بدمست ہاتھی سے مقابلہ

بدمست ہاتھی سے مقابلہ
بدمست ہاتھی سے مقابلہ

  

مَیں عمران خان کی اس بات کو تو نہیں دہراتا کہ امریکہ حکومت ِ پاکستان کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ وہ پاکستانی حکومت کو عوام کے سامنے رسوا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ اسے پاکستانی حکام کی بڑھکیں پسند نہیں آتیں اور وہ ان کے دعوﺅں کی ہوا نکالنے کے لئے ایسے کام کرتا ہے جن سے رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو جاتی ہے۔ ابھی دو روز پہلے ہی خارجہ امور کے وفاقی مشیر سرتاج عزیز نے یہ ”خوشخبری“ سنائی تھی کہ امریکہ طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملہ نہیں کرے گا۔ اس وقت جب مذاکرات کے ٹوٹے ہوئے سلسلے کو جوڑنے کے لئے بھرپور کوششیں ہو رہی ہیں، امریکہ نے ہنگو کے صوبائی علاقے میں ڈرون حملہ کر کے سارے دعوﺅں اور تاثر کو زائل کر دیا ہے۔ پہلے تو ڈرون میزائل صرف قبائلی علاقوں میں گرائے جاتے رہے ہیں۔ یہ پہلا واقعہ ہے کہ ڈرون میزائل صوبائی حکومت کی عمل داری میں آنے والے علاقوں میں گرایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے کہا ہے کہ اس امریکی ڈرون حملے نے صوبائی حکومت کو نیٹو سپلائی بند کرنے کا قانونی جواز فراہم کر دیا ہے۔

گویا اب یہ طے ہے کہ تحریک انصاف نیٹو سپلائی بند کرنے جا رہی ہے۔ اس کے لئے پشاور میں ہونے والا مظاہرہ بھی پاکستانی سیاست اور ملکی حالات پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ پہلی بار ایک صوبائی حکومت وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے برعکس امریکہ کے خلاف قدم اُٹھا رہی ہے۔ مشکلات میں گھری ہوئی نواز شریف حکومت کے لئے یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے۔ اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے وزیراعظم اور اُن کے رفقاءنے کیا حکمت ِ عملی وضع کی ہے، اس بارے میں فی الوقت تو کسی کو بھی کچھ پتہ نہیں، لیکن شاید آنے والے دِنوں میں بڑی تیزی سے اور جرا¿ت مندانہ فیصلوں کی ضرورت پیش آئے۔

پاکستان کی66سالہ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ یہاں امریکی اثرو نفوذ ہمیشہ موجود رہا ہے، مگر آج کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ امریکہ نے واقعتا پاکستان کو تسخیر کر لیا ہے، ہماری روز مرہ زندگی کے فیصلوں تک میں اُس کی دخل اندازی کے آثار واضح ہونے لگے ہیں۔ امریکہ اور اُس کے زیر اثر اڈے پاکستان میں اپنی مرضی کے فیصلے چاہتے ہیں اور اُس میں کامیاب بھی رہتے ہیں۔ پچھلے دِنوں تو یہ تک سامنے آ گیا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران رکاوٹوں کے ضمن میں چیف جسٹس کا حوالہ بھی آیا، جس پر اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے برہمی کا اظہار بھی کیا۔ اس قدر بڑھتے ہوئے اثرو نفوذ کی موجودگی میں جب کوئی یہ توقع ر کھتا ہے کہ حکومت امریکیوں کو صاف صاف انکار کر دے اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لئے نیٹو سپلائی کی بندش یا ڈرون طیارے گرانے کی پالیسی اختیار کرے، تو اُس کی معصومیت پر ترس آتا ہے۔ امریکیوں نے پاکستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے بہت کام کیا ہے، ہر قسم کے حربے اور ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں۔

