” شہباز تیرے شہر میں ۔۔ “

” شہباز تیرے شہر میں ۔۔ “
 ” شہباز تیرے شہر میں ۔۔ “

  

میں نے اپنے شہر میں جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہوئے داروغہ والا چوک سے گاڑی بائیں ہاتھ موڑی تو آگے وہ علاقہ شروع ہوگیا جہاں وضو کر کے مسجد میں سجدہ کرنے والوں کا چہرہ نورانی نہیں بلکہ سیاہ ہوجاتا ہے اور یہ جادو کوئی صرف نماز پڑھنے والوں کے ساتھ تو نہیں ہوتاکسی کا کوئی پیارا وفات پاجائے تو چند گھنٹوں میں اس کے کفن کا رنگ سفید سے تبدیل ہو کے سیاہی مائل ہوجاتا ہے، وہاں گھروں کے در و دیوار بھی کالے ہیں اور گلیاں کوچے بھی۔ عورتیں آٹا گوندھ تھوڑی دیر کے لئے باہر رکھ دیں تو وہ کالا ہوجاتا ہے اور یہی حال دھلے ہوئے کپڑوں اور برتنوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے ۔

میں نے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو دیکھا، ان کے ہاتھ، پاو¿ں اورکپڑے کالک میں لتھڑے ہوئے تھے۔ میں نے انہیں جمع کر کے پوچھا کہ تمہارے ماں باپ کیا تمہیں سکول نہیں بھیجتے، کیا وجہ ہے کہ سب کے سب فیکٹریوں میں کام کرتے ہو تو بچوں نے مجھے انگریزی میں پہاڑے سنانا شروع کر دئیے۔ یہ کوئی جادو یا کسی بزرگ کی بددعا نہیں کہ شہر بھر میںسنہری دھوپ ہو اور اس علاقے میں گہرے کالے بادل چھائے رہیں۔ وجہ یہ ہے کہ میں جس علاقے میںموجود تھا وہاں تین سو کے لگ بھگ فیکٹریاں قائم ہیں۔ میں اک عام پاکستانی کے طور پر شدت سے خواہاں ہوں کہ میرے شہر اور ملک کی فیکٹریوں میں پہیہ چلتا اور چمنیوں سے دھواں نکلتا رہے۔ پچھلے پانچ سات برسوں میں جب سے بجلی کے ساتھ ساتھ گیس کا بحران شدید ہوا ہے تو یہاں سولہ، سولہ گھنٹے تک بجلی غائب رہتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے کارخانوں سے بڑی بڑی فیکٹریوں تک کے مالکان یہ افورڈ ہی نہیں کر سکتے کہ وہ جنریٹروں میں مہنگا ڈیزل ڈالتے ہوئے توانائی کی کمی پوری کریں، انہوں نے اس کا ایک متبادل طریقہ ڈھونڈا ہے،وہ توانائی کے حصول کے لئے پرانے ٹائروں کا برادہ استعمال کرتے ہیں، انہی ٹائروں کو جلانے سے وہ انتہائی گندا اور بدبودار تیل بھی حاصل کرتے ہیں، انہی پرانے بے کار ٹائروں میں سے لوہے کی تاریں بھی نکلتی ہیں جو فروخت ہو جاتی ہیں ، ٹائروں کا یہ برادہ بطور ایندھن استعمال ہوتے ہوئے کالا سیاہ، انتہائی کثیف اورمضر صحت دھواں بھی پیدا کرتا ہے اور جب یہ بیک وقت سینکڑوں فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلتا ہے تو پورے علاقے پر سیاہ بادل چھا جاتے ہیں۔ ان سیاہ بادلوںسے جلے ہوئے ٹائروں کے ذرات پورے علاقے پر بار ش کی طرح برستے اور سانسوں کے ساتھ پھیپھڑوں اور معدوں میں اتر جاتے ہیں۔ بچے گلیوں میں نہیں، اپنے گھر کے برآمدوں اور صحنوں میں بھی کھیلتے ہیں تو ان کے ہاتھ، پیر سب کالے سیاہ ہو جاتے ہیں، بچیوں کے رشتوں کے لئے آنے والے ناک منہ چڑھا کے واپسی کی راہ لیتے ہیں۔

