دولت کمانے کے طریقے سیکھنے کیلئے کانفرنسوں اور سیمینارز میں عام طور پر وہی لوگ شرکت کر تے ہیں جو پہلے ہی کافی دولت مند ہوتے ہیں 

دولت کمانے کے طریقے سیکھنے کیلئے کانفرنسوں اور سیمینارز میں عام طور پر وہی ...
 دولت کمانے کے طریقے سیکھنے کیلئے کانفرنسوں اور سیمینارز میں عام طور پر وہی لوگ شرکت کر تے ہیں جو پہلے ہی کافی دولت مند ہوتے ہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:97
دوسرے ریسٹورنٹ میں ملازمائیں زیادہ عرصہ کام نہیں کرتی تھیں۔ دونوں ریسٹورنٹس میں ملازماؤں کی تنخواہیں بہت کم تھیں اور ان کا گزارا زیادہ تر گاہکوں کی طرف سے ملنے والی بخشیش پر تھا۔ دوسرے ریسٹورنٹ میں گاہک بہت کم بخشیش دیتے تھے کیونکہ یہاں کی ہر چیز نکمی اور ناکارہ تھی۔ جب لوگ کسی بھی ریسٹورنٹ کی خدمات اور کھانے سے خوش اور مطمئن نہیں ہوتے تو وہ بہت کم بخشیش دیتے ہیں یا پھر بالکل ہی نہیں دیتے۔
دریں اثناء، پہلے ریسٹورنٹ میں ملازمت کے لیے ملازمائیں انتظار میں رہتی تھی کیونکہ اس ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے ساتھ انتہائی اچھا سلوک کیا جاتا تھا، نیز بخشیش بھی بہت زیادہ ملتی تھی۔“
پھر چارلس نے یہ بتایا کہ ”اسے دوسرے ریسٹورنٹ کی نسبت پہلے ریسٹورنٹ میں بہت زیادہ کام کرنا بڑا کیوں یہاں گاہکوں کی آمد بہت زیادہ تھی۔ لیکین یہاں کام کرنے میں لطف اور مزہ بہت تھا۔ پہلے ریسٹورنٹ میں عام طور پر گاہکوں کا ہجوم ہوتا، خصوصاً پیر کو بھی، جب گاہک بہت کم کسی ریسٹورنٹ میں جاتے ہیں۔
اور پھر بعد کی داستان یہ ہے کہ دوسرا ریسٹورنٹ دیوالیہ ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اخراجات کے مقابلے میں آمدنی بہت کم تھی لیکن اصلی اور حقیقی وجہ یہ تھی کہ اس ریسٹورنٹ کی انتظامیہ قیمت لینے کو تو تیار رہتی تھی لیکن دینے کے لیے اس کے پاس کچھ نہ تھا۔
پیٹر ڈبلیو نے صدر کینیڈی سے کیا سبق سیکھا جس کے باعث اسے بھی کامیابی ملی:
صر ف 8 سال کی قلیل مدت کے دوران پیٹر ڈبلیو (Peter W) نے گھریلو استعمال کے آلات فروخت کرنے والے 16 مراکز قائم کر لیے تھے۔ پیٹر، گھریلو استعمال کے آلات کی بے شمار اقسام فروخت کرنے کے علاوہ خدمات بھی مہیا کرتا ہے۔ اس کے گاہکوں میں تھوک فروشوں کے علاوہ انفرادی صارفین بھی شامل ہیں۔
پیٹر، خوش ہونے کے علاوہ خوشحال بھی ہے۔ مختلف کاروباری تقریبات کے مواقع پر میری اس کے ساتھ ایک دودفعہ ملاقات ہوئی لیکن اس کے ساتھ تفصیلی گفتگو نہ ہوسکی۔ لیکن ایک دفعہ ”سرمایہ کاری“ کے موضوع پر منعقد ہونے والے سیمینار کے موقع پر ہم دونوں کو اکٹھا لنچ کرنے کا اتفاق ہوا۔
میں نے اس سے ازراہ مذاق پوچھا کہ ”ہر شخص کو معلوم ہے کہ تم ایک دولت مند شخص ہو تو پھر تم اس سیمینار میں کیوں شرکت کر رہے ہو۔“ میرے سوال کے جواب میں پہلے تو وہ ہنسا اور پھر کہنے لگا ”میرا خیال ہے کہ میں بھی اسی لیے یہاں موجود ہوں جس لیے تم یہاں آئے ہو، یعنی یہ سیکھنے کے لیے کہ زیادہ سے زیادہ دولت کیسے کمائی جاسکتی ہے“ (یہ الگ بات ہے کہ میں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے طریقے سیکھنے کے لیے ان کانفرنسوں اور سیمینار میں عام طور پر وہی لوگ شرکت کر تے ہیں جو پہلے ہی کافی دولت مند ہوتے ہیں۔ اور وہ جنہیں معلومات کی واقعی ضرورت ہوتی ہے، وہ اس قسم کی معلومات حاصل کرنے میں خبطی پن کا مظاہرہ کرتے ہیں)۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -