قوم نیٹو سپلائی بندش کی حمایت کرے گی

قوم نیٹو سپلائی بندش کی حمایت کرے گی
قوم نیٹو سپلائی بندش کی حمایت کرے گی

  

گزشتہ روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کومشیر خا رجہ سرتا ج عزیز کی امریکہ کے ڈرون حملہ نہ کرنے بارے یقین دھا نی کے باوجود24 گھنٹے کے اندر خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل کے ایک مدر سے پر ڈرون حملے میں 2 اساتذہ اور7 طالب علم جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ حملے میں مدرسہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ یوں امریکہ نے حملہ کر کے مشیر خارجہ کے بیان کی نہ صر ف قلعی کھو ل دی ،بلکہ ڈرون حملوں کا دائرہ کار صوبہ خیبر پختونخوا تک بڑھا دیا،جس سے یہ وا ضح ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان کے سا تھ ڈبل گیم کھیل رہا ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ حملہ حقانی گروپ کو ختم کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج حقانی مدرسے میں تھے، ڈرون حملے کا اصل ٹارگٹ جلال الدین حقانی کے بھائی اور بیٹے تھے۔ جلال الدین حقانی کے بھائی حاجی خلیل حقانی نے مدرسے میں آنا تھا۔ ڈرون حملے سے چند گھنٹے قبل سراج حقانی مدرسے میں موجود تھے، لیکن وہ ہنگو سے روانہ ہو چکے تھے۔

 چند روز پہلے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا تھا کہ جب تک ڈرون حملے نہیں رکیں گے، اس وقت تک طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھے گا۔ امریکہ کی طرف سے کئے جانے والے ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ نے اپنے ملک اور عوام کے تحفظ کے نام پر ڈرون حملے برقرار رکھنے کی پالیسی طے کی ہے، جس میں وہ دنیا بھر کے دباﺅ کے باوجود کسی قسم کی نرمی یا نظرثانی کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا، چنانچہ عین اس وقت جب حکومت پاکستان کی کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی راہ ہموار ہو گئی تھی، امریکہ نے اپنی پالیسی کے عین مطابق ڈرون حملہ کر کے حکیم اللہ محسود کو اس کے ساتھیوں سمیت قتل کر دیا۔ اس ڈرون حملے سے نہ صرف طالبان کے ساتھ مذاکرات کی فضا سبوتاژ ہوئی،بلکہ مولوی فضل اللہ کے کالعدم تحریک طالبان کے نئے امیر بننے سے آئندہ کے لئے مذاکرات کے دروازے بھی عملاً بند ہو گئے۔

مذہبی اور سیاسی رہنماﺅں نے ہنگو میں ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ امیر جماعت اسلامی منور حسن نے کہا ہے کہ جب سے وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں خطاب میں ڈرون حملوں میں صرف انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی ہلاکت کا بیان دیا ہے، امریکہ کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔ اب امریکہ قبائلی علاقوں سے آگے بڑھ کر ہمارے شہروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ حکومت جب تک مجرمانہ خاموشی نہیں توڑے گی اور امریکہ کو سخت پیغام نہیں دے گی تو امریکی ڈرون پورے ملک میں شہریوں کو نشانہ بناتے رہیں گے۔ اگر امریکہ حملے روکنے پر تیار نہیں ہوتا تو نیٹو سپلائی روک دے، پوری قوم حکومت کے اس اقدام کی حمایت کرے گی۔ آج ہنگو پر ڈرون حملہ ہوا ہے تو کل اسلام آباد پر بھی ڈرون طیارے سے میزائل فائر ہو سکتے ہیں۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ۔ اب یقین دہانیوں سے کام نہیں چلے گا۔ امن و امان کے قیام کے لئے ڈرون حملے روکنا انتہائی ضروری ہے۔ ڈرون حملوںکا معاملہ انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ حکومت جرا¿ت مندانہ فیصلے کرے گی تو پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہو گی۔ ڈرون گرائے جائیں اور نیٹو سپلائی بند کی جائے۔ ڈرون حملوں کے ذریعے امریکہ پاکستان سے اپنی شکست کا انتقام لینا چاہتا ہے۔ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی نے کہا ہے کہ ڈرون حملے میں بے گناہ معصوم طلبہ شہید کئے گئے ہیں۔ ڈرون حملوں سے دہشت گردی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ ہنگو کے مدرسے پر ڈرون حملہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ امریکی ڈرون حملے رکنے کے بجائے بڑھ گئے ہیں۔ حالیہ ڈرون حملہ ہنگو میں نہیں، سرتاج عزیز پر ہوا ہے۔ ڈرون حملے نہ ہونے کے حکومتی اعلان کے فوراً بعد ڈرون حملہ ہوگیا، جن سے مذاکرات ہونے ہیں، اب وہ کیسے یقین کریں گے؟ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے خیبر پختونخوا کی سرزمین پر ڈرون حملہ کیا، جس کے بعد ہمیں نیٹو سپلائی بند کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ صوبائی حکومت سرکاری طور پر نیٹو سپلائی بند کرنے کا فیصلہ کرے گی اور جب تک امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں کی مکمل بندش کا اعلان نہیں کر دیا جاتا، نیٹو سپلائی نہیں کھولی جانی چاہئے۔

ڈرون حملہ نہ کرنے کی امریکی یقین دہانی کے ساتھ ہی وزیرستان میں ڈرون حملے سرتاج عزیز اور پوری حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔یہ دنیا کا سب سے بڑا مذاق ہے کہ ہمارا دوست ملک ہمارے ہی ملک مےں بمباری کر رہا ہے اور حکومت غلاموں کی طرح خاموشی سے اپنی پولیس، فوج اور عوام کو مروا رہی ہے۔ امریکہ نے اس بار قبائلی علاقے مےں نہیں،بلکہ بندوبستی علاقے ہنگو مےں حملہ کیا ۔ پہلے تو حکومت کہتی تھی کہ قبائلی علاقے مےں رٹ نہیں، مگر یہ حملہ پاکستان کی اپنی سرزمین پر ہوا ہے، جس مےں بے گناہ پاکستانی لقمہ ¿ اجل بنے ہےں۔

 ڈرون حملے کی موجودہ امریکی کارروائی کے بعد حکومت پاکستان کی کیا پوزیشن رہ گئی ہے۔ اس کا اب سرتاج عزیز ہی نہیں، وزیراعظم اور ان کی کابینہ کو بھی بخوبی اندازہ ہو جانا چاہئے، اس لئے اب دفتر خارجہ کے محض اس رسمی بیان سے ملکی اور قومی مفادات اور عوام کے جذبات کی ترجمانی نہیں ہو سکتی کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی پر حملوں کے مترادف ہیں۔ ڈرون حملوں کے ذریعے فی الواقع پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی پر زد پڑ رہی ہے، جس کا سدباب ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر امریکہ نے اپنے ملک اور عوام کی سلامتی کی خاطر ڈرون حملوں کی پالیسی اختیار کی ہے تو پاکستان کو اپنے ملک اور عوام کی سلامتی کی خاطر یہ حملے روکنے کا کیوں حق حاصل نہیں۔ اس تناظر میں تو قومی اتفاق رائے کے تحت نیٹو سپلائی روکنے کا فیصلہ کر کے ہی امریکہ کو سخت پیغام دیا جا سکتا ہے۔  ٭

مزید :

کالم -