ڈرون حملوں کیخلاف صوبائی حکومت کالائحہ عمل جامع اورموثر ثابت ہوگا

ڈرون حملوں کیخلاف صوبائی حکومت کالائحہ عمل جامع اورموثر ثابت ہوگا

  

                    پشاور (اظہر علی شاہ )خیبرپختونخوا کی حکومت ڈرون حملوں کیخلاف احتجاج کیلئے اپنی پارٹی سے بالکل مختلف اور الگ راستے کا تعین کر لیا ہے تحریک انصاف کے قائد عمران اور ان کے قریبی ساتھی ڈرون حملوں کیخلاف احتجاج کیلئے نیٹوسپلائی لائن کی بندش کے نعرے لگاتے رہے اور بالا آخر آج 23کی ڈیڈلائن پر عملدرآمد کرتے ہوئے پشاور میں ایک بہت بڑا جلسہ عام کررہے ہیں جبکہ ہنگو میں ڈرون حملے کے بعد صوبائی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میںفیصلہ کیا گیا کہ ڈرون حملوں کیخلاف متحدہ اورامریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہر ہ کیا جائے گا اور اس موقع پر احتجاجی مراسلے بھی حوالے کئے جائینگے اسی دوران صوبائی حکومت کے اراکین اپنے دیگر حامیوں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا دے کر اسمبلی اجلاس بھی منعقد کرینگے سیاسی معبرین کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کیخلاف عمران خان کا موقف اور لائحہ عمل سیاسی ناپختگی کا اشارہ دیتی ہے جبکہ صوبائی حکومت کالائحہ عمل ایک جامع موثر اور آئین کے مطابق ہے جس کے مثبت اثرات سامنے آنے کی توقع کی جاسکتی ہے صوبائی قیادت نے احتجاج کیلئے ایک ایسے طریقہ کار کا انتخاب کیا ہے جسکی گونج عالمی سطح پر دیر تک سنائی دی جائے گی برعکس عمران خان کالائحہ عمل نہ صرف عوام اور پاکستان کی مشکلات میں اضافے کاسبب بن سکتا ہے بلکہ اس رد عمل کے طور پر ڈرون حملے مزید بڑھ سکتے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -