حکمران ہیجان اور قوم خوف میں مبتلا!

حکمران ہیجان اور قوم خوف میں مبتلا!
حکمران ہیجان اور قوم خوف میں مبتلا!

  

سانحہ راولپنڈی کے حوالے سے جماعت اہل سنت (دیو بند مکتبہ فکر) کی طرف سے یوم احتجاج منانے کے اعلان اور اس پر اصرار نے حکومت کو ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے گفتگو اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کے بعد احتجاج کو ملتوی نہ کرا سکنے کی وجہ سے خود ہی ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ یہ احتجاج بہت ہی مﺅثر نظر آنے لگا ہے، راولپنڈی میں غیر اعلانیہ کرفیو، دوسرے اہم شہروں میں فوج کی طلبی اور مکتبہ دیو بند کے اداروں سے ملحقہ راستوں کو کنٹینر لا کر بند کر دینے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شاید یہ احتجاج کسی بڑے ہنگامے میں تبدیل ہونے والا ہے، حالانکہ جہاد کونسل اور اہل سنت والجماعت (مکتبہ دیو بند) کے اکابرین کی طرف سے مسلسل اور اصرار کے ساتھ یہ کہا گیا کہ احتجاج پُرامن ہو گا، مساجد میں جمعہ کے خطبوں میں خطیب حضرات تقریریں کریں گے اور یہاں مذمتی قرار دادیں بھی پیش کر کے منظور کرائی جائیں گی، جہاں تک مظاہروں کا تعلق ہے تو اس بارے میں یہ یقین دلایا گیا کہ دو چار شہروں میں مخصوص مقامات پر پُرامن ہوں گے۔ یوں بھی ان کابرین کی طرف سے مسلسل امن کی اپیل کی جاتی رہی۔

اطلاع یہ ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے مسلسل یہ کوشش کی گئی کہ یہ احتجاج ملتوی کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں اب تک ہونے والی گرفتاریوں اور نشان دہی والے ملزموں کو جلد گرفتار کرنے کا بھی یقین دلایا گیا، لیکن وہ حضرات احتجاج ملتوی کرنے پر رضا مند نہ ہوئے۔ البتہ شیعہ کونسل نے احتجاج ملتوی کر دیا، جبکہ سُنی اتحاد کونسل (مکتبہ فکر بریلوی) کی طرف سے جمعتہ المبارک کو یوم امن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا، اس کے ساتھ ہی دوسرے مکتبہ فکر کے احتجاج سے لاتعلقی کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ یوں ایک ہی فقہ پر یقین و اعتقاد رکھنے و الے دو مختلف الخیال طبقہ فکر نے الگ الگ راستہ اختیار کیا اور شیعہ سُنی (دیو بندی) اختلاف کے بعد مزید تفریق سامنے آ گئی اور بریلوی، دیو بندی اختلاف بھی عملی طور پر سامنے آ گیا۔ یہ کوئی اچھا تاثر نہیں ہے۔ یہاں شیعہ، سنی اختلاف کو ختم کرانے اور ہر مکتبہ فکر کو دوسرے کا خیال رکھنے پر آمادہ کرنے کی بجائے مزید تقسیم در تقسیم کر دی گئی ہے۔ یہ بہتر عمل نہیں ہے۔ یہ امر طے شدہ ہے کہ پہلے بھی بریلوی مکتبہ فکر والے حضرات کا دیو بندی مکتبہ فکر سے اختلاف رہا، حالانکہ دونوں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کے معتقد ہیں اور ان کے درمیان بھی فروعات پر ہی اختلاف ہے، لیکن یہ عملی طور پر کبھی ایسی صورت اختیار نہیں کر پایا تھا۔ اب بھی جمعیت علمائے پاکستان اور سنی تحریک حالات سے الگ تھلگ ہیں، صرف صاحبزادہ فضل کریم (مرحوم) کی جانشین سنی اتحاد کونسل نے برملا موقف اختیار کیا ہے کہ اس کونسل کی طرف سے طالبان کے خلاف فتوے بھی جاری ہوئے تھے۔

ان گزارشات کا یا تفصیل کا مقصد یہ ہے کہ یہ ایک اور خطرناک کھیل ہے اور آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ بہتر عمل یہ تھا کہ جس طرح سانحہ راولپنڈی کے بعد خود وزیراعلیٰ نے شیعہ اور سنی (دیو بندی) حضرات سے ملاقات کی اور حالات کو سدھارنے کی کوشش کی۔ اِسی طرح تمام مکاتب فکر سے بات چیت جاری رہنا چاہئے تھی اور سب کو ضابطہ اخلاق پر متفق کرنا چاہئے تھا، لیکن بدقسمتی سے وزیراعلیٰ خود نگرانی پر چلے گئے اور یہ کام رانا ثناءاللہ کے سپرد کر دیا ان کے خلاف شیعہ حضرات کی طرف سے کھلم کھلا عدم اعتماد ہو چکا اور پھر ان کو مکتبہ فکر (بریلوی) کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے۔ ان پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ دوسرے مسلک والوں کے ہمدرد اور ان کے ساتھ خصوصی مراسم رکھتے ہیں۔ رانا ثناءاللہ خود اور حکومت بھی پُرزور تردید کر چکی ہوئی ہے، لیکن جو بات مُنہ سے نکلے وہ کوٹھے چڑھ جاتی ہے۔ ہر ایک نے اس وقت سکھ کا سانس لیا جب جمعتہ المبارک گزر گیا۔

عام مفکرین کا خیال ہے کہ حکمرانوں کو اس حد تک ہیجان کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے تھا، بلکہ ان کو مناسب حفاظتی انتظامات کرنا چاہئیں تھے۔ فوج کو طلب کرنا اور کرفیو کا سماں پیدا کرنا کیا نشان دہی کرتا ہے یہ حکمران ہی بتا سکتے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف نے ڈرون حملوں کو اپنی جماعتی تشہیر اور شہرت کا ذریعہ بنا لیا۔ آج (ہفتہ) تحریک انصاف کی طرف سے نیٹو سپلائی لائن بند کرنے کے لئے دھرنا دینے کا اعلان تھا اسے ہنگو کے مدرسے پر ڈرون حملے نے زیادہ شدید احتجاج میں تبدیل کر دیا اور اب تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کی حکومت آمنے سامنے ہیں۔ یہ محاذ آرائی طالبان سے مذاکرات کی راہ میں بھی مشکل پیدا کرے گی۔ تاثر یہ اُبھرتا ہے کہ حکمران مخالف اور عمران خان حامی ہیں، ڈرون حملوں کا نیٹو سپلائی سے وہ تعلق نہیں بنتا،جو تصور کیا جا رہا ہے۔ امریکہ نے مہنگے سہی متبادل راستے سوچ رکھے ہیں۔ اس سے تعلقات خراب ہوں گے، بہتر حکمت عملی کی ضرورت ہے، جو لاٹھی اور سانپ والی ہو۔ امریکہ نے بہرحال افغانستان میں اڈے اور فوج رکھتا ہے، ہماری ضرورت ہے کہ دہشت گردی ختم ہو، قبائلی علاقوں سمیت پورے ملک میں امن ہو، ہمسایوں سے تعلقات بہتر ہوں کہ ملک کی اقتصادی اور معاشی صورت حال بہتر ہو تاکہ عوام کو سُکھ ملے۔ یہ سب اتفاق رائے اور بہتر حکمت عملی سے ممکن ہے۔ عوامی رائے عامہ امریکہ مخالف ضرور ہے، لیکن عوام میں سکت نہیں کہ وہ احتجاج کو لمبا کر سکیں یا احتجاج کی وجہ سے ان کے روٹی روزگار کو نقصان پہنچے۔ اس سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ حکمرانوں سمیت عمران خان بھی قوم کو خوف کی فضا میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اللہ کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کریں۔

مزید :

تجزیہ -