مین ہٹن میں دیواریں

مین ہٹن میں دیواریں
مین ہٹن میں دیواریں

  

دُنیا کا کوئی شخص اِس بات کا تصور نہیں کرسکتا اور سچ پوچھیں تو نیو یارک کے لوگوں نے کب سوچا تھا کہ اُن کے سب سے اچھے علاقے مین ہٹن کا نشیبی حصہ پانی میں ڈوب جائے گا،جہاں ہزاروں گاڑیاں دوڑتی تھیں،وہاں کشتیاں تیریں گی۔ مین ہٹن میں سمندر کے کنارے بیٹری پارک ہے،جہاں کتنے ہی پاکستان ڈے کے میلے ہوئے،اب وہ نظر نہیں آتا.... سینڈی نے نیویارک کو ہلا کر رکھ دیا،نیوجرسی کو لرزا دیا....سینڈی کی تباہ کاریاں ابھی جاری تھیں کہ ایک او ر مصیبت آگئی۔یہ نارتھ ایسٹرن ہوائیں ہیں جو اِس موسم میں سمندر میں چلتی ہیں، لیکن اُن کا مزاج بھی بگڑا ہوا ہے....سنتے تھے خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے،سینڈی کو دیکھ کر نارتھ ایسٹرن ہواﺅں نے بھی موقع سے فائدہ اُٹھایا، جتنا سمندر کا پانی اُچھال سکتا تھا،اُچھال دیا....انجام یہ ہوا کہ سارے نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے، انتظامیہ نے لاکھوں لوگوں کو پانی سے نکال لیا.... صدر اوباما نے خود کام کی نگرانی کی....جنگی بنیادوں پر دن رات پانی نکالنے کا کام جاری ہے اور بحالی کی کوششیں جارہی ہیں۔

سینڈی سے سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ بجلی غائب ہوگئی، مین ہٹن میں جہاں جہاں بجلی بنانے کے جنریٹر تھے، اُن میں پانی چلاگیا، جہاں ایسا نہیں ہوا، وہاں حفاظتی نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔دُنیا میں سب سے بڑی ایجاد بجلی ہے، جس کی وجہ سے زندگی کا ہر پہیہ ،ہر نظام چلتا ہے۔یہ بند ہوجائے تو زندگی میں اندھیرا چھا جاتا ہے،انتظامیہ نے اُس بجلی کمپنی سے ،جس کے جنریٹر مین ہٹن میں ہیں.... کہا ہے کہ اگلے سال کے آخر تک بارہ تیرہ فٹ اُونچی دیوارتعمیر کرے تاکہ سمندری طوفان کی صورت میں بچاﺅ ممکن ہوسکے۔یہ دیوار مین ہٹن کے ہر نشیبی علاقے میں تعمیر کی جائے گی....ایک با ت سمجھ میں نہیں آتی کہ کوئی اور طوفان سال بھر سے پہلے آگیا تو کیا ہوگا؟

 سنا ہے جب کولمبس نیو یارک پہنچا تو اُس کا مقابلہ ریڈ انڈین سے ہوا ۔اُن سے بچنے کے لئے ایک دیوار تعمیر کی گئی تھی۔ یہ اُس جگہ تعمیر کی گئی تھی جو علاقہ آج وال اسٹریٹ کہلاتا ہے....آج ریڈانڈین تو نہیں، لیکن تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے....ریڈ انڈین سے زیادہ خطرناک تباہ کن سمندری طوفان سے بچنے کے لئے آج مین ہٹن میں ایک نہیں کئی دیواریں تعمیر کی جارہی ہیں۔قدرت کا ایک نظام ہے جو بدل نہیں سکتا۔سائنس و ٹیکنالوجی کاعلم اُسے معلوم تو کرسکتا ہے، لیکن ٹال نہیں سکتا....سینڈی کے بارے میں بہت پہلے سے علم تھا، وارننگ بھی دی گئی تھی،ہر ممکن انتظام کیا گیا تھا، لیکن امریکہ جیسا طاقتور ملک، جو انسانوں کی ،قوموں کی،ملکوں کی تقدیروں کو بدلنے کا دعویٰ کرتا ہے، اپنے علاقے کے سمندر کو قابو میں نہیں کرسکا۔وہ بے آپے ہوکر نیویارک میں گھس آیا۔نیو جرسی کو پانی میں ڈبو دیا۔کتنے علاقے ایسے ہیں، جہاں ابھی تک بجلی نہیں آئی اور اِس کے بحال ہونے میں ابھی دیر ہے۔

 نیو یارک میں سینڈی کی تباہی کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ دُنیا کا ہر آدمی، چاہے وہ امریکی کیوں نہ ہو، سب کچھ ہونے کے باوجود بھی قدرت کے ہاتھوں مجبور ہے۔

امریکہ ایک دولت مند ملک ہے ۔جن لوگوں کی املاک کا نقصان ہوا، اُن کا ازالہ توہوجائے گا، لیکن جو اِس طوفان کی نذر ہوگئے وہ لوٹ کر نہیں آسکتے۔ بس یہی انسان کا المیہ ہے۔امریکی صدر باراک حسین اوباما نے بڑی ہمت سے سینڈی کا مقابلہ کیا۔اِس کی تعریف اُن کے مخالفین بھی کرتے ہیں۔اُنہیں قدرت نے امریکہ او ردُنیا کو بہتر بنانے کے لئے مزید چار سال دئیے ہیں۔اُمید ہے وہ اِس سے پورا فائدہ اُٹھائیں گے ۔جس طرح اُنہوں نے سینڈی کی تباہ کاریوں کو شکست دی ہے ،اِسی طرح دُنیا سے دہشت گردی کو مٹانے میں فعال کردار ادا کریں گے۔

امریکہ کے لوگ اِن دنوں معاشی بحران سے گزر رہے ہیں۔وہ باراک حسین اوباما کی طرف پُراُمید نظروں سے دیکھ رہے ہیں.... امریکہ کو اندرونی اور بیرونی طور پر مضبوط ہونا ہے،اپنی ساکھ کو دوبارہ قائم کرنا ہے۔ جس طرح مین ہٹن کے نشیبی علاقوں میں طوفان کو روکنے کے لئے دیواریں بنائی جارہی ہیں،اِسی طرح دُنیا سے جہالت،بے روزگاری، غربت کو روکنے کے لئے بھی دیواریں بنانی چاہئیں۔ سینڈی ایک طوفان کا نام نہیں،یہ ہر اُس طوفان کا نام ہے جو دُنیا کے کونے کونے سے ہر لمحے اُٹھتا ہے اور انسانیت کے لئے للکار بن جاتا ہے۔امریکہ دنیا کی قیادت چاہتا ہے،اِس لئے اُس پر یہ لازم ہے کہ وہ نیویارک میں آنے والے صرف ایک سینڈی کو نہیں،شام،افغانستان اور وزیرستان میں آنے والے ”سینڈی“ کو روکنے کی، اتنی ہی کوشش کرے، جتنی اُس نے نیویارک کے علاقے میں کی ہے۔      ٭

مزید :

کالم -