حقوق العباد اور ہم

حقوق العباد اور ہم
حقوق العباد اور ہم

  

ہم بہت دور کی کوڑی نہیں لائے ،بڑی عام سی بات ہے کہ مارکیٹ میں آگ لگی ہوئی ہے،ہر چیز کا ریٹ آسمان سے باتیں کر رہا ہے،راتوں رات مختلف اشیاءکی قیمتیں یوں بڑھ رہی ہیں، جیسے شیطان کی آنت بڑھتی ہے۔جیسے مہنگائی راتوں رات بچے دیتی جا رہی ہے،کوئی پوچھنے والا،روکنے ٹوکنے والا نہیں۔،عوام کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت کو چونکہ تاجر اور صنعتکار سپورٹ کرتے ہیں، اس لئے موجودہ حکومت کاروباری طبقے کے عیش کروا رہی ہے اور انہیں فری ہینڈ دیا ہوا ہے۔یقینا یہ بہت سنگین الزام ہے،اس سے عوام میں حکومت کا وقار مجروح ہونے کا خدشہ ہی نہیں، بلکہ یقین سے ایسا ہونے والا ہے۔حکومت نے یقینا اس خدشے کو بھانپا ہے اور لوٹ مار کرنے والے تاجروں ، صنعتکاروں کو نکیل ڈالنے کے لئے پرائس کنٹرول اور مارکیٹ کمیٹیوں کے نظام کو بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے،انسانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا معاملہ ہے،بے شک عوام کو لوٹ مار سے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔عوام کے حقوق کا خیال رکھنا ،جان و مال کا تحفظ کرنا ،عزت و آبرو کا خیال رکھنا اور عزت نفس کا خیال رکھنا،سب حکومت کا اولین فرض ہے،اس فرض سے غفلت انسانی اخلاقی اور مذہبی سطح پر نا قابل معافی جرم ہے۔مسلم لیگ (ن)کی حکومت میں لاکھ خامیاں ہوں گی، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جہاں ایکشن لینا ہوتا ہے وہاں یہ حکومت اپنے فرض سے غافل نہیں ہوتی ،شائد اسی خوبی کی بدولت میاں نواز شریف کو تیسری بار حکومت ملی ہے اور شائد آگے چل کر یہ حکومت کوئی ایسا کرشمہ کرنے والی ہے جو عوام کی فلاح وبہبود کے لئے لازوال کارنامہ ہو،شائد ایسے ہی کسی کرشمے کی آس میں پاکستانی عوام نے دل کھول کر مسلم لیگ گو ووٹ دیا ہے،مگر عوام کی خواہشات کی تکمیل کی گھڑیاں کتنی طویل ہیں،اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

خیر چھوڑئیے!حکومت کو اپنا کام کرنے دیجئے،عوام کو کب تک لٹیرے تاجروں ،صنعتکاروں کے ہاتھوں لٹنا ہے اس بحث سے نکل آئیے ! حقوق العباد کا ذکر چھڑا ہے تو ہمارے ایک فیس بک فرینڈ کی بابت سنئے! یہ مسعود صاحب ہیں ،حقوق العباد کے نام سے انہوں نے ایک تنظیم بنائی ہے،ان کا کہنا ہے کہ ہم نجانے کن غفلتوں میں کھوئے ہیں ،اپنی اصل ذمہ داری نبھانے کی بجائے عجب طرح کے پاپڑ بیلنے میں لگے ہوئے ہیں ،اسلام تو درس ہی حقوق العباد کا دیتا ہے ،رب تعالیٰ نے صاف صاف کہا ہے کہ حقوق اللہ تو مَیں معاف کر دوں گا،حقوق العباد میں کسی طرح کی معافی نہیں ملے گی۔ہمارے اس فیس بک فرینڈ کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم ”حقوق العباد پاکستان“ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں حق دار وںکی آواز کو اتنا بلند کر دیا جائے گا کہ فرض ادا کرنے والوں کو ان کی آواز صاف سنائی دے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق نہیں ملتا،مظلوم کی آواز کوئی نہیں سنتا،بلکہ اس کی آواز کو سننے سے پہلے ہی دبا دیا جاتا ہے،اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوتا،ساتھ کھڑے ہونے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے اداراے کا مقصد ہی یہی ہے کہ فرض ادا کرنے والے اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کرکے حق داروں سے دعائیں لیں۔

 مسعود صاحب کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی تنظیم کے دیگر ارکان 24گھنٹے عوام کی خدمت کے لئے حاضر ہیں ،عوام آئیں ،سرکاری،نیم سرکاری اور نجی سیکٹر میں پھنسے ہوئے اپنے مسائل سے ہمیں آگاہ کریں ،ہم حکام بالا تک جائیں گے اور ان کے مسائل حل کرائیں گے،ہم ہر سطح پر عوام کے لئے آواز اٹھائیں گے اور جب تک حق داروں کو ان کا حق نہیں ملے گا ،خود سوئیں گے ، نہ ہی فرض ادا کرنے والوں کو سونے دیںگے۔وہ کہتے ہیں کہ یوٹیلٹی بلز کا معاملہ ہو،عدالت یا پولیس کا معاملہ ہو،محکمہ تعلیم کا معاملہ ہو،محکمہ صحت ہو،ہسپتالوں کے مسائل ہوں، ٹیکس، ٹرانسپورٹ،سوشل پرابلمز یا امیگریشن کے معاملات ہوں، ہم اور ہمارے ساتھی عوام کی خدمت کے لئے فی سبیل اللہ حاضر رہتے ہیں،تب تک آرام سے نہیں بیٹھتے جب تک غریبوں اور حق داروں کے حقوق انہیں مل نہیں جاتے، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ حق وہ ہے جو، ادا ہو، اور انسان وہی ہے جو حقوق اور فرائض کی ادائیگی کو نیکی یا عبادت ہی نہیں، اپنی زندگی کا اولین مقصد سمجھے۔

قارئین ! کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے کے بگاڑ کی اصل وجہ حقوق العباد میں کوتاہی ہے،ہم نے اپنے معاشرے کو جنگل بنا دیا ہے،ہر کوئی دوسرے کے حق پر قبضہ کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے،آگے بڑھنے کے چکر میں دوسروں کو روندتا چلا جاتا ہے،نام نہاد ترقی کی خواہش میں ہوس اور لالچ کی ہر حد کو پھلانگتا جاتا ہے،دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اس روش نے ہمیں اپنوں اور غیروں میں نادم و رسوا کردیا ہے، مگر ہم نے بھی شرمندگی میں ایسی پی ایچ ڈی کر رکھی ہے کہ ندامت نامی کسی بھی چیز کو اپنے قریب پھٹکنے تک نہیں دیتے ،الٹا اپنے کئے پر اتراتے ہیں اور ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ اس ڈاکہ زنی کا سلسلہ جاری و ساری رکھیں گے۔کوئی شک نہیں کہ ایسے میں غریبوں ، لاوارثوں اور کمزور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ،یقینا ان حالات میں اکیلے مسعود صاحب یا ان کے چند ساتھیوں کو ہی نہیں، بہت سے صاحب طاقت و صاحب ثروت افراد کو آگے بڑھنے اور کمزوروں کے آنسو پونچھنے کی ضرورت ہے۔

ہم جس ڈھٹائی سے محلے کی سطح سے لے کر اور رشتہ داریوں سے لے کر گاﺅں ،شہر اور پھر ملکی سطح پر دوسروں کو اپنے لالچ ،ہوس اور اندھی طاقت یا غنڈہ گردی کا نشانہ بناتے ہیں، بالکل ایسے ہی جرات مندوں اور درد دل رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو اتنی ہی طاقت سے بھیڑیوں کے ہاتھ روکیں اور غریب عوام کو ان کے منحوس جبڑوں سے آزاد کرائیں۔ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے فیس بک فرینڈ کی تنظیم ”حقوق العبادپاکستان“اس سلسلے میں کتنا کام کر چکی ہے،کتنا سفر طے کر چکی ہے، مگرہماری دعا ضرور ہے کہ رب تعالیٰ ان کی عزت،وقار، جرات اور طاقت میں بے بہا اضافہ کرے،بہت سے لوگ ان کے اس کارِخیر میں ان کا ہاتھ بٹائیں اورمعاشرے میں ایسی خوشگوار تبدیلی آئے کہ ہم کسی سے لڑے جھگڑے بغیر غریبوں، لاوارثوں، ضرورت مندو ں اورحق داروں تک ان کے حقوق پہنچائیں،بغیر کسی سے دشمنی مول لئے سب کو رب کا وہ پیغام پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں کہ وہ ذات ِپاک حقوق اللہ تو معاف کر دے گی، مگر حقوق العباد معاف نہیں کرے گی،کاش! ہم سوسائٹی کے اس روگ کو ختم کر سکیں ،کاش! اپنے تئیں اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت نہ کریں ،کاش! ہماری وجہ سے کسی کو کانٹا تک نہ چبھے،کوئی ہمیں اس آنکھ سے نہ دیکھے جس آنکھ میں ہمارے لئے حقارت،نفرت اور بد دعا ہو،کاش!! ٭

مزید :

کالم -