کیا آپ یقین کریں گے کہ مجھے اس علاقے کے لوگوں کی اذیت ناک زندگی کے بارے غیر رسمی گفت گومیں وہاں کے منتخب رکن پنجاب اسمبلی وحید گل نے خود بتایا، انہوں نے کہا کہ وہ انتخابی مہم میں اس وعدے کے ساتھ نکلے تھے کہ علاقے کے لوگوں کی زندگیوں سے یہ عذاب ختم کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ فیکٹریوں کا پہیہ رکے، ان کے دروازوں پر تالے لگیں اور چمنیوں سے دھواں نکلنا بند ہوجائے۔ مگر وہ یہ ضرور چاہتے ہیں کہ یہ دھواں ناقابل استعمال ٹائروں کے برادے سے بھرا اور کالا سیاہ نہ ہو۔ان کے پاس ایک ایسے پلانٹ کا فارمولہ بھی تھا جو عمومی معیار کے ساتھ تین سے پانچ لاکھ اور بہت ہی بہترین کوالٹی میں دس لاکھ روپوںمیں تیار ہوجاتا ہے۔ تنصیب کے بعد سب سے پہلے دھواں اس میں آئے گا جہاں پانی کی پھوار کے ذریعے اس کے تمام کالے اور مضر صحت اجزاءکو کشید کر لیا جائے گا اور چمنیوں سے صاف اور سفید دھواں نکلے گا جو کسی طور بھی مضر صحت نہیں ہو گامگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ وحید گل تین سو فیکٹریاں تو ایک طرف رہیں، اپنے حلقے میں شامل پینتالیس فیکٹریوں میں بھی پوری طرح وہ پلانٹ لگوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

میں جاننا چاہا کہ رکن پنجاب اسمبلی ناکام کیوں رہے ، پتا چلا کہ یہاں محکمہ ماحولیات کا عملہ آتا ہے، فیکٹریوں والوں سے رشوت لیتا اورانہیں لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دے دیتا ہے۔ جب کبھی کوئی میڈیا ٹیم آجائے یا اہل حلقہ بے چین ہو کے سڑکوں پر نکل آئیں تو وہ عملہ پانچ، دس فیکٹریوں کو سیل کر تا اور حکام کو سب اچھا کی رپورٹ پیش کر دیتا ہے۔ دلچسپ امر تو یہ ہے کہ یہ علاقہ ان کے لئے اتنا کماو¿ پوت ہے کہ وہ وہاں پر نظر رکھتے ہیں اور ٹائروں کا برادہ استعمال کرنے والوں کے لئے جاسوس کا کام بھی رشوت کے اسی پیکج میں کرتے ہیں۔ احتجاج یا میڈیا کوریج بارے اطلاع ملتے ہی فیکٹریوں کی چمنیاں بند ہوجاتی ہیں۔ کہتے ہیںکہ ڈی سی او سجاد بھٹہ نے کچھ اس معاملے میں دلچسپی لی اورحالیہ انتخابات کے بعد سابق ڈی سی او نسیم صادق کے دباو¿ پر بھی پانچ ، سات فیکٹریوں نے پلانٹ لگا لئے مگر باقی کی صورتحال جوں کی توں ہے۔ اب رکن پنجاب اسمبلی کہتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو حل نہ کروا سکے تو مستعفی ہوجائیں گے۔ یہ عجب صورتحال ہے کہ جو بیوروکریسی انہی سرکاری کاموں سے تنخواہ لیتی ہے وہ تو کام کرنے کو تیار نہیں،مجھے یہ جان کے افسوس ہوا کہ ایک رکن اسمبلی میں یہ طاقت ہی نہیں کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور ماحولیات کے صوبائی محکمے سے کام لے سکے، اس کے لئے ضروری ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف خود اس صورتحال کا نوٹس لیں۔ یہاں مجھے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ” ان تھک محنت“ سے بھی شکایت پیدا ہوتی ہے کہ انہوں نے تمام محکموں کو براہ راست جواب دہ بنا لیا ہے۔ وہ تمام سیکرٹری ، ڈپٹی سیکرٹری اور ڈی سی اوز جو وزیراعلیٰ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں، وہ ان کی ہدایات کے بغیر تنکا توڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔

مجھے وہاں کے مکینوں نے بتایا کہ داروغہ والا سے نکلنے والی سڑک کروڑوں روپے لگا کے بنائی گئی ہے مگر وہ ٹریفک کی بجائے ٹرکوں کے ناجائز اڈوں کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ مجھے واقعی یوں لگا کہ لاہور کی ضلعی حکومت پرائمری جماعتوں میںپڑھی ہوئی کہانی کی طرح کوئی” سویا ہوا محل“ بن چکی۔ اسے کوئی شہزادہ آکر سوئی چبھوتا ہے تو وہ جاگ جاتے ہیں اور اپنا معمول کاکام کرنے لگتے ہیں اور جب تک شہزادہ نہیں آتا، سوئی نہیں چبھوتا، سوئے رہتے ہیں۔ داروغہ والا ہی کی کیا بات کروں،پورے شہر میں تجاوزات کی بھرمار ہو چکی، میں اپنے دفتر سے نکلتا اور وحدت روڈ سے اپنے گھر کی طرف جاتا ہوں۔ وحدت روڈ کے نقشہ سٹاپ سے اچھرہ اور شاہ کمال دربار کی طرف جانے والی دو سڑکیں ایک ساتھ نکلتی ہیں۔ اچھرہ بازار کی طرف جانے والی سڑک گذشتہ دورحکومت میں رکن پنجاب اسمبلی میاں محمد نعمان نے بلاشبہ کروڑوں روپوں کی خطیر رقم سے بنوائی تھی، اس کے کناروںپرٹف ٹائلز بھی لگائی گئی تھیں مگراب وہاں تجاوزات نے راستہ بند کر رکھا ہے، دوپہر ہی سے وہاں باقاعدہ پھلوں کی منڈی لگ جاتی ہے اورجہاں ریڑھی بان یہ زحمت نہیں کرتے کہ وہ سڑک چھوڑ کے کھڑے ہوں وہاں انہیں ہٹانے کی زحمت بھی کوئی نہیںکرتا، یہیں سے نکلنے والی دوسری سڑک کا حال یہ ہے کہ وہ مکمل طور گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ کی نظریں بڑی سڑکوں پر لگی ہیں مگر شہر کی بیشتر چھوٹی رابطہ سڑکیں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ یہی ضلعی حکومت شہر بھر میں ناجائز منافع خوری روکنے کی ذمہ دار ہے، اس کے ایک سو بیس مجسٹریٹ بھی اس امر کو یقینی نہیں بنا سکے کہ وہ پھلوں اور سبزیوں کو سرکاری نرخوں پر فروخت کروا سکیں۔ کبھی سستے اورماڈل بازاروں کا غلغلہ بلند کیا گیا تھا، نجانے ان کی فائلیں کہاں گئیں؟

کیا وزیراعلیٰ نوٹس لیں گے کہ اس علاقے میں ٹی بی اور کینسر کے مریضوں کی تعداد خوف ناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے اور پورے علاقے میں کوئی اچھا سرکاری ہسپتال تک موجود نہیں، وہاں کے رہنے والے ہزاروں خاندان انتہائی غریب اور پانچ پانچ مرلوں کے گھروں میں رہنے والے ہیں۔ کیا وہ اپنے ہی شہر کے بیٹے شہباز شریف سے یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہ کسی روز پھولوں سے بھرے ماڈل ٹاو¿ن اپنے گھر جانے کی بجائے جی ٹی روڈ پر آ کرداروغہ والا چوک سے اپنی گاڑی بائیں ہاتھ موڑ لیں ۔۔۔ جہاں دھوئیں کے سیاہ بادلوں میں کوئی پھول نہیں کھلتا،کوئی تتلی ،کوئی چڑیا ، کوئی شہ باز نہیں اڑتا !!!

مزید :

کالم -