حج کے دوران دوست ملا، وہ جدہ میں ہی رہتا تھا، ایک دن منیٰ میں خوبصورت خیمے میں لے گیا جہاں پروقار شخص محفل کی جان بنا بیٹھا تھا

حج کے دوران دوست ملا، وہ جدہ میں ہی رہتا تھا، ایک دن منیٰ میں خوبصورت خیمے میں ...
حج کے دوران دوست ملا، وہ جدہ میں ہی رہتا تھا، ایک دن منیٰ میں خوبصورت خیمے میں لے گیا جہاں پروقار شخص محفل کی جان بنا بیٹھا تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:110
حج کے دوران میرے ساتھ میرا دوست شریف بھٹی بھی آن ملا تھا۔ وہ جدہ میں ہی رہتا تھا اور وہاں کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا۔ ایک دن منیٰ میں وہ مجھے اپنے ساتھ ایک خوبصورت خیمے میں لے گیا جہاں ایک پروقار شخص محفل کی جان بنا بیٹھا تھا۔ مجھ سے ان کا تعارف یہ کہہ کر کروایا گیا کہ یہ نذیر احمد چوہدری ہیں جو مکہ میں زیر تعمیر سپورٹ کمپلیکس کے پروجیکٹ مینجر تھے۔ بعد میں مجھے علم ہوا کہ انھوں نے اپنے کچھ دوستوں کے لیے حج اور اس آرام دہ رہائشی خیمے کا انتظام کیا تھا۔ اس لیے کوئی تعجب کی بات نہیں تھی اگر وہ وہاں کی مرکزی نشست سنبھالے ہوئے تھا۔ اس ملاقات کے بعد ہم آپس میں دوست بن گئے۔ اور میں جب بھی مکہ پروجیکٹ دیکھنے جاتا تو ان سے ضرور ملتا۔ یہ تعلقات لاہور واپسی پر خاندانی دوستی میں بدل گئے اور آج تک قائم ہیں۔ 
مکہ پروجیکٹ کی تکمیل کے دوران میں نے اپنی ایک اور سفری خواہش پوری کرنے کا سوچا یہ مدائن صالح کی بستی کے کھنڈرات تھے جو اللہ کے عذاب اور قہر سے تباہ ہوئی جس کی بربادی کی داستان قران شریف میں بھی رقم ہوئی ہے۔ یہاں کے رہنے والوں نے اللہ کے ارشادات کو جھٹلایا اوران کی طرف سے بھیجے گئے پیغمبر حضرت صالح ؑکی تعلیمات کی نا فرمانی کی۔ یہ اسلامی دور سے پہلے کی ایک قدیم آبادی  کے آثار تھے۔ جو پہلی صدی میں نباطی باشندوں کی ایک مملکت تھی۔ قوم ثمود یہاں 715 قبل مسیح میں آباد تھی۔ حالانکہ یہ مکہ سے کافی فاصلے پر تھی لیکں قرآن شریف میں ان کے ذکر نے میرا تجسس بڑھا دیا۔ جب میں نے وہاں جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو میرے ساتھ مکہ پروجیکٹ کے 7 اور تارکین وطن بھی جانے کا تیار ہوگئے۔ سو اس طرح ہم5 مختلف ملکوں کے 8باشندے اس سفر پر نکلے۔ یہ فاصلہ کوئی  800 کلومیٹر کا تھا۔ ہم نے اپنا پہلا پڑاؤ مدینہ منورہ میں کیا جہاں ہم نے مسجد نبوی میں نماز ادا کی اور رسول اللہﷺ  کے روضے پر حاضری بھی دی اور درود و سلام پیش کیا۔ اگلے دن ہم صبح سویرے ہی مدائن صالح کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور وہاں سے 360 کلو میٹر کا سفر 6گھنٹوں میں طے کیا۔ راستے میں ہم نے کچھ دیر کے لیے خیبر میں قیام کیا جہاں رسول اللہﷺکے زمانے میں مشہور جنگ خیبر لڑی گئی تھی۔ آگے چلتے ہوئے ہم العلیا کے چھوٹے سے قصبے میں پہنچے جو مدائین صالح کے بالکل ساتھ ہی لگتا ہوا ہے۔ جب ہم اندر داخل ہونے لگے تو وہاں ایک پولیس آفسر نے استفسار کیا کہ یہاں آپ کی یہاں آمد کا کیا مقصد ہے۔ یہ معلومات حاصل کرنے کے بعد وہ ہمیں قصبے کی طرف لے کر روانہ ہوا۔ ہم لوگ بڑے خوش تھے کہ وہ ہمیں پروٹوکول کے ساتھ لے جا رہا ہے لیکن جلد ہی ہماری یہ خوش گمانی حیرت اور صدمے میں بدل گئی جب وہ ہمیں سیدھا پولیس اسٹیشن لے گیا اور وہاں ایک کمرے میں بند کردیا۔ اسے شاید ہم پر کسی قسم کا کوئی شبہ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد 2گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد ہمیں چھوڑ دیا گیا اور ہم سیدھے مدائن صالح کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں جا کر ہمیں علم ہوا کہ یہاں آنے کے لیے حکومت کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ ہم یہاں تاخیر سے پہنچے تھے اس لیے ہم نے وہاں کے چوکیدار سے درخواست کی کہ ہمیں اند ر جانے دے۔ اس نے اس شرط پر اجازت دے دی کہ ہم غروب آفتاب تک لازمی طور پر باہر آجائیں۔ ہم نے سکھ کا سانس لیا اور اندر داخل ہوگئے۔ یہاں بہت ہی حیران کن نظارے ہمارے منتظر تھے۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -