میر قاسم ۔۔۔۔(1761ءسے 1765ءتک)

 میر قاسم ۔۔۔۔(1761ءسے 1765ءتک)
 میر قاسم ۔۔۔۔(1761ءسے 1765ءتک)

  

مصنف : ای مارسڈن 

 کلائیو کے انگلینڈ روانہ ہوتے ہی میر جعفر کی شامت آ گئی۔ شہزادہ¿ دہلی شاہ عالم ثانی کے لقب سے تخت نشین ہو چکا تھا۔ اس نے نواب اودھ کی ہمراہی میں بنگال پر حملہ کیا۔ انگریز گورنر نے کپتان فوکس کو تھوڑی سی فوج دے کر غنیم کے مقابلے پر بھیجا۔ پٹنہ کے مقام پر ان کی مڈبھیڑ ہوئی۔ شہر کے قریب لڑائی ہوئی۔ فوکس کے سپاہیوں نے شاہ عالم اور شجاع الدولہ دونوں کو شکست دی اور اودھ کی طرف بھگا دیا۔

 اب صاف طور پر ظاہر ہو گیا کہ میر جعفر بنگال کی حکومت کی قابلیت نہیں رکھتا۔ کلکتہ کے گورنر نے اس کو معزول کیا اور اس کے داماد میر قاسم کو اس کی جگہ اس امید پر مقرر کیا کہ شاید یہ اچھا نکلے اور اپنے ملک کی حفاظت کر لے۔ اس کے صلے میں میر قاسم نے انگریزوں کو بردوان، چاٹگام اور مدنی پور کے ضلعے نذر کیے۔ یہ علاقہ کل بنگال کا تقریباً ایک ثلث تھا۔

 میر قاسم شروع شروع میں تو اچھا رہا۔ اس نے میر جعفر کا کل قرضہ ادا کیا اور ملک کا انتظام بھی بخوبی کر دیا لیکن یہ میر جعفر کی طرح برائے نام نواب رہنا نہیں چاہتا تھا، بلکہ اس کی آرزو یہ تھی کہ اگلے نوابوں کی طرح مطلق العنان ہو کر رہوں اور جو دل میں آئے سو کروں۔ اس کے یہاں کچھ فرانسیسی نوکر تھے۔ دو تین برس ان کی مدد سے اس نے اپنی سپاہ کو خوب قواعد وغیرہ سکھائے اور پھر جب وہ تیار ہو گئی تو اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ انگریزوں کے قابو سے جنہوں نے اسے گدی پر بٹھایا تھا نکلاجائے اور ان کو ملک سے بالکل نکال دینا چاہیے۔ یہ اپنے دارالسطنت کو مرشد آباد سے ہٹا کر جو کلکتہ سے سو میل کے فاصلے پر تھا مونگیر لے گیا جو 300 میل دور تھا۔ کیونکہ یہ انگریزوں کے اتنے قریب رہنا پسند نہیں کرتا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ اب مجھ میں لڑنے کی کافی طاقت ہے تو ان پر حملہ کرنے کا بہانہ ڈھونڈھنا شروع کیا۔

 بہانہ بھی جلد ہاتھ آ گیا۔ پلاسی کی لڑائی کے بعد میر جعفر نے اجازت دےدی تھی کہ کمپنی کے ملازم اپنا ذاتی اسباب بلامحصول جہاں چاہیں لے جایا کریں۔ کچھ عرصے کے بعد کمپنی کے ملازموں اور محرروں نے مقامی تاجروں سے روپیہ لے کر اجازت دے دی کہ ان کے نام سے اپنا مال جہاں چاہیں بلا محصول لے جائیں۔ میر قاسم نے اس سلسلے کو بند کرنا چاہا مگر اس کی کوشش کارگر نہ ہوئی۔ اس لیے اس نے مال پر محصول لینا قطعی بند کر دیا اور ہر شخص کو اجازت ہو گئی کہ جہاں چاہے بلا محصول ادا کیے مال لے جائے۔ کمپنی کے ملازموں کو یہ بات پسند نہ آئی۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم تو محصول دینے سے بری رہیں اور دوسروں سے محصول لیا جائے۔ اس پر میر قاسم نے لڑائی کی تیاری کر دی۔ شاہ عالم اور شجاع الدولہ سے درخواست کی اور یہ تجویز پیش کی کہ ہم تینوں مل کر انگریزوں پر حملہ کریں اور ان کو ملک سے نکال دیں۔ پٹنہ میں جو انگریز سوداگر تھے ان کو پکڑ کر میر قاسم نے قید کر دیا اور اپنے افسروں کو حکم دے دیا کہ جو انگریز جہاں ہاتھ آئے قتل کیا جائے۔

 کلکتہ میں انگریزوں کی کونسل ہوئی اور میر جعفر پھر تخت پر بحال کیا گیا۔ میجر ایڈمس کو جو سپاہی ملے وہ انہیں لے کر کلکتہ سے چل نکلا۔ اس کے ہمراہ 600 گورے تھے اور 1ہزار ہندوستانی سپاہی، 3 جگہ میر قاسم کی قواعددان فوج سے مقابلہ ہوا اور تینوں جگہ میر قاسم کی فوج کو شکست دی اور پھر آگے بڑھ کر اس کے دارالحکومت مونگیر پر حملہ آور ہوا۔ میر قاسم اس کے آنے تک بھی نہ ٹھہرا۔ مونگیر چھوڑ کر پٹنہ کی طرف بھاگا۔ اب اس نے انگریزوں کے کمانڈر کو کہلا بھیجا کہ اس کے آگے بڑھو گے تو تمہارے سب قیدیوں کو جان سے مار دونگا۔ قیدیوں میں ایک شخص مسٹر ایلس سب سے زیادہ لائق تھا۔ وہ مرنے سے نہ ڈرتا تھا۔ اس نے میجر ایڈمس کو لکھا کہ خواہ کچھ ہی ہو تم بڑھے چلے آﺅ۔ میجر ایڈمس نے خیال کیا کہ میر قاسم ایسا بھی کیا ظالم اور بے رحم ہو گا کہ نہتے قیدیوں کو مار ڈالے گا۔ اس لیے بڑھا چلا گیا اور مونگیر لے لیا۔ اس خبر کے سنتے ہی میر قاسم طیش میں آیا۔ ایک کمینہ جرمن سمرواس کی فوج میں ملازم تھا۔ اس نے میر قاسم کے حکم سے بہت سے ہندوستانی سپاہی ساتھ لے کر تمام انگریز قیدیوں کو قتل کر دیا۔ یہ ستم بلیک ہول کے ماجرے سے بھی بڑھ گیا اور پٹنہ کا قتل عام کہلاتا ہے۔

 چند روز بعد پٹنہ بھی فتح ہوا۔ میر قاسم بھاگ کر اودھ پہنچا اور شاہ عالم اور شجاع الدولہ سے مل گیا۔ دو تین مہینے تو میجر منرو ادھر ادھر چکر لگاتا رہا اور پھر اپنی سپاہ کے ساتھ تینوں کے تینوں سے بکسر کے مقام پر حملہ آور ہوا اور وہیں 1764ءمیں انہیں شکست دی۔ اول اول انگریزوں کو شمالی ہند میں جو لڑائیاں لڑنی پڑیں۔ ان میں سے پلاسی کو چھوڑ کر بکسر کی لڑائی سب سے زیادہ مشہور ہے۔ یہ پہلی لڑائی تھی جس سے انگریزوں کو دہلی کے مغل بادشاہ کے ساتھ معرکہ آرائی کرنا پڑی اور انگریزوں نے اس موقع پر بادشاہ کو ایسا بھگایا کہ پھر وہ کبھی انکے مقابلے پر نہ آیا۔ اس کارگزاری کے بعد انگریز شمالی ہند میں سب سے زبردست نظر آنے لگے۔ شاہ عالم کو یاد تھا کہ کلائیو پیشتر اسکے ساتھ کتنی مروت کر چکا تھا۔ اب بھی اس نے وہی کیا، یعنی اپنے آپ کو انگریزوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ شجاع الدولہ بھاگ گیا اور دوبارہ کچھ فوج جمع کر کے لایا، لیکن کورہ کے مقام پر پھر شکست کھائی۔ اب اس نے بھی اپنے آپ کو انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ میر قاسم ڈرا کہ نہ معلوم میری خطا کا کیا انتقام مجھ سے لیا جائے۔ اس لیے بھاگ گیا اور نہیں معلوم پھر اس کا کیا انجام ہوا۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -