چوتھی الحمرا ادبی و ثقافتی کانفرنس

چوتھی الحمرا ادبی و ثقافتی کانفرنس
چوتھی الحمرا ادبی و ثقافتی کانفرنس

  

آج کا دن، یاروں کے یار، شاعرِ طرح دار اور اچھوتے کالم نگار عطاءالحق قاسمی کا دن ہے۔ وہ پچھلے تین ماہ سے جس چوتھی الحمراءعالمی ادبی و ثقافتی کانفرنس کی تیاریوں میں مصروف تھے، آج اس کا پہلا دن ہے۔ صبح دس بجے افتتاحی اجلاس منعقد ہو گا، جس کی صدارت وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کریں گے۔ افتتاحی اجلاس میں ڈاکٹر جاوید اقبال، پروفیسر فتح محمد ملک، شمیم حنفی، ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم المصری، ڈاکٹر عبدالواحد اور ڈاکٹر علی بیات ”مسلم ثقافت کا روشن چہرہ، ماضی حال اور مستقبل“ کے موضوع پر اظہارِ خیال کریں گے۔ ظاہر ہے کہ وزیراعظم بھی اس موضوع پر کچھ نہ کچھ اظہارِ خیال کریں گے۔ دعوت نامے کے مطابق، آخر میں الحمراءآرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد علی بلوچ کلماتِ تشکر ادا کریں گے، جبکہ میرا خیال کچھ اور ہے۔ محمد علی بلوچ، افتتاحی اجلاس کے اختتام پر نہیں، بلکہ کانفرنس کے آخری دن، اپنے رب کے سامنے سجدہ¿ شُکر بجا لائیں گے، کیونکہ اتنی بڑی کانفرنس، جس میں ملک بھر کے نامور دانشوروں، کالم نگاروں، شاعروں، ادیبوں، محققوں اور نقادوں کے علاوہ بھارت، ایران، مصر، برطانیہ، جرمنی اور بنگلہ دیش سے مندوبین الحمرا کی دعوت پر پاکستان آ رہے ہیں،کا خیر و خوبی سے اختتام ہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہو گی۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کی تو خیر ہے، لیکن پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف بھی کا نفرنس کے ایک سیشن میں شریک ہونے والے ہیں۔ دُنیا جانتی ہے اُن کے مزاج کو اگر خدانخواستہ کا نفرنس کی ”دیگ“ میں ذرا سا نمک بھی کم رہ گیا تو وہ سب سے پہلے ہمارے بلوچ صاحب ہی کی طرف اپنی ”چشم ِ التفات“ اٹھائیں گے، لیکن مَیں یہ بھی جانتا ہوں کہ عطاءالحق قاسمی کی سربراہی اور رہنمائی میں انہوں نے وہ سارے داﺅ پیچ سیکھ لئے ہیں، جو سفینے کو منزل تک لے جانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں نے اپنی بات کا وزن بڑھانے کے لئے پچھلے چند برسوں میں ایک نیا گُر تلاش کر لیا ہے۔ کسی کو چھینک بھی آ جائے، تو ان کا سب سے پہلا تبصرہ یہ ہوتا ہے کہ ”چھینک کی ٹائمنگ پر غور کرنے کی ضرورت ہے“۔ چنانچہ مَیں نے الحمرا کی چوتھی عالمی ادبی اور ثقافتی کانفرنس کی ٹائمنگ پر غور کرنا شروع کیا تو کھلا کہ وطن عزیز کے معروضی حالات میں اس کانفرنس کا انعقاد بہت اہم اور جرا¿ت مندانہ اقدام ہے۔ دہشت گردی اور ڈرون حملوں نے عالمی سطح پر ہماری رسوائی کا سامان کر رکھا ہے۔ خود کش حملوں نے امن و امان کی صفیں لپیٹ دی ہیں۔ کمزور معیشت نے عام آدمی کی مضبوط کمر، توڑ کر رکھ دی ہے۔ پچھلے65سال سے اس نے اپنی کمر پر ایک بارِ گراں اُٹھا رکھا ہے، لیکن لگتا ہے کہ اب یہ بوجھ اس کی سکت، برداشت اور قوت سے زیادہ ہو گیا ہے۔ فرقہ واریت کو ہَوا دینے کی اندرونی اور بیرونی کوششیں جاری ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک کانفرنس کی ٹائمنگ غلط ہو سکتی ہے ، لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں ہی مکالمے اور کشادہ دلی کی راہ ہموار کیا کرتی ہیں۔پچھلے چند برسوں میں ہماری سیاست، صحافت اور معیشت نے ہمارے ادب اور ثقافت کو نگل لیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم برداشت، تحمل، محبت، التفات، کشادہ دلی اور وسعت ِ نظر جیسی قیمتی خوبیوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ ہمارے قومی ادبی ادارے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ ان قومی ادبی اداروں کو مناسب سربراہوں کے بغیر چلایا جا رہا ہے، حتیٰ کہ اکادمی ادبیات پاکستان کی سربراہی کا تاج، ایک ایسے صاحب کے سر پر رکھا گیا ہے، جن کی کوئی ادبی اور ثقافتی شناخت ہی نہیں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، یہ ”نیک کام“ راجہ پرویز اشرف کے دور میں انجام پایا تھا۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں ادب اور ثقافت کی سرگرمی شامل تو نہیں تھی، بس عطاءالحق قاسمی نے جبراً اس کانفرنس کا اہتمام کر کے سُرخاب کا یہ پَر، موجودہ حکمرانوں کے سر کے تاج میں لگا دیا ہے۔ یہ بات پچھلے دِنوں ایک تقریب میں برسرِ عام کہی گئی کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کتابوں کی رونمائیوں میں شریک نہیں ہوتے۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ ادب و ثقافت سے دشمنی رکھتے ہیں۔ وہ اِسی الحمرا میں منعقد ہونے والی تمام ادبی و ثقافتی کانفرنسوں میں شریک ہوئے ہیں۔ نہ صرف شریک ہوئے ہیں، بلکہ ان کے انعقاد و اہتمام پر اُٹھنے والے مصارف بھی بخوشی حکومتی خزانے سے ادا کئے۔ موجودہ کانفرنس بھی یقینا پنجاب حکومت کے مالی تعاون سے منعقد ہو رہی ہے کہ اس سے ادب اور ثقافت کی جامد ندی میں ایک ارتعاش پیدا ہو گا اور اہل ِ لاہور اس کانفرنس کو تادیر یاد رکھیں گے، کیونکہ آج پاکستان ہی نہیں، بلکہ دُنیا بھر کے ادیب، شاعر اور فنکار دائیں، بائیں کے چکر سے آزاد ہو کر ادب اور ثقافت کی بات کریں گے۔آخر میں اپنی غزل کے چند شعر درج کر رہا ہوں۔ یہ اشعار مَیں نے کل رات الحمراءہال میں پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام ”بزم ِ طارق عزیز“ میں بیت بازی کے منصف کے طور پر سنائے تھے۔ پوری غزل سننا ہو تو جمعرات کو پی ٹی وی ہوم پر رات10بجے کے بعد پروگرام دیکھ لیجئے گا:ہم اہلِ درد کو پابندِ التجا نہ کروجو ناخدا بھی نہیں ہیں، انہیں خدا نہ کروجو رہزنوں سے مراسم پہ ناز کرتا ہےاُس آدمی کو تو سالارِ قافلہ نہ کروہماری پیاس، ہمارے ہی پاس رہنے دوکرم کرو، ہمیں محرومِ کربلا نہ کروجنون، اہل ِ جُنوں ہی کو زیب دیتا ہےزمانے والو! ہمیں دیکھ کر ہنسا نہ کروتمہارے سینے میں پتھر کا دل سہی ناصریہ بزمِ یار ہے، باتیں تو شاعرانہ کرو

مزید :

کالم -