سا حل سے کچھ فا صلے پر گُلمِت کی آبادی تھی لیکن کچھ ویران سی۔۔۔۔۔

سا حل سے کچھ فا صلے پر گُلمِت کی آبادی تھی لیکن کچھ ویران سی۔۔۔۔۔
سا حل سے کچھ فا صلے پر گُلمِت کی آبادی تھی لیکن کچھ ویران سی۔۔۔۔۔

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :83

گُلمِت، گو جال: 

کشتی سے زمین پر پاؤں رکھنے سے پہلے ہی ہمیں یہ اطلاع مل چکی تھی کہ گلمت سے پسو جا نے کا راستہ بند ہے۔میں نے سمیع، ندیم اور طاہر سے کہا کہ پسو کے راستے کی معلو مات لے کر آ ئیں جس پر تینوں کما نڈوز مقا می لو گوں سے پوچھ تاچھ کر نے کے لیے ادھر اُدھر پھیل گئے، جس کا حا صل یہ نکلاکہ گلمت سے آ گے غُل کِن چشمے کا رخ بدلنے سے سڑک بہہ گئی ہے اور کئی روز سے زیر ِ آب ہے۔راستہ کھو لنے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔اب سوال یہ تھا کہ حسینی والا پُل چشمے سے اِدھر ہے یا اُدھر؟ ا س کا جواب کسی سے واضح نہیں ملا۔ صرف یہ پتہ چلا کہ پُل ہے۔ اعظم سے مشورہ کیا تو اس کا جواب ہمیشہ کی طرح حو صلہ افزا تھا۔ 

”اب یہاں تک تو آ گئے ہیں تھوڑا سا آ گے بھی دیکھ لیتے ہیں۔“

چناں چہ رِسک لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ سمیع اور طاہر سواری ڈھو نڈنے چلے گئے۔ یہاں پبلک ٹرانسپورٹ تو تھی نہیں، چند جیپیں اور کاریں کھڑی تھیں۔ اس بھیڑ میں ندیم نے نذیر کو پہچان لیا۔ وہ اپنی سرخ جیپ کے ساتھ ایک طرف کھڑا دوسرے ڈرائی وروں کے ساتھ باتیں کر رہاتھا۔ میرے اور ندیم کے بر عکس اس نے ہم دونوں کو با لکل نہیں پہچا نا۔ ظاہر ہے مسافر تو آتے جاتے رہتے ہیں کو ئی کس کس کو یاد رکھے۔ہم نے اس کی یاد داشت تازہ کر نے کے لیے پچھلی باتیں دوہرائیں تواس نے یاد آنے کا تاثر دیا لیکن اس کا جیپ کے کرائے پر کو ئی مثبت اثر نہیں پڑا، اس لیے طاہر کو ئی اور گا ڑی ڈھونڈنے نکل گیا۔ تھو ڑی دیر بعد اس نے ایک مقامی نوجوان ڈھو نڈ لیا جو معقول کرائے پر ہمیں اپنی گاڑی میں چشمے تک لے جانے پر رضامند ہو گیا اور ہم اس کی کرولا کارمیں سوار ہو گئے۔اعظم اور ندیم بھاری پیکروں کے ہوتے ہوئے کیسے سوار ہوئے ،وہ حال لکھنے کا نہیں دیکھنے کا تھا۔ 

سا حل سے کچھ فا صلے پر گُلمِت کی آبادی تھی لیکن کچھ ویران سی۔ علاقے کے اچھے ہو ٹل میں چینیوں نے رہائشیں اور دفاتر قائم کر رکھے تھے۔ سڑک کی حالت خراب تھی اور دریا کے ساتھ ساتھ سیلاب کے دنوں کی ریت مٹی دور دور تک پھیلی ہوئی تھی جو خشک ہو کر پتھر ہوگئی تھی، جس میں پھنسی ہوئی بے بس کشتیاں تھیں، تباہ حال مارکیٹوں کے ڈھانچے تھے اور مردہ درختوں کے جسم تھے۔ لیکن ان کے ساتھ ساتھ سڑک کی دوسری طرف زند گی کی شاخوں پر نئی کو نپلیں پھوٹ رہی تھیں۔گھر تھے اور ان میں لوگ تھے۔ریت، بے برگ و بار درخت، شکستہ کشتیاں اور گھروں کاملبا گوجال کا ما ضی تھا۔ چھو ٹے کھڑ کیوں دروازوں والے پست قامت گھر، ان کے صحنوں میںاگے چیری کے درختوں پر جگ مگا تے ننھے سرخ قمقمے اور ان کے نیچے کام کر تی عورتیں، نئے پُل اور سڑکیں بناتے محنت کش ہنزائی اور چینی ،گو جال کا حال تھا جس سے مستقبل جنم لے رہاتھااور اس امید ناامیدی، زندگی موت اور تخریب و تعمیر کے درمیان سڑک کے برزخ میں ہماری کار ہچکولے کھاتی چل رہی تھی۔ کہیں کہیں تو یہ ہچکولے اتنے سخت ہو جاتے کہ مجھے کار پر ترس آ نے لگتا اور ڈر محسوس ہوتا کہ ڈرا ئی ور جو در اصل ایک مقا می بو تیک کا مالک تھا اور جز وقتی ڈرا ئیوری کرتا تھا، ہمیں اپنی گا ڑی سے اتار نہ دے لیکن وہ سٹا ئلش نوجوان جدید پُر شور گا نے سنتا اطمینان سے کار چلا رہاتھا۔ را ستہ کچھ زیادہ طویل نہیں تھا۔ تھو ڑی دیر بعد ہماری کار ایک تباہ شدہ سڑک سے نیچے اتر کر رک گئی۔

اک اور دریا کا سا منا تھا۔۔۔

سا منے جہاں سابق سڑک کی با قیات ختم ہو تی تھیں وہا ں ایک چشمہ بہ رہا تھا۔ ہمارے علاوہ بھی کا فی لوگ اور گا ڑیاں چشمے کے کنارے پر جمع تھےں۔ یہ غل کِن چشمہ تھا جو طغیانی کے باعث اپنا راستہ چھوڑ کر بہک گیا تھا اور طاقت کی وحشت میں سڑک کو بھی بہا لے گیاتھا۔ گا ڑی سے اتر کر ہم سب آ گے گئے تا کہ چشمہ عبور کر نے کی گنجا ئش دیکھی جائے۔ بائیں ہاتھ بلندی سے پتھروں سے ٹکراتا اور شور مچاتا گدلا پانی آ رہا تھااور اس جگہ سے، جہاں کبھی سڑک ہو تی تھی اور اب کچھ نہیں تھا، نیچے آ کر دور دور تک پھیل گیا تھا۔ اس کی رفتار بھی بہت زیادہ تھی۔ ہوا میں ایک شور تھا جو پا نی کے بہاؤ اور پتھروں کے ٹکراؤسے پیدا ہورہا تھا۔(جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -