جذباتیت اور جوش کی بجائے ہوش سے کام لیا جائے

جذباتیت اور جوش کی بجائے ہوش سے کام لیا جائے

  

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ23نومبر کو پشاور میں دھرنے کے بعد نیٹو سپلائی بند کر دیں گے اور حکومت کے خلاف فیصلہ کن اعلان کریں گے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اس دھرنے میں شرکت کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ وزیراعظم ہوتے تو اس حملے کے بعد ڈرون طیاروں کو گرانے کا حکم دیتے۔ تحصیل ٹل کے حملہ کے بعد اب حکومت نیٹو سپلائی روکنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف خود بیان دیں اور بتائیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ وہ کھل کر سامنے آئیں اور بتائیں کہ ان حملوں کے خلاف ہیں یا پہلے حکمرانوں کی طرح دوغلی پالیسی اختیار کر رکھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ تازہ ڈرون حملے کے بعد نیٹو سپلائی بند کرنے کا قا نونی حق رکھتے ہیں ۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز کو ڈرون حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرانے کے بعد اس حملے سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکہ پاکستانی حکومت کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔ کراچی کے بھتہ خوروں اور اس حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے، غلاموں کی طرح خاموشی سے اپنی پولیس ، فوج اور عوام کو مروایا جا رہا ہے۔ حکومت نے معاملہ سلامتی کونسل میں نہ اٹھا کر توہین عدالت کی ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین نے اپنی پریس کانفرنس میں جو باتیں کہیں ، وہ پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہیں، لیکن اس وقت پاکستان جن نازک حالات سے گزر رہا ہے اور ہماری معیشت کی جو حالت ہے اور ہم اپنے حالات کو سنبھالنے کے لئے جس طرح اپنے قومی وسائل اور توانائیاں استعمال کر رہے ہیں، اس سب کچھ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جذبات سے ہٹ کر زمینی حقائق پر بھی نظر رکھیں، ایک ایک قدم اٹھاتے ہوئے سو احتیاط برتیں، لیبیا، افغانستان، سوڈان، عراق کے بعد مصر اور شام کے تجربات کو پیش نظر رکھیں، جہاں سامراجی طاقتوں نے اندرون ملک خانہ جنگی شروع کرانے کے بعد ملکوں کو کمزور کیا اور پھر ان ملکوں پر اپنی کٹھ پتلی حکومتیں ٹھونس دیں۔ مصر اور شام ابھی تک دشمن کے پھیلائے ہوئے جال کی وجہ سے خانہ جنگی کے حالات سے دوچار ہیں۔ پاکستان کی ایٹمی طاقت دشمن کی نظر میں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ ہمارے اندر دہشت گرد سرگرمیوں میں مصروف مسلح گروہوں کی دشمن کی طرف سے تربیت اور امداد کے ثبوت سامنے آتے رہے ہیں۔ جب حکومتی مشینری نے بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے 9محرم کو پورے ملک سے دہشت گردوں سے اسلحہ برآمد کر کے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا تو دشمن نے فرقہ وارانہ فسادکرانے کا انتظام کر لیا۔ اس وقت پورے ملک میں مذہبی اشتعال پھیلا کر خانہ جنگی کی صورت حال پیدا کرنے کی سرتوڑ کوششیں ہو رہی ہیں۔ ایسی ملکی فضا ہر محب وطن سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ عوام الناس کو دشمنان ملت کے ارادوں سے آگاہ کرے اور ہر شہری کو امن قائم کرنے اور ملکی بقاءو سلامتی کی جنگ میں اپنا مثبت حصہ ڈالنے پر آمادہ کرے۔ یہ گھڑی جذباتیت کے خلاف کام کرنے اور بھڑکے ہوئے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی ہے، بگڑی ہوئی صورت حال کو اور زیادہ بگاڑنے کا وقت نہیں۔ اگر گلی کوچے میں چلے جائیں عام محب وطن شہریوں سے بھی موجودہ بگاڑ کے حل کے متعلق پوچھیں تو ہر کوئی یہی مشورہ دیتا نظر آئے گا کہ موجودہ حالات میں ہر طرح کے سیاسی اجتماعات اور کسی بھی طرح کے جلوسوں اور جلسوں پر مکمل پابندی عائد کر دی جانی چاہئے تاکہ قوم مختلف قسم کے ہنگاموں اور بلووں سے بے نیاز ہوکر پوری یک سوئی کے ساتھ اپنی توجہ انسداد دہشت گردی پر مرکوز کر سکے۔ عام لوگوں میں حاکموں اور مختلف طرح کے مفادات کے لئے کام کرنے والے گروہوں اور جماعتوں سے کہیں بڑھ کر قومی درد اور قوم وملک کی بھلائی کے کاموں کا شعور موجود ہے۔

عمران خان ایک محب وطن اور آزادی پسند انسان ہیں،ان کی ذات سے عوام کی اکثریت کو دیانت داری کی امید ہے، لیکن حب الوطنی کے جذبات اور حب الوطنی کے اقدامات میں بہت فرق ہے۔ استعمار کی اندھی طاقت کو آنکھیں دکھا کر ان کی جارحیت اور دشمنی مول لینا ایک بات ہے اور ان سے احتجاج اور مذاکرات کے بعد اپنے مفادات کے تحفظ اور ان کی معاونت حاصل کرنا دوسری بات۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ ہمارے ایٹمی ہتھیار اگر ہمارا دفاع کر سکتے ہیں تو ان کی وجہ سے کسی بھی بھول کے نتیجے میں ہم پر بہت بڑی تباہی بھی نازل ہو سکتی ہے۔ ان کی موجودگی میں ہمیں اور بھی زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج اور دھرنے میں کوئی برائی نہیں، صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت بھی قائم رہنی چاہئے تاکہ یہ جماعت اپنے پروگرام کے مطابق اپنے صوبے کو مثالی صوبہ بنا کر دوسرے صوبوں کے لئے ایک مثال قائم کر سکے، لیکن جن معاملات کا تعلق قومی سلامتی اور خارجہ امور سے ہے ان کے لئے تحریک انصاف اور حکومت کا موقف ایک ہونا ضروری ہے۔ قوم کا مفاد عمران خان بھی سمجھتے ہیں اور قوم کے مفاد سے نواز شریف بھی آگاہ ہیں۔ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے، بہتر ہے کہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتوں کی مشاورت مسلسل جاری رہے اور مکمل اتفاق و اتحاد برقرار رکھا جائے۔ ڈرون حملے مسلسل ہو رہے ہیں، وفاقی حکومت کی طرف سے عالمی پلیٹ فارموں پر اس مسئلے کو اٹھایا گیا ہے، مغربی ممالک کے اندر بھی ان کے خلاف رائے عامہ ہموار ہوئی ہے، امریکی حکومت کے ساتھ اس سلسلے میں پاکستان کی طرف سے ہر ممکن انداز میں بات کی جا رہی ہے ، احتجاج ریکارڈ کرایا جارہا ہے، لیکن امریکہ ڈرون حملے بند نہیں کررہا ۔ ہم افغانستان میں کارروائیاں کرنے والے جن دہشت گردوں کے متعلق امریکہ کو یقین دہانی کراتے رہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں اور پاکستان انہیں کسی طرح سے مدد فراہم نہیں کر رہا، ان لوگوں کے پاکستان بھاگ آنے کے بعد اطلاع ملنے پر امریکہ ڈرون حملے کر رہا ہے، ان کے سلسلے میں وہ پاکستان کی اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں سمجھتا۔ پاکستان ان کے متعلق یہی موقف اختیار کر سکتا تھا کہ ایسے حملوں کے دوران دہشت گردوں سے زیادہ بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں زیادہ ہو رہی ہیں۔ یہی بات بہت سی انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں اور مغربی یونیورسٹیوں کی تحقیق کے ذریعے بھی سامنے آئی، لیکن اس کے جواب میں امریکی ذرائع نے واضح کیا کہ ان رپورٹوں میں ظاہر کی گئی عام شہریوں کی اموات کی تعدا د اصل سے بہت زیادہ ہے۔ اب امریکی ڈرون حملے زیادہ محتاط انداز میں کئے جا رہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے ساتھ عام شہریوں کا نقصان کم سے کم ہو، لیکن پاکستان کا موقف یہ ہے کہ ہماری سرحدوں کے اندر آکر اس طرح کے حملے ہماری آزادی و خود مختاری کے خلاف ہیں انہیں بند ہونا چاہئے، خاص طورپر ان حملوں کا اس صورت میں کوئی جواز نہیں، جبکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور نیٹو کا اتحادی ہے اورنیٹو کی سپلائی پاکستان کے راستے سے ہو رہی ہے،لیکن امریکی ڈرون طیارے افغانستان میں اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں کر کے پاکستان آنے والے طالبان اور دوسرے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بند کرنے کو تیار نہیں، خواہ اس کے لئے انہیں پاکستان ہی میں ان کے ٹھکانوں تک کیوں نہ پہنچنا پڑے۔

پاکستان کو اس سے انکار نہیں کہ اپنی افواج پر حملے کرنے والوں کے خلاف امریکیوں کو حملے کرنے کا حق ہے، لیکن ہمارا موقف یہ ہے کہ ایسے حملے اسی ملک میں ہونے چاہئیں،جس میں انہوں نے کارروائی کی ہے۔ اگر وہ بھاگ کر پاکستان آنا چاہتے ہیں تو انہیں اتحادی افواج کو افغانستان ہی میں روک لینا چاہئے یا پاکستانی حکومت کو بتانا چاہئے تاکہ ہم خود ان کے خلاف کارروائی کریں، اتحادیوں کا جواب یہ ہے کہ پاکستان ان کی خواہش کے مطابق دہشت گردوں کے گڑھ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کرنے کو تیار نہیں ، ان علاقوں سے طالبان کو پکڑنا اور سزا دینا پاکستانی حکومت کے بس کی بات نہیں۔ پاکستان خود اپنے علاقوں پر حملے کرنے والے طالبان کو قابو کرنے میں ناکام ہے ، جس وجہ سے امریکی اس سلسلے میں پاکستان پر انحصار نہیں کر سکتے۔اس طرح ہم اپنی کمزوریاں اور اپنا مضبوط موقف لئے پھرتے ہیں اور امریکہ اپنی طاقت اور کمزور موقف کے ساتھ ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ نہ ہم ان کی بات ماننے کو تیار ہیں نہ وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز آ رہے ہیں۔ اس مسئلے کا حل مذاکرات ہی کے ذریعے مل سکتا ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو امریکہ کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ طالبان کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کے وقت کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کے باوجود ٹل میں ڈرون حملہ ہوا، جس میں حقانی گروپ کے بعض لیڈروںسمیت8 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کا جواز یہ بتایا گیا کہ ابھی تک طالبان کے مذاکرات شروع نہیں ہوئے، لیکن جب شروع ہوں گے، تو پھر مذاکرات کے دِنوں میں ڈرون حملے نہیں ہوں گے۔ تاہم امریکہ اور اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات ہی کے ذریعے یہ حملے رکوانے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے، افغانستان میں کارروائیاں کر کے اپنے ہاں آنے والے لوگوں کو بھی اگر ہم روک سکیں تو اس سے بھی ایسے حملے رک سکتے ہیں۔ ورنہ جنگ میں تو سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے، طاقتور کا ٹھینگا ہمیشہ سر پر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں یک طرفہ طور پر غیظ و غضب کا شکار ہو کر اپنا مزید نقصان نہیں کرنا چاہئے۔ راولپنڈی کے سانحہ کے بعد مذہبی جماعتوں کے انتہاءپسند افراد بھی اشتعال انگیزی پر تلے ہوئے ہیں، اس وقت مذہب اور فرقے کے نام پر بھی ملکی صورت حال کو بگاڑنے کے لئے دشمن اربوں روپے لگا رہا ہے۔ حالات ایسے نہیں ہیں کہ عمران خان اور ان کے محب وطن ساتھی اپنے احتجاج کو بگاڑ کی طرف لے جائیں۔ اس موقع پر ایسی سیاست سے ملک و قوم کے نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ حکومت کی تمام غلط پالیسیوں پر سخت تنقید، میڈیا اور اسمبلیوں کے ذریعے احتجاج ہی ایک مناسب طریقہ ہے۔ حالات ہم سے جوش اور جذباتیت کے بجائے ہوش اور تدبر کا تقاضا کر رہے ہیں۔  ٭

مزید :

اداریہ -