ریمنڈ ڈیوس جیسے سی آئی اے کرداروں کو گلی محلوں تک پھیلا دیا ہے۔ گزشتہ دنوں سینیٹر اعظم ہوتی نے یہ انکشاف کیا تھا کہ اسفندر یار ولی نے امریکی مفادات کے لئے کروڑوں ڈالر وصول کئے۔ اب یہ خبریں اور افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ کی طرف سے تحریک انصاف کو بھی کروڑوں ڈالر دیئے گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اس حوالے سے خاصے رطب اللسان ہیں، تحریک انصاف کی طرف سے اسے گھٹیا پروپیگنڈا قرار دیا جا رہاہے، مگر ان سب باتوں سے ایک حقیقت تو واضح ہوئی ہے کہ پاکستان اب صحیح معنوں میں امریکی کالونی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ممکن ہے بہت سے لوگوں کو میری یہ بات بُری لگے، لیکن حقیقت سے نظریں چرانا اب ممکن نہیں رہا۔

امریکہ کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی ہمیشہ کلیدی اہمیت رہی ہے۔ یہ آج کی بات نہیں، جتنا بھی پیچھے چلے جائیں، امریکہ ہی ہماری قومی سرگرمیوں کا مرکز اور محور نظر آئے گا۔ اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اس میں سرا سر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا قصور ہے، تو یہ آدھا سچ ہے، پورا سچ یہ ہے کہ امریکیوں نے پاکستان کو زیر دام لانے کے لئے بہت محنت کی ہے، کسی ملک کو اپنا غلام بنا لینا آسان نہیں ہوتا اور غلام بھی ایسا کہ جو کچھ مانگتا بھی نہ ہو اور جس کے حکمران صرف اپنی حکومتیں بچانے کے لئے امریکہ کی جی حضوری کرتے رہے ہوں۔ خطے کے حالات کو پاکستان کے لئے مشکل بنا کر امریکہ نے ایک ایسا جال بُنا ہے ، جس میں ہم پھنس کر رہ گئے ہیں۔ پہلے ہمیں روس کے خلاف استعمال کیا اور ہماری سرزمین کو اُن مجاہدین کی آماج گاہ بنا دیا ، جو آج امریکہ کے لئے دہشت گرد ہیں اور جن پر ڈرون حملے واجب ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف بھارت سے ہماری کشیدگی کو ہوا دے کر حالت ِ جنگ میں مبتلا رکھا۔ افغانستان میں دخل اندازی کے بعد امریکہ نے پاکستان کو چاروں طرف سے دشمنوں کے گھیرے میں لا کھڑا کیا۔ آج ہماری سرحدیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں، ایک طرف دہشت گرد نہیں رکتے اور دوسری طرف بھارت سرحدی خلاف ورزیوں سے باز نہیں آتا۔

 کبھی کسی نے غور کیا کہ بھارت ایسے مواقع پر ہی سرحدی جھڑپیں کیوں شروع کرتا ہے، جب امریکہ یا آئی ایم ایف نے ہم سے کوئی بات یا مطالبہ منوانا ہوتا ہے۔ اگر کسی کو شک ہے کہ اِن دونوں میں کوئی تعلق نہیں تو پھر وہ اس بات کا جواز فراہم کرے کہ سرحدی خلاف ورزیوں کی اچانک لہر کا مقصد کیا ہوتا ہے اور چند دِنوں بعد وہ خودبخود ختم کیسے ہو جاتی ہے؟ امریکہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، اپنی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ملک میں پھیلے ہوئے اپنے این جی اوز کے جال سے اب بہت دور تک سرایت کر چکا ہے۔” ڈالر پھینک تماشا دیکھ“ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے امریکیوں نے پاکستان کو صحیح معنوں میں اپنی نو آبادی بنا لیا ہے۔ یہ ہے تو ہمارے لئے شرم کی بات، مگر حقیقت ہی ہے۔ ایسے میں کیا یہ ممکن ہے کہ ہماری قیادت پاکستان کو درپیش مسائل سے نکالنے کے لئے آزادانہ فیصلے کر سکے؟

ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے ہماری ریٹنگ امریکہ کی نظر میں شمالی کوریا، شام اور ایران سے بھی کم ہے۔ یہ تینوں ممالک امریکہ کو آنکھیں دکھا چکے ہیں اور امریکیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور بھی کر چکے ہیں۔ اِن تینوں ممالک کے مقابلے میں پاکستان رقبے، آبادی، فوج اور ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے ایک بڑا ملک ہے، لیکن امریکہ ہمیں ایک بچے کی طرح ٹریٹ کرتا ہے، جس طرح بچے کے کوئی حقوق نہیں ہوتے اور بڑے ہی اُس کے بارے میں ہر فیصلہ کرتے ہیں، اُسی طرح امریکہ بھی ہمارے فیصلے کرتا ہے۔ امریکی سفیر کہنے کو سفیر ہے، حقیقتاً اُس کی حیثیت ایک وائسرائے کی ہے۔ حیرت اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم نے امریکی غلامی کو بغیر کسی مفاد یا قومی معاملات میں بہتری کے قبول کر رکھا ہے۔ دُنیا میں جہاں جہاں امریکہ نے اپنے مفاد کے لئے ڈیل کی ہے یا اڈے بنائے ہیں، اُن ممالک نے بدلے میں بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ تعلیم، معیشت، صنعتی ترقی اور اسلحے کے ضمن میں امریکیوں کو انہیں بہت کچھ دینا پڑا ہے۔

آپ قطر کی مثال ہی لیجئے۔ جہاں دُنیا میں امریکہ کا سب سے بڑا اڈا موجود ہے۔قطر جو ایک چھوٹا سا ملک ہے، آج وسائل اور ترقی کے لحاظ سے دنیا میں آگے جا رہا ہے۔ تمام بڑی امریکی یونیورسٹیوں کے کیمپس وہاں قائم ہو چکے ہیں۔ جدید صنعتیں لگ رہی ہیں۔ چھوٹا سا ملک ہونے کے باوجود امریکی حمایت سے اسے 2022ء کا ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ مل گیا ہے۔اس کی شاندار ترقی دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہم نے امریکیوں سے پچھلے 66سال میں کیسی ڈیل کر رکھی ہے۔ہم نے اسے اڈے دیئے اور بدلے میں دہشت گردی اور لاشیں وصول کیں۔ ہمارے ہاں انرجی کا شدید ترین بحران ہے اور ہم امریکہ سے اس معاملے میں ایک لٹر پٹرول تک فری حاصل نہیں کر سکتے۔اُلٹا وہ ہمیں ایران سے گیس پائپ لائن منصوبہ ختم کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ جب ہمارے حکمرانوں نے امریکیوں سے صرف اپنے ذاتی مفادات وابستہ کرلئے تو امریکیوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ ہمارے قومی مفادات یا ضرورتوں کی فکر کریں، کروڑوں ڈالر امریکی امداد آتی ہے اور پتہ نہیں چلتا کہاں چلی جاتی ہے، قوم اسے امدادسمجھتی ہے ، حالانکہ وہ امریکیوں کی طرف سے ہمارے حاکمان ِ وقت کو دی گئی رشوت ہوتی ہے، تاکہ وہ ان کے مفادات کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔

پچھلے 66سال سے ہمیں ترنوالہ سمجھنے والے امریکی کیا تحریک انصاف کے دھرنے اور نیٹو سپلائی روکنے کے فیصلے سے راہ راست پر آ جائیں گے؟کیا سانپ کا راستہ روکیں تو وہ واپس چلا جاتا ہے یا پلٹ کر وار کرتا ہے؟ مَیں تو خاصا ڈرا ہوا ہوں۔دنیا پر قبضے کے لئے نائن الیون کا ڈرامہ رچانے والے امریکی پاکستان پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے کچھ بھی کرا سکتے ہیں۔ خود عمران خان کی جان کو بھی خطرہ ہے، بہت مشکل گھڑی ہے۔ افسوس کہ اس موقعہ پر قومی قیادت متحرک نظر نہیں آ رہی۔ حالات کو ان کے دھارے پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ دھارے کا رُخ موڑنے کے لئے جو کوششیں کی جانی چاہئیں، ان کا فقدان نظر آتا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ پشاور کا مظاہرہ ثابت کرے گاکہ غیرت مند قوم کیا ہوتی ہے، لیکن مَیں سوچ رہا ہوں کہ امریکہ پاکستانی قوم کی غیرت کو ڈالروں سے خریدنے کا دعویدار ہے، اس بار اگر اس کا یہ حربہ کامیاب نہ ہوا تو وہ ایک بدمست ہاتھی کی طرح کوئی دوسرا تباہ کن راستہ بھی اختیار کر سکتا ہے، کیا ہم نے اس سے بچنے کی کوئی تدبیر بھی سوچ رکھی ہے؟  ٭

مزید :

کالم -