کچھ دنوں بعد سعودیوں کو احساس ہو گیا کہ سب اچھا نہیں چل رہا، ایک روز میں دفتر میں بیٹھا امریکہ سے آئے کلیم دیکھ رہاتھا تو ایک ایک دم چونکا

کچھ دنوں بعد سعودیوں کو احساس ہو گیا کہ سب اچھا نہیں چل رہا، ایک روز میں دفتر ...
کچھ دنوں بعد سعودیوں کو احساس ہو گیا کہ سب اچھا نہیں چل رہا، ایک روز میں دفتر میں بیٹھا امریکہ سے آئے کلیم دیکھ رہاتھا تو ایک ایک دم چونکا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:279
ایسے ہی، ایک روز جب میں دفتر میں بیٹھا امریکا سے آئے ہوئے کچھ کلیم دیکھ رہاتھا تو ایک بل کو دیکھ کر میں ایک دم چونکا، اس میں ہسپتال سے ایک پاؤنڈ (نصف کلو) جھینگے کی قیمت 80 ڈالر طلب کی گئی تھی کمیشن اس کے علاوہ تھا۔ جبکہ وہی جھینگے ریاض کی ہر سپر مارکیٹ میں 40 ریال (تقریباً 10 ڈالر) کے ایک کلو با آسانی مل جاتے تھے۔ میں نے یونہی وہاں اپنی ایک ماتحت امریکی خاتون کو بلا کر کہا کہ ذرا چیک کرلیں کہ ان کی اتنی زیادہ قیمت کیوں لگی ہے کہیں کوئی غلطی تو نہیں ہوئی۔ وہ تو واپس نہیں آئی، ہاں 2 دن بعد مجھے کنٹرولر کی طرف سے بلاوا آگیا کہ اک ذرا میری بات سن جاؤ۔ وہ بہت اچھا انسان تھا اور میری بڑی عزت کرتا تھا۔ جب میں گیا تو وہ مجھ سے آنکھیں نہیں ملا رہا تھا، کہنے لگا ”اوپر سے حکم آیا ہے کہ تم انتظامیہ کے خلاف توہین آمیز گفتگو کرتے رہے ہو لہٰذا کیوں نہ تمہیں نوکری سے فارغ کر دیا جائے“۔ میرے پیروں تلے سے ایک دفعہ تو زمین نکل گئی اور آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا، وہ اچھا بندہ تھا اور میری قدر بھی کرتا تھا۔ پھر اس نے مجھے پریشان دیکھ کر میرے سامنے ہی اعلیٰ انتظامیہ کو فون کر کے کہہ دیا کہ ”میں نے اسے وارننگ دے دی ہے، آئندہ ایسا نہیں ہوگا“۔ مجھے کہا گیاکہ میں اپنا بڑا سا منہ بند رکھوں۔ پھر میں نے ایسا ہی کیا، جب دونوں فریق راضی تھے تو میں بیچ میں کیوں اپنے فضول قسم کے اندیشے ظاہر کرتا پھرتا۔
کچھ دنوں بعد سعودیوں کو عمومی طور پر اس بات کا احساس ہو گیا کہ سب اچھا نہیں چل رہا ہے۔ لہٰذا انھوں نے کمپنی کو کہا کہ کھانے کا انتظام ہم خود ہی مقامی طور پر کیا کریں گے، آپ زحمت نہ کریں۔ اس طرح انھوں نے ہسپتال کے کھانے کا خرچ 10 گنا کم کر لیا۔ اس وقت تک ویسے بھی مقامی مارکیٹ میں ہر چیز مل جاتی تھی۔ اور شکار کی گئی بطخوں کے سینڈوچ، دھواں لگے ہوئے گوشت اورعجیب و غریب ناموں والے سوپ یا آملیٹ سے سوائے امریکیوں اور دوسرے مغربی ملکوں کے باشندوں کے، کسی کوکوئی خاص دلچسپی بھی نہیں تھی۔
ہسپتال میں ہر مریض کے لیے علیٰحدہ سے کھانا بنتا تھا۔ کچن کے سٹاف میں شامل لڑکیاں صبح سارے ہسپتال میں پھیل جاتیں اور ہر مریض کے پاس جا کر انھیں بتاتیں کہ”ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق آپ فلاں فلاں چیزیں کھا سکتے ہیں اب آپ فرمائیں کہ ان میں سے کیا کھانا پسند کریں گے“۔ اور پھر وہیں سے نیچے کچن میں فون کر کے بتا دیا جاتا،جہاں ہر ایک مریض کے لیے علیٰحدہ سے مطلوبہ کھانے کی ٹرے بنتی اور ایک ٹرالی میں رکھ دی جاتی۔ جب اس طرح کی سات آٹھ ٹرالیاں بن جاتیں تو بجلی سے چلنے والا ایک چھوٹا سا انجن ان کو ایک ننھی سی ریل گاڑی کی طرح لے کر چل پڑتا اور پھر نمبر کے حساب سے ہر وارڈ میں متعلقہ ٹرالی چھوڑتا ہوا آگے نکل جاتا۔ نرسیں فوراً ہی ٹرالی کو کھینچ کر بجلی کے سوئچ میں لگا دیتیں تاکہ کھانا گرم رہے بعد میں کھانے کے وقت ہر مریض اور اس کے تیماردار کی ٹرے نکال کر گرم گرم کھانا ان کے کمرے میں پہنچا دیا جاتا۔
اسی طرح ہر مریض کی دوائیں بھی نسخے کے مطابق علیحدہ سے پیک ہو کر فارمیسی سے آتی تھیں جسے نرسیں اپنی موجودگی میں مریض کو کھلاتی تھیں اگر مریض کسی وجہ سے دوا نہ کھاتا تھا، تو وہ دوا نرس کے نوٹ کے ساتھ واپس فارمیسی چلی جاتی تھیں اور مریض کی فائل پر اس کا اندراج ہو جاتا تھا۔ایک ایک گولی اور کیپسول کا حساب رکھا جاتا تھا۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -