لیکن وہ  متعلقہ پٹواری کی بجائے اس کے ہم نام پٹواری کو پہنچ جاتی ہیں  اور بعد ازاں عدالت اور احتسابی ادارے کے افسران کے پاس پیش ہو کر بے گناہ پٹواری اپنے ہم نام ہونے کا قصہ سنا کر اپنی بے گناہی کی صفائی پیش کرتے ہیں۔

اسی  طرح محکمہ اینٹی کرپشن کے درجنوں مقدمات میں ملوث پٹواری بھی ہم نام ہونے کی وجہ سے محکمہ اینٹی کرپشن کے لئے عذاب بنے ہوئے ہیں اور متعدد مقدمات میں ملوث پٹواری کی بجائے اس کے ہم نام پٹواری کو پکڑ لیا جاتا ہے ۔ اس عمل سے نہ  صرف محکمہ اینٹی کرپشن کے مقدمات میں ملوث پٹواریوں  کے لئے آسانیاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ  اینٹی کرپشن کی تفتیش بھی التواکا شکار ہو جاتی ہے بلکہ انکوائری اور مقدمہ بھی سست روی کا شکار ہو جا تاہے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ لینڈ مافیا کے ساتھ مل کر سرکاری زمینوں کو بیچنے اور جعلی کاغذات کے ذریعے لوگوں کی زمینوں ہتھیانے والے بااثرپٹواریوں نے محکمہ مال میں اپنی شناخت مٹانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ محکمہ مال کے کمپیوٹر میں ان کے دفتری کار ڈ کی تجدید کے لئے لی گئی تصاویر بھی ہر سال کی طرح کسی پراسرار وائرس آنے کے بعد کمپیوٹر سے مٹا دی جاتی ہیں ،جب کہ متعدد پٹواریوں کی ڈومیسائل پر لگائی گئی تصاویر بھی غائب ہو چکی ہیں۔

محکمہ مال میں اس وقت بھی ذوالفقار نام کے سات اہلکار ،مشتاق نام کے چھ ،خالد نام کے آٹھ ،اسلم نام کے سات ،ندیم نام کے پانچ،آصف نام کے چار،قاسم نام کے تین ،افتخار نام کے دو،شرافت نام کے دو،اکرم نام کے دو،اسرار نام کے دو،الطاف حسین نام کے تین ،فجر نام کے دو،زاہد نام کے دو،مجید نام کے پانچ ،عباس نام کے تین،انور نام کے تین ،حمید نام کے دو،اسماعیل نام کے دو ،ظفر اقبال نام کے دو،عبیداللہ نام کے دو،رحمت علی نام کے دو،نصراللہ نام کے تین،نواز کے دو،شوکت نام کے چھ،امجد نام کے تین ،ساجد نام کے دو،ارشد نام کے آٹھ ریونیو اہلکار محکمہ مال میں بطور پٹواری ،قانونگو،نائب تحصیلدار اور تحصیلدار کی پوسٹ پر کام کررہے ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -