مال روڈ اور اس کے ٹھرکی کیسے ہیں ؟

مال روڈ اور اس کے ٹھرکی کیسے ہیں ؟
 مال روڈ اور اس کے ٹھرکی کیسے ہیں ؟

  

گلوبل پنڈ(محمدنوازطاہر) تھڑے کے ٹھرکی لاہوریوں ، سیاسی کارکنوں اورصحافیوں کیلئے مال روڈ کی بھی اپنی ہی کشش ہے ۔ یہ سب ایک دوسرے سے اتنے مانوس ہیں کہ چند دن کا وقفہ بھی لمبی مدت لگتی ہے ۔ علامہ اقبال ٹاﺅن سے پریس کلب تک کئی آسان اور نسبتاً صاف راستے ہیں لیکن مال روڈ کے’ عشق‘ نے کھینچ لیا ۔پھر ٹریفک نے وہی حشر کیا جو ہیر کے ساتھ کیدو اور کھیڑوں نے کیا، پنوں کے ساتھ بھائیوں نے۔ عشق ،عشق ہوتا ہے اس کے سامنے عقل و شعور کا کیا تعلق؟ چنانچہ مہنیوال تک پہنچنے کی خاطر ٹریفک اور تجاوزات کا چناب پار کرنے کیلئے سوہنی کی طرح گھڑے کی مدد لی ۔ لوئر مال تک پہنچتے محسوس کیا کہ کچا گھڑا توکھرنا شروع ہوگیا ہے ۔ ایوانِ عدل کے سامنے قائم سٹینڈ نے ٹریفک اور سڑک کے ساتھ پورا عدل کررکھا ہے کہ اس ٹوٹے پر صرف کالے کوٹ اور اس کا رنگ مزید نکھارنے والوں کے سامنے بولنے کی کسی میں مجال نہیں۔ جہاں سے پیدل گزرنا بھی محال ہے ، وہاں سڑک بھی نواز شریف کے چند روزہ ایامِ ِغربت جیسی ہے ۔موٹر سائیکل کے مڈگارڈ پر نمایاں حروف میں لکھے ’press ‘کا ایسے موقع پر ہی فائدہ ہوتا ہے ۔ ون وے موڑکاٹا ،انار کلی کاراستہ پکڑ لیا،یہاں پولیس کا ہیڈ کوارٹر ہے اسلئے رکاٹوں کے سواکچھ نہ ملا ،رستہ بدلہ تو مسلمان بچوں سے بھرے غیرمسلم سکول میں چھٹی ہوچکی تھی ، یہاں بھی وہی پوزیشن تھی جو ایسے ہی ایک تعلیمی ادارے میںچھٹی کے وقت ڈیورنڈ روڈ کی ہوتی ہے اور شملہ پہاڑی سے گڑھی شاہو کی مسافت خیبر سے کراچی جیسی بن جاتی ہے جہاں بیگمات و بچوںکی ناراضگی سے احتیاط برتتا،سرکاری گاڑیوں کیلئے راستہ بناتا ٹریفک کا اہلکار اپنی اس نوکری پر بھی ملامت کررہا ہوتا ہے ۔جیسے تیسے کرکے رسالہ بازار کی گلی کام آئی اور انارکلی فوڈ سٹریٹ میں نکل آیا لیکن یہاں سے صرف ٹھیلے اور پولیس کی گاڑی ہی مال روڈ پر چڑھ سکتی ہے ، واپس گلی میں مڑا تو ایک تاریخی ادارے کے گیٹ نے راستہ روک لیا ۔ اس کا تالا سوال کر رہا تھا کہ تم ا بھی زندہ ہو؟ میں تو ہنوط ہوں ۔ کیا تمہیں یاد نہیں کہ کبھی ادارہ نگہبان کی ایگزیکٹو کونسل کا رکن ہونے پر بھی فخر تھا کہ یہ ادارہ گھروں سے بھاگے اور بھولے بسرے بچوں کو اُن کے ورثاءتک پہنچاتا تھا اور لوگ اس کے بانی حاجی اللہ دتہ کو دعائیں دیا کرتے تھے ۔ مشرف کے فوجی دور میں ایک حکومتی ضد کی وجہ سے مجھے ’قتل‘ کرکے لاش ہنوط کردی گئی تومیرا کیا قصور ہے ، کبھی فاتحہ بھی نہیں پڑھی ؟یہاں شرمندگی میں ڈوبا جارہا تھا ۔۔۔ پیچھے سے ٹیں ٹیں نے مجھے موٹر سائیکل دھکیل کر آگے بڑھنے کا بہانہ دیدیا ۔۔۔وہاں سے واپس مڑ کر نابھہ روڈ کی جانب لپکا تو پیدل چلنا بھی دشوار تھا ، چند منٹ کا فاصلہ خواص اور عوام الناس کے تبروں ، بُڑ بُر اور چہروں کی بگڑتی شکلیں برداشت کرتا ہوا نصف گھنٹے میںعقبی گیت سے ہائیکورٹ کی عمارت میں داخل ہوا اور موٹرسائیکل سے نجات حاصل کرلی ۔یہاں بھی ٹرنر روڈ سے ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے معذرت کی اور ہائیکورٹ کے مسجد گیٹ سے فین روڈ پر آگیا ۔ سٹیٹ بینک کے ارد گرد کرنسی نوٹوں کا دھندہ کرنے والے ایجنٹوں کی دیہاڑی دار محنت کش مائیں دیکھ کر لگا جیسے ان کیلئے پاکستان ابھی بنا ہی نہیں اور وہ اس غلامی والے خطے میں رہ رہی ہیں جس کی آزادی کیلئے وہ محنت کرکے تحریکِ پاکستان چلا رہی ہیں اور بال بچوں کے آدھے پونے دن کا ٹوٹا پھوٹا اسلحہ خرید رہی ہوں ۔جانے انجانے میں اس جنگ میں اسلحے کی کمیابی کے باعث بے بس شہید ہو رہے ہیں۔زرا آگے بڑھا تو دائیںطرف سٹیٹ بینک کی عمارت دوسری عمارتوں سے اتنی اونچی کھڑی تھی جتنا پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالرکھڑا ہے ، غصے سے اس عمارت کی امارت پر دو حروف بھیجے پھر معذرت بھی کرلی کہ جب حکمران ہی اس عمارت کاقد بونا دیکھنا چاہتے ہیں تو دیواروں کا کیا قصور ہے ؟ای پلومر بلڈنگ کے سامنے بھی رکے بغیر نہ رہ سکا ،خستہ حالی کے باوجود اس کی شان سلامت ہے ۔اس کی ایک جانب عینکوں والی دکان تو دوسری طرف ماضی کے معاشرے کی بہت بڑی عینک شورش کاشمیری کا گھر بیچ میں بنئی انبان والے ریستوران اور چند غریبوں کی جنت پر نظر آنے والے دوزخ کے بورڈ پر سماج کے سارے رنگ نمایاں کرتے ہیں ۔دائیںمڑا تو پھر ایک غیر مسلم سکول سے ہنستے مسکراتے بچوں کے رش نے آگے بڑھنے سے روک لیا ،حقیقت تو یہ ہے کہ اس سارے سفر میں یہ پہلا مرحلہ تھا جب آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں ۔ماضی میں کھو گیا اور اپنی اسی عمر میں واپس چلا گیا، جب رنگ محل سے خریدا ہوا سکول بیگ میرے گاﺅں کے ساتھی بچوں نے کئی جہتوں سے دیکھ دیکھ کر پھاڑ دیا اور خالہ نے کپڑے کا تھیلہ سی کر تھمادیا تھا کہ یہ جلدی نہیں پھٹے گا،ویسے بھی ملیشیا پرسیاہی نظر نہیںآئے گی اور جلدی گندا نہیں ہوگا، ابھی کیا کیا یاد آنا تھا کہ ٹریفک وارڈن کی سیٹی نے ماضی کاسلسلہ توڑدیا ۔انجانے میں تیزی سے مڑا تو بیری کے جھنڈ نے پکڑ لیا اور دامن تار تار کردیا ۔مجھے یہ شرٹ پھٹتی بھی ایسے ہی لگی جیسے رنگ محل والا بستہ پھٹ گیا تھا ۔اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ مال روڈ کو یہیں چھوڑ دوں ،اور کل پھر مال روڈ پر آنے کی کوشش کروں ۔ ۔ ۔۔ویسے بھی عشق کی منزل کب جلدی آتی ہے جو میں سوچے ہوئے وقت کے مطابق مال روڈ پر پہنچ جاتا اگرچہ یہ بھی مال روڈ ہی تھا جہاں سے کانٹا چبھا ، بہت میٹھا درد بھرا ۔۔۔

مزید :

بلاگ -